کلمۂ طیبہ لا إلہ إلا اللہ: فضائل، معنی اور ایمان کی شروط

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون کلمۂ طیبہ لا إلہ إلا اللہ کی عظمت، فضیلت، معنی و مفہوم اور اس پر ایمان لانے کے بنیادی تقاضوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے تحریر کیا جا رہا ہے۔
یہ کلمہ دینِ اسلام کی بنیاد، توحید کی اصل اور نجاتِ دنیا و آخرت کا واحد راستہ ہے۔ اسی کلمہ کی خاطر مخلوق کو پیدا کیا گیا، انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث کیا گیا اور آسمانی کتابیں نازل کی گئیں۔
اس مضمون میں پہلے مرحلے میں کلمۂ طیبہ کے فضائل بیان کیے جائیں گے، پھر اس کے معنی، ارکان اور بالآخر اس پر ایمان لانے کی شرائط کو تفصیل سے ذکر کیا جائے گا، تاکہ قاری محض زبانی اقرار پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس عظیم کلمہ کے حقیقی تقاضوں کو اپنی زندگی میں نافذ کر سکے۔

کلمۂ طیبہ کی عظمت و اہمیت

لا إلہ إلا اللہ وہ عظیم کلمہ ہے:

❀ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا فرمایا
❀ جس کی دعوت کے لیے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام مبعوث کیے گئے
❀ جسے بیان کرنے کے لیے آسمانی کتابیں نازل کی گئیں

اسی کلمہ کی بنیاد پر انسان دو گروہوں میں تقسیم ہوئے:

➊ اس کلمہ کو ماننے والے مومن، جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنتیں تیار کر رکھی ہیں
➋ اس کا انکار کرنے والے کافر، جن کے لیے جہنم کا عذاب تیار کیا گیا ہے

اسی کلمہ کی بنا پر روزِ قیامت میزانیں نصب کی جائیں گی اور لوگوں میں نامۂ اعمال تقسیم کیے جائیں گے۔
یہی کلمہ العروۃ الوثقیٰ یعنی مضبوط کڑا اور پائیدار سہارا ہے، یہی جنت کے حصول اور جہنم سے نجات کا راستہ ہے، یہی اس گھر کی چابی ہے جس میں دائمی سعادت کے سوا کچھ نہیں ہوگا، اور یہی دین کی جڑ، اصل اور سب سے بڑا رکن ہے۔

کتاب و سنت میں کلمۂ طیبہ کے فضائل

قرآن و حدیث میں کلمۂ طیبہ کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے چند اہم فضائل ذکر کیے جاتے ہیں۔

➊ کلمۂ طیبہ: قرآن کی نظر میں

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کلمہ کو کلمۂ طیبہ قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیْ السَّمَائِ ﴾
[إبراہیم: 24]

ترجمہ:
“کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کلمۂ طیبہ کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔”

الشیخ عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کلمۂ طیبہ سے مراد لا إلہ إلا اللہ ہے، اور اس کے ثمرات ایمان، اعمالِ صالحہ، اچھے اخلاق اور پاکیزہ اقوال ہیں۔
جس طرح کھجور کا درخت مضبوط جڑوں کے ساتھ ہمیشہ پھل دیتا ہے، اسی طرح ایمان کا درخت مومن کے دل میں مضبوط ہوتا ہے اور اس سے مسلسل نیک اعمال صادر ہوتے رہتے ہیں۔

➋ تمام انبیاء کی دعوت کا خلاصہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَمَآ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا نُوْحِیْ إِلَیْہِ أَنَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ ﴾
[الأنبیاء: 25]

ترجمہ:
“اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا اس پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، لہٰذا تم سب میری ہی عبادت کرو۔”

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت کا محور توحید اور کلمۂ لا إلہ إلا اللہ تھا۔

➌ کلمۂ طیبہ: العروۃ الوثقیٰ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤمِنْ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لاَ انْفِصَامَ لَہَا ﴾
[البقرۃ: 256]

ترجمہ:
“پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے یقیناً ایک ایسے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہیں ٹوٹے گا۔”

سعید بن جبیر رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ العروۃ الوثقیٰ سے مراد لا إلہ إلا اللہ ہے۔
یعنی جو شخص غیر اللہ کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے، وہ صراطِ مستقیم پر مضبوطی سے قائم ہو جاتا ہے۔

➍ کلمۂ طیبہ: کلمۃُ التقویٰ

اللہ تعالیٰ نے کلمۂ طیبہ کو کلمۃُ التقویٰ قرار دیا ہے اور اپنے نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس پر ثابت قدم رکھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ إِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤمِنِیْنَ وَأَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَکَانُوْا أَحَقَّ بِہَا وَأَہْلَہَا ﴾
[الفتح: 26]

ترجمہ:
“جب کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلیت کا تعصب بھر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور انہیں کلمۂ تقویٰ پر قائم رکھا، اور وہی اس کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل تھے۔”

سلف صالحین فرماتے ہیں کہ کلمۃُ التقویٰ سے مراد لا إلہ إلا اللہ ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کلمہ پر ثابت قدم رہ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ واقعی اس کے اہل تھے۔

➎ کلمۂ طیبہ: دعوتِ حق

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ لَہُ دَعْوَۃُ الْحَقِّ وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لاَ یَسْتَجِیْبُوْنَ لَہُمْ بِشَیْءٍ ﴾
[الرعد: 14]

ترجمہ:
“حق کی پکار تو صرف اسی کے لیے ہے، اور جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی کسی بھی حاجت کو پورا نہیں کر سکتے۔”

امام ابن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دعوتِ حق سے مراد صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت، اسی سے دعا، اسی سے خوف اور اسی سے امید رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ ہر معبود باطل ہے اور اس کی عبادت گمراہی ہے۔

➏ کلمۂ طیبہ اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(مَا قَالَ عَبْدٌ لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا إِلَّا فُتِحَتْ لَہُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتّٰی تُفْضِیَ إِلَی الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْکَبَائِرَ)
[ترمذی: 3590، حسنہ الألبانی]

ترجمہ:
“جو بندہ اخلاص کے ساتھ لا إلہ إلا اللہ کہتا ہے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے، اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے۔”

اس سے معلوم ہوا کہ جب بندہ اس کلمہ کو سمجھ کر اور اس کے تقاضوں کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اس کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ سے قائم ہو جاتا ہے۔

➐ دنیا و آخرت کی پریشانیوں سے نجات

حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں یہی کلمہ دعا کے طور پر پڑھا:

﴿ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ﴾
“تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔”
[الأنبیاء: 87]

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ فَاسْتَجَبْنَا لَہُ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤمِنِیْنَ ﴾
[الأنبیاء: 88]

ترجمہ:
“ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو بھی نجات دیتے ہیں۔”

یہ واضح دلیل ہے کہ کلمۂ طیبہ ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات کا عظیم ذریعہ ہے۔

➑ کلمۂ طیبہ اور شفاعت کا تعلق

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ لاَ یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَۃَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا ﴾
“وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، مگر وہی جس نے رحمٰن کے ہاں عہد (وعدہ) لے رکھا ہو۔”
[مریم: 87]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ عہد لا إلہ إلا اللہ کی گواہی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِہِ)
[بخاری: 99، 6570]

ترجمہ:
“قیامت کے دن میری شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہوگا جس نے دل کی گہرائیوں سے اخلاص کے ساتھ لا إلہ إلا اللہ کہا۔”

➒ کلمۂ طیبہ: جہنم سے نجات کا ذریعہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(إِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ یَبْتَغِیْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ)
[بخاری: 1186، مسلم: 33]

ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ نے جہنم پر اس شخص کو حرام کر دیا جو محض اللہ کی رضا کے لیے لا إلہ إلا اللہ کہتا ہے۔”

کلمۂ طیبہ کا معنی و مفہوم

سامعینِ کرام! کلمۂ طیبہ لا إلہ إلا اللہ محض زبان سے ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کا ایک واضح معنی اور گہرا مفہوم ہے جسے سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ فَاعْلَمْ اَنَّہُ لاَ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ ﴾
[محمد: 19]

ترجمہ:
“پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔”

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کلمۂ توحید کا علم حاصل کرنا واجب ہے، اور یہ تمام اعمال سے پہلے ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(مَنْ قَالَ لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)
“جس شخص نے اخلاص کے ساتھ لا إلہٰ إلا اللہ کہا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
[مسند احمد، صحیح]

یعنی وہی شخص جنت میں داخل ہوگا جو اس کلمہ کو سمجھ کر، اخلاص کے ساتھ اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے ادا کرے۔

لفظ “إلٰہ” کا مفہوم

لفظ “إلٰہ” کا معنی ہے:
وہ ذات جو عبادت کا حق رکھتی ہو۔

اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق کیوں ہے؟
اس لیے کہ وہی:

❀ خالق ہے
❀ رازق ہے
❀ مالکِ نفع و نقصان ہے
❀ زندگی اور موت کا اختیار رکھتا ہے
❀ عزت و ذلت کا مالک ہے

لہٰذا دل کی محبت، خوف، امید، توکل، دعا، مدد اور عبادت—سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا چاہیے۔

لفظ “اللہ” کا مفہوم

لفظ “اللہ” اسمِ اعظم ہے، جو تمام اسماء الحسنیٰ اور صفاتِ علیا کو شامل ہے۔
یہ نام صرف ذاتِ الٰہی کے لیے خاص ہے، اور کسی اور کے لیے استعمال کرنا حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ ﴾
[الزمر: 36]

ترجمہ:
“کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟”

جو شخص اللہ پر سچا توکل کرے، اللہ تعالیٰ اس کے تمام معاملات سنوار دیتا ہے۔

کلمۂ طیبہ کے دو بنیادی رکن

کلمۂ طیبہ لا إلہ إلا اللہ کے دو بنیادی رکن ہیں:

لا إلہ (نفی)
إلا اللہ (اثبات)

پہلا رکن: نفی (لا إلہ)

اس کا مطلب ہے:
اللہ کے سوا تمام معبودانِ باطلہ کا انکار۔

اس میں درج ذیل سب شامل ہیں:

❀ بت
❀ اولیاء کو حاجت روا سمجھنا
❀ مردوں کو پکارنا
❀ جادوگروں، نجومیوں سے مدد لینا
❀ ایسے حکمران یا علماء کی اندھی تقلید جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کریں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَنْفَعُہُمْ وَلاَ یَضُرُّہُمْ ﴾
“اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان۔”
[الفرقان: 55]

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:

﴿ أَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَنْفَعُکُمْ شَیْئًا وَّلاَ یَضُرُّکُمْ ﴾
“کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں؟”
[الأنبیاء: 66]

طاغوت کا انکار

طاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جائے یا جس کی اطاعت اللہ کی نافرمانی میں کی جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤمِنْ بِاللّٰہِ ﴾
“پس جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے۔”
[البقرۃ: 256]

دوسرا رکن: اثبات (إلا اللہ)

یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا اثبات۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ ﴾
[الزمر: 2]

ترجمہ:
“پس اللہ ہی کی عبادت کرو، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔”

اور فرمایا:

﴿ وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ ﴾
“اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”
[غافر: 60]

کلمۂ طیبہ کا دوسرا رکن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ:

➊ دعا صرف اللہ سے کی جائے
➋ مدد صرف اللہ سے مانگی جائے
➌ خوف اور امید صرف اللہ سے رکھی جائے
➍ عبادت خالص اللہ کے لیے ہو

دوسرا رکن (إلا اللہ) کے عملی تقاضے

کلمۂ طیبہ لا إلہ إلا اللہ کے دوسرے رکن (إلا اللہ) کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنی پوری زندگی کو صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کے تابع کر دے۔ یہ صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ عملی التزام کا نام ہے۔

➊ صرف اللہ ہی سے دعا اور سوال

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ ٭ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ﴾
[الزمر: 2–3]

ترجمہ:
“ہم نے آپ کی طرف کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے، لہٰذا اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ سن لو! خالص بندگی اللہ ہی کے لیے ہے۔”

اسی طرح فرمایا:

﴿ وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ ﴾
[غافر: 60]

ترجمہ:
“اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”

لہٰذا کلمۂ توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ:

❀ صرف اللہ سے مانگے
❀ اسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے
❀ کسی مخلوق کو حاجت روا اور مشکل کشا نہ سمجھے

شرک کے شبہات اور ان کا رد

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اولیاء کو مستقل نہیں مانتے بلکہ انہیں اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس سوچ کو سختی سے رد فرمایا ہے:

﴿ مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا إِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی ﴾
[الزمر: 3]

ترجمہ:
“ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔”

اللہ تعالیٰ نے اس عقیدے کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ وہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹے اور منکر ہوں۔

➋ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور تعظیم

دوسرے رکن کا تقاضا یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی قدر پہچانے:

﴿ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ﴾
[الحج: 74]

ترجمہ:
“انہوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق تھا۔”

اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کی تخلیق، اس کے اسماء و صفات اور اس کی قدرت کے مظاہر میں واضح ہے۔ جو شخص ان پر غور کرتا ہے اس کے دل میں اللہ کی محبت راسخ ہو جاتی ہے۔

➌ صرف اللہ ہی سے محبت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَالَّذِیْنَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ ﴾
[البقرۃ: 165]

ترجمہ:
“اور ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔”

یہ محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر چیز پر غالب ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ)
“تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک (کامل) ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
[بخاری، مسلم]

➍ صرف اللہ ہی سے خوف اور امید

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ فَاللّٰہُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْہُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ﴾
“پس اللہ ہی زیادہ حق دار ہے کہ تم اسی سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔”
[التوبۃ: 13]

اور فرمایا:

﴿ قُلْ حَسْبِيَ اللّٰہُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴾
“کہہ دیجیے: میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، اسی پر بھروسا کرنے والے بھروسا کرتے ہیں۔”
[الزمر: 38]

یعنی مومن صرف اللہ سے ڈرتا ہے اور صرف اسی سے امید رکھتا ہے، کیونکہ نفع و نقصان، عزت و ذلت سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔

➎ براہِ راست اللہ سے تعلق

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ﴾
[البقرۃ: 186]

ترجمہ:
“اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔

لا إلہ إلا اللہ کی شروط

برادرانِ اسلام! یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ لا إلہ إلا اللہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ اس عہد کے کچھ تقاضے اور شروط ہیں، جن کے بغیر اس پر ایمان درست نہیں ہوتا۔ اہلِ علم نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس کلمہ کی سات شروط بیان کی ہیں۔

➊ پہلی شرط: علم

یعنی کلمۂ طیبہ کے معنی و مفہوم کو جاننا اور سمجھنا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ﴾
[محمد: 19]

ترجمہ:
“پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔”

اس آیت میں سب سے پہلے علم کا حکم دیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴾
“سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے حق کی گواہی دی اور وہ جانتے ہیں۔”
[الزخرف: 86]

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں الحق سے مراد لا إلہ إلا اللہ ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کا مستحق وہی ہوگا جو علم و بصیرت کے ساتھ اس کلمہ کی گواہی دے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ)
“جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
[مسلم: 26]

➋ دوسری شرط: یقین

یقین شک کی ضد ہے۔ یعنی لا إلہ إلا اللہ پڑھنے والا اس بات پر کامل یقین رکھے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ ہی ہے، اور اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا ﴾
“مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر (اس ایمان میں) کسی قسم کا شک نہ کیا۔”
[الحجرات: 15]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(لَا يَلْقَى اللّٰهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ)
“اللہ سے ان دونوں (شہادتوں) کے ساتھ اس حال میں کوئی بندہ ملاقات نہیں کرتا کہ ان میں شک نہ ہو، مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
[مسلم: 27]

➌ تیسری شرط: اخلاص

اخلاص کا معنی ہے عبادت کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنا اور شرک و ریا سے پاک رکھنا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ﴾
“اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں، دین کو اسی کے لیے خالص رکھتے ہوئے۔”
[البیّنۃ: 5]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(إِنَّ اللّٰهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا وَّابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ)
“بے شک اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں کرتا مگر وہی جو خالص اسی کے لیے کیا گیا ہو اور جس سے اس کی رضا مطلوب ہو۔”
[نسائی، صحیح]

➍ چوتھی شرط: صدق

صدق یعنی سچائی۔ صرف زبان سے اقرار کافی نہیں بلکہ دل سے سچا اعتقاد ہونا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ﴾
“کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟”
[العنکبوت: 2]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَلَى النَّارِ)
“کوئی بھی شخص جو دل کی سچائی کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ اسے آگ (جہنم) پر حرام کر دیتا ہے۔”
[بخاری]

منافقین کا حال یہ تھا کہ وہ زبانی اقرار کرتے تھے مگر دل سے سچے نہ تھے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں جھوٹا قرار دیا۔

➎ پانچویں شرط: محبت

یعنی اس کلمہ، اس کے تقاضوں اور اہلِ توحید سے محبت، اور شرک و اہلِ شرک سے نفرت۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ ﴾
“اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔”
[البقرۃ: 165]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ…)
“تین باتیں جس شخص میں ہوں، وہ ایمان کی مٹھاس پا لیتا ہے …”
[بخاری: 16، مسلم: 43]

➏ چھٹی شرط: انقیاد

انقیاد کا مطلب ہے اطاعت اور فرمانبرداری۔ یعنی اللہ کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ ﴾
“اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اسی کے تابع (فرماں بردار) ہو جاؤ۔”
[الزمر: 54]

انقیاد کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ فرائض ادا کرے اور حرام سے بچے۔

➐ ساتویں شرط: قبول

قبول سے مراد یہ ہے کہ کلمۂ توحید اور اس کے تقاضوں کو دل کی رضا سے قبول کیا جائے، انکار یا تکبر نہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَسْتَكْبِرُونَ ﴾
“بے شک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ تکبر کرتے تھے۔”
[الصافات: 35]

یہی تکبر سابقہ امتوں کی ہلاکت کا سبب بنا۔

نتیجہ

نتیجتاً یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ جو شخص لا إلہ إلا اللہ کا اقرار کرتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ:

◈ اس کلمہ کے معنی کو سمجھے
◈ اس کے ارکان کو مانے
◈ اس کی شروط کو پورا کرے
◈ اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کے تقاضوں کو نافذ کرے

محض رسمًا کلمہ پڑھ لینا نجات کی ضمانت نہیں، بلکہ نجات اسی کو نصیب ہوگی جو اس کلمہ کے ساتھ علم، یقین، اخلاص، محبت اور اطاعت کو جمع کرے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کلمۂ طیبہ کو صحیح طور پر سمجھنے، اس کے تقاضوں کو اپنانے اور زندگی کے آخری سانس تک اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارا خاتمہ ایمان و توحید پر فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔