مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کسی مخصوص جگہ دفن کرنے کی وصیت کا حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

کسی مخصوص جگہ دفن کرنے کی وصیت

سب سے پہلے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ اس نے وہ جگہ کیوں منتخب کی ہے؟ ممکن ہے اس نے کسی جھوٹے مزار یا ایسے مزار کے پہلو میں دفن ہونا منتخب کیا ہو جہاں شرک ہوتا ہے، یا اس جیسا کوئی حرام سبب ہو تو تب اس کی وصیت نافذ کرنا جائز نہیں، اگر وہ مسلمان ہو تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے لیکن اگر اس نے اس مقصد کے لیے نہیں بلکہ کسی دوسری غرض سے یہ وصیت کی ہے کہ اسے اس شہر یا علاقے میں منتقل کر دیا جائے، جہاں وہ رہتا رہا ہے تو ایسی وصیت پر عمل کرنے میں کوئی قباحت نہیں، اگر اس میں مال کا ضیاع نہ ہو۔ اگر اس میں مال کا ضیاع ہو اور اس کو نقل کرنے پر بہت زیادہ مال خرچ ہوتا ہو تو تب اس وصیت پر عمل نہ کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی زمین، اگر مسلمانوں کی ہے، تو ایک ہی ہے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 13/249]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔