مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کھانے اور دوا میں الکحل سے مرکب سرکہ استعمال کرنا

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

کھانے اور دوا میں الکحل سے مرکب سرکہ استعمال کرنا

الکحل سے ملا ہوا سرکہ استعمال کرنا ناجائز ہے، کیونکہ اس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دیتی ہے۔ نشہ آور الکحل شراب ہے اور اللہ تعالیٰ نے شراب سے بچنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا نشہ آور الکحل سے علاج کرنا جائز نہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب دوا بنانے کے لیے شراب کے متعلق پوچھا گیا۔ [صحيح مسلم 1984/12]
تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بیماری ہے دوا نہیں، اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا قول ہے:
”جس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کا تھوڑی مقدار میں استعمال بھی حرام ہے۔“ [سنن أبى داود، رقم الحديث 3681 سنن الترمذي، رقم الحديث 1865 سنن ابن ماجه، رقم الحديث 3393]
[اللجنة الدائمة: 18644]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔