وضاحت شبہ
مضمون کے اہم نکات
حدیث کا معتبر ترین مجموعہ جسے صحاحِ ستہ کہا جاتا ہے، ان کے مصنفین غیر عرب کیوں ہیں؟ کوئی ایران سے، کوئی ازبکستان سے تو کوئی ترکمانستان سے جبکہ دینِ اسلام تو عربی زبان میں ہے۔ کیا یہ محض حسنِ اتفاق ہے یا عجمیوں نے عرب کے ہاتھوں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے حدیثوں کے نام پر ایک نئی چیز دین میں داخل کر دی ہے!!
جواب شبہ
پہلی بات
یہ دعویٰ کہ کتبِ ستہ کے تمام مصنفین غیر عرب تھے، درست نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے ان میں سے بعض عرب ہیں جیسے امام مسلم جن کا تعلق مشہور عربی قبیلہ ’بنو قشیر‘ سے ہے جو کہ عدنانی عرب قبیلہ ہے۔ اسی مناسبت سے انکی نسبت قشیری ہے۔ اسی طرح امام ابو داود کا تعلق ’بنو ازد‘ سے ہے جو کہ قحطانی قبیلہ ہے اور قحطان عرب ہیں۔ اسی طرح امام ترمذی کا تعلق ’بنو سُلیم‘ سے ہے جو کہ عدنانی قبیلہ ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ کتبِ ستہ کے مصنفین تمام کے تمام عجم تھے غلط ہے۔
حوالہ جات: جمهرة أنساب العرب لابن حزم (289 ، 261 ، 330) عروبة العلماء المنسوبين إلى البلدان الأعجمية لناجي معروف (1/ 271) (1/ 289) (1/ 295).
دوسری بات
اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ تمام کے تمام عجم تھے تب بھی حدیث کی صحت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ حدیثِ نبوی (ﷺ) دین ہے اور کسی کے نزدیک بھی دین کی خدمت کے لئے اس فرد کا کسی خاص نسل یا قوم سے ہونا شرط نہیں ہے۔ دینِ اسلام ایک عالمی اور آفاقی دین ہے اور یہ اس دین كى ہی خوبی ہے کہ اس نے رنگ و نسل کے اس فرق کو مٹانے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا جس کی سب سے اعلیٰ مثال نبی ﷺ کے حجۃ الوداع کا خطبہ ہے۔
تیسری بات
اگر کسی عجمی کا احادیث کو جمع کرنا حدیث کو مشکوک بناتا ہے تو پھر دین کے باقی علوم جن میں سرِ فہرست خود عربی زبان ہے کیوں کر قابلِ اعتبار ہو سکتے ہیں کیونکہ انكی خدمت کا سہرا بھی عجمیوں کے سر ہے! عجمیوں میں سے عربی زبان و ادب کے بڑے ائمہ میں سے چند یہ ہیں:
◄ سیبویہ (فارسی)
◄ ابنِ جنی (رومی غلام)
◄ ابو علی الفارسی
◄ مشہور عربی لغت (ڈکشنری) ’’مقاییس اللغۃ‘‘ کے مصنف احمد بن فارس (فارسی)
◄ ابو منصور الثعالبی (نیشاپور)
◄ مشہور عربی لغت (ڈکشنری) ’’القاموس المحیط‘‘ کے مصنف محمد بن یعقوب فیروز آبادی۔
چوتھی بات
ان محدثین کا تعلق جن علاقوں سے تھا وہ اس طرح عجم نہیں تھے جس طرح آج ہیں بلکہ مسلمانوں کی فتوحات کے نتیجہ میں بہت سے عرب قبائل وہاں جا کر آباد ہوئے اور عربی زبان کا نفاذ ہوا کیونکہ عربی دین کی زبان بھی تھی اور سرکاری زبان بھی۔ ان علاقوں کی تاریخ پر لکھی جانے والی کتابوں کے مطالعے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں عربی زبان خوب پروان چڑھی۔ بہت سے ایسے ممالک جنہیں آج عرب ممالک میں شمار کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ سے عرب نہیں تھے بلکہ غیر عرب سلطنتوں کے زیرِ اثر تھے۔ مسلمانوں کی فتوحات کے نتیجے میں عرب کہلائے۔ آج عرب ممالک وہ ممالک کہلاتے ہیں جہاں عربی زبان بولی جاتی ہے۔ اس کے زیادہ تر علاقہ شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا پر مشتمل ہے جس میں عرب لیگ کے 22 ممالک شامل ہیں۔
پانچویں بات
اس شبہ کے پیچھے یہ غلط فہمی کار فرما ہے کہ کتبِ ستہ حدیث کی پہلی کتابیں ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ احادیث کی جمع و تدوین کا سلسلہ عرب ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ مشہور خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے یہ حکم نامہ جاری کیا تھا:
انْظُرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَاكْتُبُوهُ، فَإِنِّي قَدْ خِفْتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَ أَهْلِهِ. [سنن الدارمي : 495]
نبیﷺ کی احادیث کو دیکھو اور انہیں لکھ لو کیونکہ مجھے علم مٹنے اور علماء کے چلے جانے کا خدشہ ہے۔
حدیث کی ان چھ کتابوں سے پہلے کئی کتابیں لکھی جا چکی تھیں جن میں بہت سی کتب کے مصنفین عرب تھے۔ جیسے موطأ امام مالک و مسند احمد وغیرہ۔ امام مالک بن انس (وفات 179هـ) اور امام احمد بن حنبل (وفات 241 هـ) دونوں عرب تھے۔ اسی طرح ’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ جو جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہمام بن منبہ کا جمع کردہ اور کتبِ ستہ کے بعد منظرِ عام پر آیا ہے۔ اس صحیفے میں موجود احادیث کا کتبِ ستہ سے جب تقابل کیا گیا تو ان دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ اسکے علاوہ بھی صحابہ و تابعین کے جمع کردہ بے شمار صحیفے کتبِ ستہ سے پہلے موجود تھے۔ الغرض کتبِ ستہ کے مصنفین نے کوئی نئی احادیث درج نہیں کیں بلکہ سابقہ صحیفوں اور کتابوں میں جو احادیث متفرق اور بکھری ہوئی تھیں انہی احادیث کو ایک جگہ مرتب کر کے جامع کتب تیار کیں۔
دیگر عرب مصنفين جنہوں نے كتبِ حديث لکھیں ان ميں سے بعض مشہور نام بھی ملاحظہ ہوں:
◈ امام محمد بن حسن الشيبانى (وفات 189)
◈ امام عبد الله بن الزبير الحميدى (وفات 219)
◈ امام ابو بكر احمد البزار (وفات 292)
◈ ابو يعلى الموصلى (وفات 307)
◈ امام طحاوى (وفات 321)
◈ امام طبرانى (وفات 360)
◈ امام دار قطنى (وفات 385)
چھٹی بات
کتبِ ستہ کے مصنفین نے یہ کتابیں اپنے علاقوں میں بیٹھ کر نہیں لکھیں بلکہ ان کی حالاتِ زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احادیث کو جمع کرنے کے لئے عرب شہروں اور علاقوں کے سفر کئے اور وہاں پر موجود عرب محدثین سے احادیث کو جمع کیا۔ اس طرح احادیث کا یہ مبارک سلسلہ عرب ہی تک جا پہنچتا ہے۔ عجم نے عرب سے سن کر اسے ایک جگہ جمع کیا ہے۔ امام بخاری اپنے بارے میں فرماتے ہیں:
لَقِيتُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَهْلِ الْحِجَازِ وَمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَالْكُوفَةِ وَالْبَصْرَةِ وَوَاسِطَ وَبَغْدَادَ وَالشَّامِ وَمِصْرَ … وَلَا أُحْصِي كَمْ دَخَلْتُ الْكُوفَةَ وَبَغْدَادَ مَعَ مُحَدِّثِي أَهْلِ خُرَاسَانَ. [شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة لللالكائي : 1/ 193]
میں ایک ہزار اہلِ علم سے ملا ہوں جن کا تعلق حجاز، مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ، واسط، بغداد، شام اور مصر سے تھا۔۔۔ اسی طرح کتنی بار میں خراسان کے محدثین کے ساتھ کوفہ اور بغداد گیا اسکا تو کوئی شمار ہی نہیں!
اس قول میں موجود جتنے بھی شہروں کے نام ہیں سب عرب ہیں۔