مضمون کے اہم نکات
کھانے کے احکام
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
خوراک انسانی جسم کی ایک بنیادی ضرورت ہے، اور اس خوراک کے اثرات انسان کے اخلاق وکردار پر بھی نمایاں طور پر پڑتے ہیں۔ پاکیزہ اور عمدہ غذا انسان پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے، جبکہ گھٹیا اور حرام غذا کے برے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو پاک صاف چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے اور خبائث، یعنی حرام اور گندی چیزوں سے منع فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ كُلوا مِمّا فِى الأَرضِ حَلـٰلًا طَيِّبًا…﴿١٦٨﴾… سورة البقرة
"اے لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں تم انھیں میں سے کھاؤ(پیو۔)”
[البقرۃ:2/168۔]
نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُلوا مِن طَيِّبـٰتِ ما رَزَقنـٰكُم وَاشكُروا لِلَّهِ إِن كُنتُم إِيّاهُ تَعبُدونَ ﴿١٧٢﴾… سورة البقرة
"اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمھیں دے رکھی ہیں کھاؤ(پیو) اور اللہ کا شکر کرو،اگرتم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔”
[البقرۃ:2/172۔]
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلوا مِنَ الطَّيِّبـٰتِ وَاعمَلوا صـٰلِحًا … ﴿٥١﴾… سورة المؤمنون
"اے پیغمبرو!حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔”
[المؤمنون 23/51۔]
مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قُل مَن حَرَّمَ زينَةَ اللَّهِ الَّتى أَخرَجَ لِعِبادِهِ وَالطَّيِّبـٰتِ مِنَ الرِّزقِ …﴿٣٢﴾… سورة الاعراف
"آپ فرمادیجئے کہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے کپڑوں(زینت) کو جنھیں اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اورکھانا پینے کی حلال چیزوں کو کس نے حرام کیاہے؟”
[الاعراف 7/32۔]
① غذا (طعام) کی تعریف
غذا یا طعام سے مراد وہ تمام اشیاء ہیں جو کھانے اور پینے کے استعمال میں آتی ہیں۔
② کھانے والی اشیاء میں اصل حکم حلت ہے
کھانے کی چیزوں میں بنیادی اور اصل ضابطہ یہی ہے کہ وہ حلال ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا…﴿٢٩﴾… سورة البقرة
"(اللہ) وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے۔”
[البقرۃ:2/29۔]
اس آیت کے علاوہ بھی کتاب وسنت میں بہت سی نصوص موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خوراک میں اصل حکم ہر چیز کا حلال ہونا ہے، سوائے ان چیزوں کے جنھیں شریعت نے مستثنیٰ کرکے حرام قرار دیا ہو۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے خوراک کے باب میں پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیا ہے تاکہ بندہ ان سے حاصل ہونے والی قوت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرے، نہ کہ معصیت میں مبتلا ہو۔” پھر اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیش کیا جاتا ہے:
﴿لَيسَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ جُناحٌ فيما طَعِموا …﴿٩٣﴾… سورة المائدة
"ایسےلوگوں پر جو کہ ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھا پی چکےہوں۔”
[المائدۃ:5/93۔]
اسی وجہ سے کسی گناہ گار شخص کے ساتھ یہ تعاون کرنا جائز نہیں کہ اسے حلال خوراک مہیا کی جائے جبکہ وہ اسے کھانے کے بعد شراب نوشی کرے یا بے حیائی کا ارتکاب کرے۔ مثلاً اگر کسی شخص کو گوشت اور روٹی دی جائے اور وہ اس کے بعد شراب پئے اور فواحش میں مبتلا ہو، تو ایسا تعاون درست نہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ جو شخص پاکیزہ چیزیں کھائے لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرے، وہ مذموم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ثُمَّ لَتُسـَٔلُنَّ يَومَئِذٍ عَنِ النَّعيمِ ﴿٨﴾… سورة التكاثر
"پھر اس دن تم سے ضرور بالضرورنعمتوں کا سوال ہوگا۔”
[التکاثر 8/102۔]
اللہ تعالیٰ نے پاک صاف چیزوں کو اس لیے مباح قرار دیا ہے تاکہ لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَسـَٔلونَكَ ماذا أُحِلَّ لَهُم قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبـٰتُ… ﴿٤﴾… سورةالمائدة
"آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا کچھ حلال ہے؟آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں۔”
[المائدۃ:5/4۔]
③ حرام اشیاء وہی ہیں جن کی حرمت بیان کردی گئی ہو
اللہ تعالیٰ نے جن کھانے پینے کی چیزوں کو حرام کیا ہے، ان کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّمَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِرتُم إِلَيهِ …﴿١١٩﴾… سورة الانعام
"حالانکہ اللہ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتادی ہے جن کو اس نے تم پر حرام کیاہے مگروہ بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجائے تو حلال ہیں۔”
[الانعام:6/119۔]
لہٰذا جس چیز کی حرمت بیان نہیں کی گئی، وہ حلال شمار ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَيِّعُوهَا . وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلاَ تَنْتَهِكُوهَا وَحَدَّ حُدُوداً فَلاَ تَعْتَدُوهَاوَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوا عَنْهَا”
"اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کیے ہیں انھیں ضائع مت کرو،کچھ اشیاء حرام قراردی ہیں ان کا ارتکاب نہ کرو اوراس نے حدود متعین کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو ،کچھ اشیاء کے بارے میں بھولے بغیرخاموشی،اختیار کی ہے،ان کے بارے میں تحقیق میں نہ پڑو۔”
[السنن الکبریٰ للبیہقی 10/12 وسنن الدارقطنی4/183 حدیث 4350 واللفظ لہ۔]
④ کسی حلال چیز کو بلا دلیل حرام کہنا جائز نہیں
کھانے، پینے اور پہننے کی جن اشیاء کو اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار نہیں دیا، ان کے بارے میں حرمت کا حکم لگانا جائز نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے، ان کی تفصیل بیان فرمادی ہے۔ لہٰذا جو چیز واقعی حرام ہوگی، اس کی حرمت قرآن وحدیث میں ضرور مذکور ہوگی۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال سمجھنا جائز نہیں، اسی طرح جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سکوت اختیار فرمایا ہو اور اسے حرام نہ کیا ہو، اسے حرام کہنا بھی درست نہیں۔
⑤ حلال وحرام کھانوں کا بنیادی قاعدہ
کھانے پینے کی اشیاء میں حلال وحرام کا ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز پاک صاف ہو اور اس میں نقصان نہ ہو، وہ مباح ہے، اور جو چیز نجس ہو وہ حرام ہے۔ مثلاً مردار، خون، لید، پیشاب، نشہ آور اشیاء، حشیش(بھنگ)، اور بدبودار وگندی چیزیں وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿حُرِّمَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ…﴿٣﴾… سورة المائدة
"تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کاگوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکاراگیا ہو۔۔۔”
[المائدۃ 5/3۔]
مردار سے مراد وہ جانور ہے جس کی جان شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر نکل جائے۔ اسے اس لیے حرام کیا گیا ہے کہ وہ خبیث غذا ہے، اور اس کی حرمت شریعت کے حسن ومحاسن میں سے ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسی شدید مجبوری میں ہو کہ اس کی جان بچانے کا مسئلہ ہو، تو وہ اتنا کھا سکتا ہے جس سے اس کی زندگی باقی رہ سکے۔
خون سے مراد وہ خون ہے جو ذبح کے وقت بہتا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ جمے ہوئے خون کے ٹکڑوں کو بھون کر کھا لیتے تھے۔ لیکن جو خون ذبح کے بعد گوشت کے خلیوں یا رگوں میں باقی رہ جاتا ہے، وہ مباح ہے۔ حتیٰ کہ گوشت پکڑتے وقت ہاتھ پر یا کپڑا صاف کرتے وقت جو خون لگ جائے، وہ نجس اور حرام نہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "درست بات یہ ہے کہ ذبح کے وقت تیزی سے بہنے والا خون حرام ہے، جبکہ وہ خون جو گوشت کی رگوں میں باقی رہ جاتا ہے، وہ علماء کے نزدیک حرام نہیں۔”
[مجموع الفتاویٰ 21/522۔]
⑥ نقصان دہ اشیاء کا حکم
وہ کھانے پینے کی چیزیں بھی حلال نہیں جن میں ضرر اور نقصان پایا جائے، جیسے زہر، شراب، حشیش، سگریٹ اور تمباکو وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلا تُلقوا بِأَيديكُم إِلَى التَّهلُكَةِ…﴿١٩٥﴾… سورة البقرة
"اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔”
[البقرۃ:2/195۔]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز حرام ہے جو جسم یا عقل کو نقصان پہنچاتی ہو۔
⑦ حلال کھانے کی اقسام
حلال کھانے بنیادی طور پر دو قسم کے ہیں:
◈ حیوانات
◈ نباتات، جیسے اناج اور پھل وغیرہ
نباتات میں وہ چیزیں مباح ہیں جو نقصان دہ نہ ہوں۔
حیوانات بھی دو قسم کے ہیں:
◈ وہ جانور جو خشکی میں رہتے ہیں
◈ وہ جانور جو پانی میں رہتے ہیں
خشکی کے جانور اصل کے اعتبار سے مباح ہیں، لیکن ان کی بعض اقسام ایسی ہیں جنھیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ ان میں چند درج ذیل ہیں:
⑧ خشکی کے حرام جانوروں کی چند صورتیں
❀ 1۔ پالتو گدھا
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر الأهلية ورخص في الخيل”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کردیااور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔”
[صحیح البخاری المغازی باب غزوۃخیبر حدیث 4219۔وصحیح مسلم الصید والذبائع باب اباحۃ اکل لحم الخیل حدیث 1941 واللفظ لہ۔]
ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس مسئلے میں اہل علم کے درمیان کسی زمانے میں کوئی اختلاف نہیں رہا۔”
❀ 2۔ کچلی والے درندے
خشکی کے جانوروں میں سے وہ جانور بھی حرام ہیں جو کچلی والے اور پھاڑنے چیرنے والے درندے ہوں۔ چنانچہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیاہے۔”
[صحیح البخاری الذبائح والصید باب اکل کل ذی ناب من السباع حدیث 5530 وصحیح مسلم الصید والذبائع باب تحریم کل کل ذی ناب من السباع۔۔۔حدیث 1932 واللفظ لہ۔]
البتہ لگڑ بھگڑ کا گوشت جائز ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأكل الضبع”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لگڑ بھگڑ کھانے کی رخصت دی ہے۔”
[سنن ابی داود الاطعمۃ باب فی اکل الضبع حدیث 3801 وجامع الترمذی الحج باب ماجاء فی الضبع یصیبھا المحرم حدیث 851۔]
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواز کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: "جو درندہ دو اوصاف رکھتا ہو، وہ حرام ہے: ایک یہ کہ اس کی کچلی ہو، اور دوسرا یہ کہ وہ حملہ آور درندوں میں شمار ہوتا ہو، جیسے شیر، بھیڑیا، تیندوا اور چیتا وغیرہ۔ لگڑ بھگڑ میں صرف ایک وصف یعنی کچلی کا پایا جانا ہے، جبکہ وہ حملہ آور درندوں میں شامل نہیں۔ درندے کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں درندگی کی ایک ایسی قوت ہوتی ہے جو اسے کھانے والے کی طبیعت پر اثر ڈالتی ہے۔ انسان جیسی غذا کھاتا ہے ویسا ہی اثر قبول کرتا ہے۔ شیر، بھیڑیے، تیندوے اور چیتے کی جو درندگی ہے، وہ لگڑ بھگڑ میں موجود نہیں، اس لیے دونوں کو ایک درجے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ نہ لغت میں لگڑ بھگڑ کو درندہ کہا گیا ہے اور نہ عرف میں۔”
[اعلام الموقعین 2/120۔]
❀ 3۔ پنجوں سے شکار کرنے والے پرندے
پرندے اصل کے اعتبار سے مباح ہیں، مگر وہ پرندے حرام ہیں جو پنجوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں، جیسے عقاب، باز اور شکرا وغیرہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والےدرندوں اور پنجے سے پکڑ کر شکار کرنے والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔”
[صحیح مسلم الصید والذبائع ،باب تحریم اکل کل ذی ناب من السباع۔۔۔،حدیث 1934۔]
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار تواتر کے ساتھ ملتے ہیں اور سب صحیح ہیں۔ اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات معروف ہیں۔”
[اعلام الموقعین 2/118۔]
❀ 4۔ مردار کھانے والے پرندے
وہ پرندے بھی حرام ہیں جو مردار کھاتے ہیں، جیسے باز، گدھ اور کوا، کیونکہ ان کی غذا خبیث اور گندی ہوتی ہے۔
❀ 5۔ خبیث سمجھے جانے والے حیوانات
وہ جانور بھی حرام ہیں جو خبیث شمار ہوتے ہیں، جیسے سانپ، چوہا اور حشرات وغیرہ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "سانپ اور بچھو کا کھانا حرام ہے۔ اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔ جس شخص نے انھیں حلال سمجھتے ہوئے کھایا، اسے توبہ کا حکم دیا جائے گا۔ اور اگر کسی نے انھیں حرام سمجھتے ہوئے کھایا، تو وہ فاسق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا ہے۔”
[مجموع الفتاویٰ 11/609۔]
❀ 6۔ کیڑے مکوڑے
کیڑے مکوڑوں کا کھانا بھی حرام ہے کیونکہ وہ خبیث اشیاء میں شمار ہوتے ہیں۔
❀ 7۔ حلال وحرام کے ملاپ سے پیدا ہونے والے جانور
ایسے جانور جو ایک حلال اور ایک حرام جانور کے ملاپ سے پیدا ہوں، ان کا کھانا بھی حرام ہے۔ مثال کے طور پر خچر، جو گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس میں گدھے کی جہت کو غالب مانتے ہوئے اسے حرام کہا گیا ہے۔
⑨ بعض علماء کے نزدیک خشکی کے حرام جانوروں کی چھ اجمالی قسمیں
بعض اہل علم نے خشکی کے حرام جانوروں کی چھ اقسام اجمالی طور پر یوں ذکر کی ہیں:
◈ وہ جانور جن کا نام لے کر حرمت بیان کی گئی ہو، جیسے پالتو گدھا۔
◈ وہ جانور جو وضع کردہ تعریف اور ضابطے میں آتے ہوں، جیسے وہ درندہ جس کی کچلی ہو یا وہ پرندہ جو پنجے سے شکار کرتا ہو۔
◈ وہ جانور جو مردار کھاتے ہوں، جیسے گدھ اور کوا وغیرہ۔
◈ وہ جانور جو خبیث اور مکروہ سمجھے جاتے ہوں، جیسے چوہا اور سانپ وغیرہ۔
◈ وہ جانور جو حلال وحرام کے ملاپ سے پیدا ہوں، جیسے خچر۔
◈ وہ جانور جن کے بارے میں شارع علیہ السلام نے قتل کا حکم دیا ہو، مثلاً پانچ فاسق جانور: سانپ، چوہا، (کاٹنے والا) کتا، بچھو، چیل۔ یا جن کے قتل سے منع کیا ہو، مثلاً ہدہد، ممولا اور مینڈک وغیرہ۔
⑩ مذکورہ کے علاوہ باقی جانوروں کا حکم
مذکورہ حیوانات اور پرندوں کے علاوہ باقی سب جانور اصل اباحت کی بنا پر حلال ہیں، جیسے گھوڑا، چوپائے یعنی گائے، اونٹ، بھیڑ، بکری، مرغی، جنگلی گدھا، ہرن، شتر مرغ اور خرگوش وغیرہ۔ ان سب کا گوشت پاک صاف اور پسندیدہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہیں:
﴿ قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبـٰتُ﴾
"آپ کہہ دیجئے کہ تمام چیزیں تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں۔”
[المائدۃ:5/4۔]
⑪ جلالہ جانور کا حکم
اگر بھیڑ، گائے یا اونٹ کی اکثر خوراک گندی اشیاء ہوں تو وہ حلال جانوروں میں سے مستثنیٰ ہوجاتے ہیں، یعنی ان کا کھانا حرام ہوگا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندگی کھانے والے جانوروں کاگوشت کھانے اور ان کادودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔”
[سنن ابی داود الاطعمۃ باب النھی عن اکل الجلالۃ والبانھا حدیث 3785۔]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے:
"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَعَنْ الْجَلَّالَةِ ، وَعَنْ رُكُوبِهَا ، وَعَنْ أَكْلِ لَحْمِهَا”
"۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے اور گندی اشیاء کھانے والے جانور پرسواری کرنے اور ان کاگوشت کھانے سے منع فرمایا۔”
[سنن ابی داود الاطعمۃ باب فی اکل لحوم الحمر الاھلیۃ حدیث 3811۔]
ایسے جانور خواہ چوپائے ہوں یا مرغی وغیرہ، اور چاہے ان کا دودھ ہو یا انڈے، سب کچھ نجس ہے۔ ایسے جانور کو تین دن تک باندھ کر رکھا جائے اور صرف پاک صاف خوراک کھلائی جائے، پھر ان کا گوشت یا انڈے کھائے جائیں۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "مسلمانوں کا اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ جب کوئی جانور نجس چارہ کھاتا ہو تو اسے باندھ کر پاک صاف چارہ کھلایا جائے، تب اس کا دودھ اور گوشت حلال ہوگا۔ اسی طرح وہ کھیت یا پھلوں کے درخت جنھیں گندا پانی دیا جاتا ہو، انھیں پاک صاف پانی دیا جائے، تب ان کا کھانا حلال ہوگا کیونکہ خبیث چیز پاک چیز پر اثر انداز ہوتی ہے۔”
[اعلام الموقعین 2/15۔]
⑫ پیاز، لہسن وغیرہ کا حکم
پیاز، لہسن اور اسی طرح کی وہ اشیاء جن کی بو ناگوار ہوتی ہے، ان کا کھانا مکروہ ہے، خصوصاً جب مسجد میں آنے کا ارادہ ہو تو ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ – يَعْنِي الثُّومَ – ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا”
"جس شخص نے اس پودے(پیاز،لہسن وغیرہ) سے کچھ کھایا وہ مسجد میں نہ آئے۔”
[صحیح البخاری الاذان باب ماجاء فی النوم النبی ء والبصل والکراث 853 وصحیح مسلم الصلاۃ باب نھی من اکل ثوما اوبصلا۔۔۔حدیث 561۔564۔البتہ صحیح بخاری میں(مصلانا) کے بجائے(مَسْجِدَنَا)ہے۔]
⑬ اضطرار کی حالت میں حرام چیز کا حکم
جس شخص کو اپنی جان کا خطرہ ہو، وہ اضطرار کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے حرام چیز کھا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَمَنِ اضطُرَّ غَيرَ باغٍ وَلا عادٍ فَلا إِثمَ عَلَيهِ …﴿١٧٣﴾… سورة البقرة
"پھر مجبور ہوجائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اورزیادتی کرنے والا نہ ہو،اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں۔”
[البقرۃ:2/173۔]
اسی طرح اگر کوئی شخص جان بچانے کے لیے کسی دوسرے کے کھانے کا محتاج ہوجائے، اور کھانے کا مالک اس حالت میں خود مجبور نہ ہو، تو مالک پر لازم ہے کہ وہ اس محتاج کو اتنی خوراک قیمت کے بدلے دے دے جس سے اس کی جان بچ جائے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اگر مجبور شخص فقیر ہو تو اس پر کھانے کا معاوضہ لازم نہیں۔ بھوکے کو کھانا کھلانا اور ننگے کو لباس پہنانا فرض کفایہ ہے۔ اور جب بھوکے کو کھلانے والا یا ننگے کو لباس دینے والا کوئی نہ ہو تو یہی فرض بعض متعین افراد پر فرض عین بن جاتا ہے۔”
[الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ الاطعمۃ 5/ 548۔]
⑭ ضرورت مند مسلمان کو عاریتاً چیز دینا
اگر کسی مسلمان کے پاس ایک سے زائد ایسی اشیاء ہوں جن کی اسے فی الحال ضرورت نہ ہو، جبکہ اس کے کسی مسلمان بھائی کو ان کے استعمال کی شدید حاجت ہو، اور ان اشیاء کے استعمال سے خود ان میں کوئی کمی یا فرق بھی نہ آتا ہو، تو مالک کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو بلا عوض ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دے۔ مثلاً سردی سے بچنے کے لیے کسی کو عارضی طور پر چادر یا کمبل دے دینا، یا کنویں سے پانی نکالنے کے لیے رسی یا ڈول فراہم کرنا، یا کھانا پکانے کے لیے کوئی برتن دینا۔
اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مذمت ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَمنَعونَ الماعونَ ﴿٧﴾… سورة الماعون
"اور(لوگوں کو) استعمال کی معمولی چیزیں بھی دینے سے انکار کرتے ہیں۔”
[الماعون 7/107۔]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"ماعون وہ اشیاء ہیں جنھیں لوگ عموماً ایک دوسرے سے استعمال کے لیے مانگ لیتے ہیں،مثلاً:کلہاڑی،ہنڈیا،ڈول وغیرہ۔”
[تفسیر الطبری تفسیر سورۃ الماعون وتفسیر ابن کثیر الماعون 7/107۔]
⑮ باغ کے قریب سے گزرنے والے کا پھل کھانا
اگر کسی شخص کا گزر پھلوں کے کسی باغ کے قریب سے ہو تو وہ درخت پر لگا ہوا یا گرا ہوا پھل بلا قیمت کھا سکتا ہے۔ اس بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات موجود ہیں۔ البتہ اس کے لیے چند شرطیں ہیں:
◈ وہ پھل کسی چار دیواری کے اندر نہ ہو۔
◈ اس پر کسی کا پہرہ نہ ہو۔
◈ وہ درخت پر نہ چڑھا ہو۔
◈ اس نے درخت کو پتھر مار کر پھل حاصل نہ کیا ہو۔
◈ وہ پھل اپنے ساتھ اٹھا کر لے جانے والا نہ ہو۔
◈ اس نے جمع شدہ پھل میں سے نہ لیا ہو۔
البتہ اگر انتہائی مجبوری کی حالت ہو تو ایسی صورت میں بھی کوئی حرج نہیں بلکہ شرعاً اس کی اجازت ہے۔
⑯ مہمان نوازی کا حکم
مسلمان پر اجنبی مسلمان کی ایک دن ایک رات مہمانی کرنا واجب ہے، بشرطیکہ وہ کسی شہر سے دور گاؤں یا بستی کے سفر میں وہاں سے گزر رہا ہو۔ اگر معاملہ شہر کا ہو تو مہمانی واجب نہیں، کیونکہ وہاں ہوٹل وغیرہ عام طور پر موجود ہوتے ہیں، جبکہ دیہات اور بستیوں میں اس قسم کا بندوبست نہیں ہوتا۔
❀ 1۔ ضیافت کے وجوب کی دلیل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته قالوا وما جائزته يا رسول الله صلي الله عليه وسلم! قال يومه وليلته "
"جوشخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسےچاہیے کہ اپنے مہمان کی مہمانی ایک دن رات کے عطیہ کے ساتھ کرے۔انھوں(صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مہمان کا عطیہ کتنا ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک دن رات۔”
[صحیح البخاری الادب باب من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلایؤزجارہ حدیث 6019۔وصحیح مسلم اللقطۃ باب الضیافۃ ونحوھا حدیث 48 بعد حدیث 1726 واللفظ لہ۔]
یہ حدیث مہمان نوازی کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس میں الفاظ "من كان يؤمن بالله” وارد ہوئے ہیں، اور ایمان باللہ کو مہمان نوازی کے ساتھ مشروط کرنا اس کے وجوب کی دلیل ہے۔
صحیحین میں یہ روایت بھی وارد ہوئی ہے:
"إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ”
"اگر تم کسی قوم کے ہاں ٹھہرو تو جو مناسب چیزیں تمھیں مہمانی کے لیے دیں اسے قبول کرو اور اگر ایسا نہ کریں تو ان سے خود ہی مہمانی کاحق لے لو۔”
[صحیح البخاری المظالم باب قصاص المظلوم اذا وجد مال ظالمۃ حدیث 2461 وصحیح مسلم القطۃ باب الضیافۃ ونحوھا،حدیث 1727 واللفظ لہ۔]
⑰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ضیافت کا واقعہ
اس بارے میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا مشہور واقعہ بھی موجود ہے جس میں مذکور ہے کہ آپ نے اپنے مہمانوں کی خدمت میں بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ضیافت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں بھی شامل تھی۔
اس واقعے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مہمان کی خدمت میں اس کی ضرورت سے زیادہ چیز پیش کی جانی چاہیے۔ یہ عمل دینِ ابراہیمی کی اعلیٰ خوبیوں میں سے ایک ہے اور مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
ہمارے دین اسلام نے نہ صرف اس عمل کو برقرار رکھا بلکہ اس پر مزید تاکید فرمائی اور اس کی ترغیب بھی دی۔ دین اسلام نے دس حقوق کا ذکر کرتے ہوئے مسافر کے حق کو بھی واضح کیا کہ اس کی مہمان نوازی کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاعبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشرِكوا بِهِ شَيـًٔا وَبِالوٰلِدَينِ إِحسـٰنًا وَبِذِى القُربىٰ وَاليَتـٰمىٰ وَالمَسـٰكينِ وَالجارِ ذِى القُربىٰ وَالجارِ الجُنُبِ وَالصّاحِبِ بِالجَنبِ وَابنِ السَّبيلِ وَما مَلَكَت أَيمـٰنُكُم إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَن كانَ مُختالًا فَخورًا ﴿٣٦﴾… سورةالنساء
"اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا”
[النساء 4/36۔]
نیز ارشاد ہے:
فَـٔاتِ ذَا القُربىٰ حَقَّهُ وَالمِسكينَ وَابنَ السَّبيلِ …﴿٣٨﴾… سورة الروم
"لہذا آپ قرابت دار،مسکین اور مسافر ہر ایک کو اس کا حق دیجئے۔”
[الروم 30/38۔]
مزید یہ کہ سورہ توبہ میں زکاۃ کے جو آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں، ان میں مسافر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایسا کامل دین اور حکمتوں سے بھرپور شریعت عطا فرمائی جو سراسر رحمت اور رافت ہے۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب