سوال:
کسی کا مذاق اڑانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
کسی کا مذاق اڑانا حرام ہے، یہ اخلاقی برائی ہے، جو انسان کے کردار کو داغدار کر دیتی ہے، اس سے تکبر جنم لیتا ہے۔ اس کی حرمت پر امت کا اجماع ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ ۙ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(سورة التوبة: 79)
جو لوگ دل کھول کر صدقہ کرنے والے مومنوں پر اور ان پر جن کے پاس اپنی مزدوری کے سوا کچھ نہیں، طعن کرتے اور مذاق اڑاتے ہیں، اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے تکلیف دہ عذاب تیار ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
(سورة الحجرات: 11)
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں، نہ عورتیں عورتوں سے، ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں، اپنے بھائی پر عیب نہ لگاؤ، نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو، ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں، وہ ظالم ہیں۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ
ہر طعنہ دینے والے چغل خور کی ہلاکت ہے۔
(سورة الهمزة: 1)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا، المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله، ولا يحقره، التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام، دمه، وماله، وعرضه
آپس میں حسد نہ کریں، ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دیں، آپس میں بغض نہ رکھیں، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیریں، کوئی شخص کسی دوسرے کے سامان پر قبضہ نہ کرے، اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہیں، مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اسے رسوا نہیں کرتا اور اسے حقیر نہیں سمجھتا، تقویٰ یہاں ہے، راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین مرتبہ یہ بات دہرائی اور فرمایا: کسی انسان کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہیں۔
(صحيح مسلم: 2564)
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يدخل الجنة من كان فى قلبه مثقال ذرة من كبر، قال رجل: إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنة، قال: إن الله جميل يحب الجمال، الكبر بطر الحق، وغمط الناس
جس کے دل میں رائی کے دانے برابر تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، ایک آدمی نے عرض کیا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں، فرمایا: اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر سے مراد حق بات کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔
(صحيح مسلم: 91)
❀ علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
من فعل ما نهى الله عنه من السخرية والهمز والنبز فذلك فسوق، وذلك لا يجوز
اللہ تعالیٰ نے ٹھٹھہ مذاق کرنے، عیب جوئی اور نکتہ چینی کرنے سے منع کیا ہے، لہذا جس نے ایسا کیا، تو اس نے فسق کا ارتکاب کیا، یہ ناجائز ہے۔
(تفسير القرطبي: 155/12، 328/16)