کن لوگوں سے محبت یا نفرت کرنی چاہیئے؟ قرآنی و حدیثی دلائل

یہ تحریر شیخ صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان کی کتاب الولاء والبراء في الاسلام سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عبداللہ ناصر الرحمانی صاحب نے کیا ہے۔

محبت یا نفرت کا حقدار ہونے کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام

دوستی یا دشمنی کے حقدار ہونے کے اعتبار سے لوگوں کی تین اقسام ہیں:
(1) وہ لوگ جو خالص محبت اور دوستی کے مستحق ہیں، ایسی محبت اور دوستی کہ جس میں عداوت یا نفرت کا کوئی عنصر شامل نہ ہو۔
(2) وہ لوگ جو بغض، عداوت اور نفرت کے مستحق ہیں، ایسی عداوت و نفرت کہ جس میں دوستی یا محبت کا کوئی عنصر شامل نہ ہو۔
(3) وہ لوگ جو بعض وجوہات کے اعتبار سے محبت کئے جانے اور بعض وجوہات کے اعتبار سے نفرت و عداوت کے مستحق ہیں۔

(1) خالص محبت کئے جانے کے مستحق افراد

وہ لوگ جن سے خالص محبت کرنا واجب ہے، ایسی محبت جس میں عداوت یا نفرت کا شائبہ تک نہ ہو، وہ خالص مومنین کی جماعت ہے، جن میں سرفہرست انبیاء کرام ہیں پھر صدیقین، پھر شہداء اور صالحین ہیں۔
پھر انبیاء کرام میں سب سے مقدم و سرفہرست محمد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں، آپ صلى الله عليه وسلم سے ایسی محبت کرنا واجب ہے، جو اپنے نفس، اولاد، ماں باپ اور تمام لوگوں کی محبت پر حاوی اور غالب اور سب سے بڑھ کر ہو۔
پھر آپ کی ازواج مطہرات امہات المؤمنین اور دیگر اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين کی محبت ہے۔ صحابہ کرام میں بطور خاص خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ، مہاجرین اور انصار، بدری صحابہ، بیعت رضوان میں شریک صحابہ اور پھر بقیہ تمام صحابہ کرام ہیں، جو خالص محبت کے مستحق ہیں۔
پھر تابعین کرام، پھر ائمہ اربعہ وغیرہ کی محبت قابل ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾ (الحشر:10)
ترجمہ: (اور ان کے لئے بھی جو ان مہاجرین کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ (حسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار! تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔)
جس کے دل میں ایمان ہوگا، وہ کبھی صحابہ کرام یا سلف صالحین سے بغض یا عداوت نہیں رکھے گا، اس مقدس جماعت سے بغض قائم کرنا کج رو، منافقین اور اسلام دشمن افراد کا شیوہ ہے، مثلاً: روافض اور خوارج وغیرہ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

(2) صرف بغض و عداوت رکھے جانے کے اہل افراد

یہ کفار، مشرکین، منافقین، مرتدین اور ملحدین کی جماعت ہے، جن کی اجناس مختلف ہیں (لیکن قدر مشترک یہ ہے کہ یہ تمام لوگ عقیدہ خالصہ، عقیدہ توحید کے منکر ہیں)۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ﴾ (المجادلة:22)
ترجمہ: (جو لوگ اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں، انہیں تم ایسے لوگوں سے دوستی رکھنے والا نہیں پاؤ گے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہوں، خواہ وہ ان کے ماں باپ، بہن بھائی یا خاندان کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔)
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
تَرَىٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ ‎. وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ . (المائدة:80،81)
ترجمہ: (تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں، انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے۔ (وہ یہ) کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اور پیغمبروں صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی، اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر بدکردار ہیں۔)

(3) وہ افراد جو محبت اور عداوت دونوں کے مستحق ہیں

اس سے مراد وہ مومن ہیں کہ جن میں بوجوہ کچھ نافرمانیاں پائی جاتی ہیں (لیکن عقیدہ صحیح ہے)۔ یہ لوگ اپنے حسن عقیدہ اور دولت ایمان کی وجہ سے محبت کے قابل ہیں، لیکن بعض نافرمانیوں کے مرتکب ہونے کی بناء پر ناراضگی کے مستحق ہیں۔
شرط یہ ہے کہ ان کی نافرمانی کفر یا شرک کی حد کو نہ پہنچتی ہو۔ (کیونکہ اگر ان کی نافرمانی کفریا شرک کی حدود تک پہنچ گئی تو پھر یہ لوگ بھی دعوائے ایمانی کے باوجود مکمل نفرت اور بغض کے مستحق ہیں۔)
ایسے لوگوں کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے ساتھ خیرخواہی کی جائے اور جن نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں، ان کا انکار کیا جائے۔
ان لوگوں کی نافرمانیوں پر خاموش رہنا جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم جذبہ خیرخواہی کا بھرپور برتاؤ ضروری ہے۔
اور اگر ان کی معصیت ایسی ہو جو شرعی حد کو واجب کرتی ہے تو پھر اس حد یا تعزیر کا نفاذ تا آنکہ اپنی معصیت سے باز آ کر توبہ نہ کر لیں بھی خیرخواہی ہے۔
ایسے لوگوں سے مکمل بغض، ناراضگی اور نفرت روا نہیں ہے، جیسا کہ خوارج کا شیوہ ہے۔
بلکہ ان کی بابت اعتدال کا دامن تھامے رہنا چاہئے، چنانچہ حسن عقیدہ کی بناء پر دوستی اور محبت کا برتاؤ کیا جائے اور معصیتوں کے ارتکاب کی بناء پر ناراضگی و نفرت کا اظہار کیا جائے اور یہی اہل السنة والجماعة کا مسلک ہے۔
شرعی ہدایت یہ ہے کہ کسی سے محبت ہو تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور عداوت ہو تو اللہ تعالیٰ کی خاطر، یہ عقیدہ ایمان کی مضبوط ترین کڑی ہے، بلکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ: (قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس نے دنیا میں محبت کی۔)
المرء مع من احب فى الدنيا
لیکن آج کل حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں، عمومی طور پر لوگوں کی دوستیاں اور دشمنیاں دنیا کی بنیاد پر قائم ہو چکی ہیں۔
جس سے کوئی دنیوی لالچ یا طمع یا مفاد ہو، اس سے دوستی اور محبت کے رشتے قائم کر لئے جاتے ہیں، خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم اور اس کے دین کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔
ابن جریر نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول نقل کیا ہے:
من أحب فى الله وأبغض فى الله ووالىٰ فى الله وعادىٰ فى الله فإنما تنال ولاية الله بذٰلك، وقد صارت عامة مؤاخاة الناس علىٰ أمر الدنيا وذٰلك لا يجدي علىٰ أهله شيئا (رواہ ابن جریر)
ترجمہ: (جس نے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کی اور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے نفرت کی، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دوستی اور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دشمنی کی تو وہ اپنے اس نہایت شاندار کردار سے اللہ تعالیٰ کی دوستی اور قرب حاصل کر لے گا۔ لیکن افسوس آج لوگوں کی دوستی اور اخوت دنیوی مفادات پر قائم ہے جو بالکل بے فائدہ اور بے اثر سی روش ہے۔)
وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله تعالى قال: من عادىٰ لي وليا فقد آذنته بالحرب
ترجمہ: (ابو ہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی دوست سے عداوت قائم کی، میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔)
اس جنگ کا سب سے زیادہ خطرہ مول لینے والا وہ شخص ہے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے صحابہ رضوان الله عليهم أجمعين سے بغض و عداوت رکھے، ان کی شان میں گستاخانہ رویہ اپنائے اور ان کی تنقیص شان کی سعی لاحاصل میں مصروف رہے۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
(میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، انہیں اپنی تنقید کا نشانہ نہ بناؤ، جس نے انہیں تکلیف پہنچائی اس نے مجھے دکھ دیا اور جس نے مجھے دکھی کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی، اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اللہ تعالیٰ اسے عنقریب صفحہ ہستی سے مٹا ڈالے گا۔)( ترمذی شریف )
افسوس کہ بعض گمراہ فرقوں کا مذہب اور عقیدہ ہی صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين کی عداوت پر قائم ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے اس کے غضب اور دردناک عذاب سے پناہ مانگتے ہیں اور عفو و عافیت کے سائل و خواستگار ہیں۔
وصلى الله عليه وسلم وبارك على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️