کرشن، بدھ اور زردشت نبی تھے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 240
مضمون کے اہم نکات

سوال

کرشن، گوتم بدھ اور زردشت کے متعلق وضاحت کریں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کرشن، گوتم بدھ اور زردشت وغیرہ کے بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں ان کے متعلق کوئی تصریح موجود نہیں ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں اصولی بات

◈ قرآن کریم نے یہ اصولی وضاحت کی ہے کہ:
’’ہم نے ہر قوم اور ہر ملک میں کوئی نہ کوئی نبی اور ہادی و نذیر بھیجا ہے۔‘‘
◈ قرآن میں بعض انبیاء کا ذکر آیا ہے اور بعض کا نہیں۔
◈ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں بھی انبیاء ضرور مبعوث ہوئے ہوں گے۔

لیکن کیا یہ مذکورہ شخصیات (کرشن، گوتم بدھ، زردشت) انبیاء میں شامل ہوسکتی ہیں؟ اس بارے میں ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور ثبوت موجود نہیں۔

ممکنہ صورت

◈ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ واقعی نبی ہوں، لیکن بعد میں لوگوں نے ان کی تعلیمات میں بگاڑ پیدا کر کے کفر و شرک کی ملاوٹ کردی ہو۔
◈ بالکل اسی طرح جیسے یہود و نصاریٰ نے کیا کہ:
✿ ان کا اصل دین صحیح تھا۔
✿ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد انہوں نے تورات و انجیل میں تحریف کردی اور تعلیمات کو بدل ڈالا۔

لہٰذا ممکن ہے کہ یہ ہستیاں اصل میں نبی رہی ہوں لیکن بعد میں ان کی امتوں نے راہِ حق کو چھوڑ دیا۔ بہرحال، اب ان کتابوں میں تحریف ہوچکی ہے، اس لیے ان میں حق کی تلاش کرنا بےکار ہے۔

حق کہاں محفوظ ہے؟

حق صرف اور صرف قرآن کریم میں محفوظ ہے۔
◈ اسی بنا پر یہ بھی امکان ہے کہ یہ شخصیات نبی نہ ہوں بلکہ محض فلسفی یا معلم وغیرہ ہوں۔
◈ چونکہ قرآن و سنت میں ان کے بارے میں کوئی صراحت موجود نہیں، اس لیے یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
◈ بہتر یہی ہے کہ اس سلسلے میں سکوت اور توقف اختیار کیا جائے۔ واللہ اعلم!

حضرت لقمان علیہ السلام کے بارے میں

◈ وہ ایک دانا، حکیم اور نیک بندے تھے۔
◈ قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ نیک صالح انسان تھے۔

حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں

◈ صحیح بات یہ ہے کہ وہ نبی تھے۔
◈ قرآن میں ان کا قول موجود ہے:
﴿وَمَا فَعَلْتُهُۥ عَنْ أَمْرِ‌ى﴾ (الكهف:٨٢)
’’اور یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کیا۔‘‘

◈ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صاحبِ وحی تھے، اور وحی صرف انبیاء پر آتی ہے۔
◈ مزید یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا، اور ظاہر ہے کہ ایک نبی کو نبی ہی کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاسکتا ہے، غیرنبی کے پاس نہیں۔

حضرت خضر علیہ السلام کی وفات

◈ حضرت خضر علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔
◈ اس کی دلیل یہ ہے کہ تمام انبیاء سے وعدہ لیا گیا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں اگر وہ زندہ رہے تو وہ آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے، جیسا کہ سورۃ آل عمران (پارہ 3، رکوع 9) میں ہے۔
◈ اگر حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہوتے تو یقیناً نبی اکرم ﷺ پر ایمان لاتے اور مدد کے لیے آتے، لیکن تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں۔
◈ لہٰذا وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔

زندہ انبیاء کے بارے میں عقیدہ

◈ قرآن و حدیث کے مطابق اس وقت صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔
◈ وہ آسمان پر ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔
◈ ان کے علاوہ کسی بھی نبی کے زندہ ہونے کی کوئی پختہ اور معتبر دلیل موجود نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب