کفار کا مسلمانوں سے چھینا ہوا مال اگر واپس مل جائے تو وہ اس کے اصلی مالک کا ہی ہوگا

تحریر: عمران ایوب لاہوری

کفار کا مسلمانوں سے چھینا ہوا مال اگر واپس مل جائے تو وہ اس کے اصلی مالک کا ہی ہوگا
➊ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عفباء اونٹنی پکڑ لی گئی پھر ایک مسلمان عورت (جو کہ قید میں تھی ) اس پر سوار ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس نکل آئی اور اس نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے اس اونٹنی پر نجات دے دے تو وہ اسے نحر کر دے گی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا وفاء لنذر فى معصية الله ولا فيما لا يملك ابن آدم
”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر پوری نہیں کی جائے گی اور نہ ہی جس کا ابن آدم مالک نہیں ہے ۔“
[مسلم: 1641 ، كتاب النذر: باب لاوفاء لنذر فى معصية الله ، احمد: 429/6 ، ابو داود: 3316 ، بيهقي: 75/10]
➋ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا دشمنوں نے پکڑ لیا ۔ پھر مسلمانوں نے ان پر غلبہ پا لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں وہ گھوڑا واپس کر دیا گیا ۔ اور ان کا ایک غلام بھاگ کر روم کے علاقے میں چلا گیا ۔ مسلمانوں نے اس پر بھی غلبہ حاصل کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس لوٹا دیا ۔
[بخاري: 3067 ، كتاب الجهاد والسير: باب إذا غنم المشركون مال المسلم ثم وجده المسلم ، ابو داود: 2699 ، ابن ماجة: 2847 ، بيهقي: 110/9]
➌ سنن أبی داود کی ایک روایت میں ہے کہ ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام دشمن کی طرف بھاگ گیا پھر مسلمانوں نے اس پر غلبہ حاصل کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس لوٹا دیا اور اسے تقسیم نہیں کیا گیا ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2347 ، كتاب الجهاد: باب فى المال يصيبه العدو من المسلمين ، ابو داود: 2698]
اس مسئلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے:
(شافعیؒ ) جب وہی چیز مل جائے تو اصلی مالک ہی اس کا زیادہ مستحق ہے ۔
(علی رضی اللہ عنہ ، زہریؒ ، عمرو بن دینارؒ ) دشمن سے ملی ہوئی ہر چیز مال غنیمت کے طور پر تقسیم کی جائے گی اصلی مالک کو نہیں لوٹائی جائے گی ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، سلیمان بن ربیہ ، عطاء ، امام لیث ، امام مالک ، امام احمد ، اور فقہائے سبعہ رحمہم اللہ سے یہ روایت کیا گیا ہے کہ ”اگر معینہ چیز کا مالک اسے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے لیکن اگر وہ اسے تقسیم کے بعد پائے تو اسے صرف قیمتاََ ہی لے سکتا ہے ۔
ان کی دلیل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اسی معنی میں مرفوع روایت ہے ، لیکن وہ ضعیف ہے ۔ امام دارقطنیؒ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود فرمایا ہے کہ اس میں حسن بن عمارة راوی متروک ہے ۔
[دار قطني: 114/4 – 115 ، 39]
(ابو حنیفہؒ ) ان کا موقف امام مالکؒ کے ہم معنی ہے لیکن بھاگے ہوئے غلام کے متعلق یہ فرماتے ہیں کہ وہ ہر صورت میں صرف مالک کا ہی حق ہے ۔
[بدائع الصنائع: 4356/9 ، بداية المجتهد: 399/1 ، نيل الأوطار: 53/5 ، الروضة الندية: 743/2 ، آثار الحرب: ص / 613 ، القسطلاني شرح البخاري: 172/5]
(راجح ) امام شافعیؒ کا مؤقف حدیث کے زیادہ قریب ہے ۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے