مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کلالہ کی جائیداد میں بھتیجوں کی وراثت کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال:

مضمون کے اہم نکات

میرے شوہر کے ماموں کلالہ تھے، ان کے والدین، بیوی، تین بہنیں، اور ایک بھائی ان کی زندگی میں وفات پا چکے تھے۔ اب ان کی وفات کے بعد چار بھانجے، سات بھانجیاں، چار بھتیجیاں، اور تین بھتیجے وارث موجود ہیں۔ ان کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب از فضیلۃ الباحث داؤد اسماعیل حفظہ اللہ

کلالہ کی تعریف:

◄ کلالہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا کوئی بیٹا، بیٹی یا والد زندہ نہ ہو۔
◄ موجودہ صورت میں چونکہ مرحوم کے والدین، بیوی، بہنیں، اور بھائی بھی وفات پا چکے ہیں، اس لیے جائیداد ان رشتہ داروں میں تقسیم ہوگی جنہیں شرعی طور پر وارث مانا گیا ہے۔

وارثین کی شرعی حیثیت:

◄ بھتیجے (بھائی کے بیٹے) شرعی وارث ہیں اور انہیں جائیداد ملے گی۔
◄ بھانجے، بھانجیاں اور بھتیجیاں شرعی وارث نہیں ہیں، لہٰذا انہیں جائیداد میں حصہ نہیں ملے گا۔

جائیداد کی تقسیم:

◄ تمام جائیداد تین بھتیجوں میں تقسیم ہوگی، کیونکہ وہ شرعی طور پر عصبہ (قریبی مرد رشتہ دار) ہیں۔
◄ بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں وارث نہیں بنیں گے۔

خلاصہ:

◄ صرف بھتیجے وارث ہوں گے اور جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی۔
◄ بھانجے، بھانجیاں، اور بھتیجیاں شرعی طور پر وارث نہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔