مضمون کے اہم نکات
کرائے کی آمدنی پر زکوٰۃ کا حکم
سوال:
زید کے پاس ایک یا ایک سے زائد گاڑیاں ہیں جنہیں وہ کرایہ پر چلا کر آمدنی حاصل کرتا ہے۔ کیا ان گاڑیوں پر زکوٰۃ واجب ہے؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سوال کے مطابق زید کی گاڑیاں تجارتی مقصد کے لیے نہیں بلکہ مزدوری (آمدنی حاصل کرنے) کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس بنا پر ان گاڑیوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
حدیثِ نبوی کی روشنی میں
سنن ابی داود (حدیث نمبر: ۱۵۷۵) کی ایک حسن روایت میں یہ بیان ہوا ہے:
«فی کل سائمة ابل فی اربعین بنت لبون»
یعنی جنگل میں چرنے والے ہر چالیس اونٹوں پر ایک بنت لبون (زکوٰۃ کے طور پر) واجب ہے۔
اس حدیث سے استنباط
◈ امام دارمی نے کتاب الزکوٰۃ، باب ۳۶، حدیث نمبر ۱۶۸۴ میں
◈ اور امام ابن خزیمہ نے (۱۸/۴، حدیث نمبر ۲۲۶۶) میں
یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ عوامل ابل یعنی وہ اونٹ جو کمائی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
اہلِ علم کی رائے
◈ مولانا عبدالرحمن کیلانی کا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ اگر کوئی جانور یا چیز کمائی کے لیے استعمال ہو رہی ہو، نہ کہ خرید و فروخت کے لیے، تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب