مضمون کے اہم نکات
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حدثنا إسحاق الواسطي قال: حدثنا خالد بن عبدالله عن خالد عن أبى قلابة أنه رأى مالك بن الحويرث إذا صلى كبر ورفع يديه وإذا أراد أن يركع رفع يديه وإذا رفع رأسه من الركوع رفع يديه وحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع هكذا
صحیح البخاری:102/1 حدیث 737 احادیث، وصحیح مسلم: 168/1 حدیث91، ولفظ مسلم فى الآخر: وحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل هكذا
ابو قلابہ تابعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب وہ نماز پڑھتے تھے تو اللہ اکبر کہتے اور رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے رفع یدین کرتے، اور حدیث بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا، اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ اور حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہی) کرتے تھے۔
تبصرہ: اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے، اس کے مقابلے میں کسی صحیح حدیث میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد کی صراحت کے ساتھ ترک رفع یدین یا عدم رفع یدین قطعاً ثابت نہیں ہے۔
نماز میں رفع الیدین کا مسئلہ انتہائی اہم اور معرکۃ الآراء مسئلہ ہے، اہل سنت کے اکابر علماء نے اس مسئلے کے اثبات پر کتابیں لکھی ہیں مثلاً امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب: جزء رفع الیدین۔ لیکن اہل سنت کے کسی بڑے عالم نے ترک رفع یدین پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔
راقم الحروف نے «نور العینین فی اثبات رفع الیدین» کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، اس کتاب میں رفع الیدین کا اثبات اور مخالفین کے شبہات کا مسکت جواب دے دیا ہے، ابھی تک کسی طرف سے اس کتاب کا جواب نہیں آیا۔ والحمد لله
انوار خورشید دیوبندی نے اہل حدیث کے خلاف ایک کتاب لکھی ہے «حدیث اور اہل حدیث» اس کتاب میں انھوں نے ترک رفع یدین کا باب باندھ کر رفع یدین کا مسئلہ بھی چھیڑا ہے، راقم الحروف نے «نور القمرین» کے نام سے اس کا مکمل جواب لکھا تھا جو چھپ کر پھیل چکا ہے، نور القمرین میں انوار صاحب کے تمام شبہات کا مسکت و دندان شکن جواب دے دیا گیا ہے، انھوں نے جواب الجواب میں خاموشی اختیار کی۔ عام مسلمانوں کو نور القمرین سے بہت فائدہ پہنچا۔ اب اسی جواب کو انوار خورشید صاحب کی اصل عبارتوں کے ساتھ، طبع جدید کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔
نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین متواتر ہے۔ (دیکھیں نظم المتواتر من الحدیث المتواتر ص 96، 97، لقط المتواترة في الأحادیث المتواترة ص 207، قطف الأزهار المتناثرة للسیوطی ص 31-32)
ترک رفع یدین یا عدم رفع یدین نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے۔ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی 2/75 وسندہ صحیح) اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری اس کتاب کو کتاب وسنت کی نشر واشاعت اور میرے لیے ذخیره آخرت بنادے۔ آمین
حافظ زبیر علی زئی (8 اگست 2004ء)
مسئلہ رفع الیدین اور حدیث اور اہل حدیث
انوار خورشید دیوبندی نے اپنی کتاب «حدیث اور اہل حدیث» میں ترك رفع اليدين فى غير الافتتاح کے باب کے تحت اڑتیس (38) مرفوع احادیث اور چند آثار صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین و آثار تابعین پیش کر کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ
تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرنا چاہیے۔
اس مختصر مضمون میں ان کے دلائل مذکورہ کا جائزہ اور اثبات رفع الیدین کے چند دلائل پیش خدمت ہیں:
سب سے پہلے عرض یہ ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرنا چاہیے تو حنفی و بریلوی و دیوبندی حضرات وتر اور عیدین میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟ اگر وہ کہیں کہ وتر وعیدین کے رفع الیدین کی تخصیص دوسرے صحیح دلائل سے ثابت ہے تو عرض ہے کہ رکوع سے پہلے، رکوع کے بعد اور دو رکعتوں کے بعد والے رفع الیدین کی تخصیص بھی دوسرے صحیح دلائل سے ثابت ہے لہذا اس سنت صحیحہ سے انکار کیوں؟ اب انوار خورشید دیوبندی صاحب کے دلائل اور ان پر مختصر تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:
حدیث نمبر 1 :

تبصرہ:
➊ مسند ابی عوانہ کا موجودہ مطبوعہ نسخہ ہندوستانی دیوبندیوں کا شائع کردہ ہے جسے انھوں نے متعدد نسخوں سے شائع کیا ہے جن میں ایک نسخہ شاہ احسان اللہ السندھی رحمہ اللہ کے المكتبة الراشدية کا ہے۔ (صحیح ابی عوانہ: 423/1)
اس نسخہ کے (ص312) پر مذکورہ بالا حدیث موجود ہے جس کا متن اس طرح ہے:
وبعد ما يرفع رأسه من الركوع ولا يرفعهما وقال بعضهم ولا يرفع بين السجدتين والمعنى واحد
یہی متن انوار صاحب کی حدیث اور اہل حدیث (طبع چہارم) کے ص 912 پر موجود ہے صحیح ابی عوانہ کا ایک دوسرا نسخہ الجامعة الاسلامية مدینہ منورہ میں موجود ہے اس میں بھی نسخہ راشدية جیسا متن ہے۔
لہذا ثابت ہوا کہ دو قلمی نسخوں میں واو موجود ہے جسے ہندوستانی ناشرین نے اڑا دیا ہے۔ اس کے بعد دنیا میں جہاں کہیں بھی صحیح ابی عوانہ چھپی ہے، ہندوستانی نسخہ کا عکس ہے۔
➋ صحیح ابی عوانہ کی مذکورہ بالا روایت صحیح مسلم (ج 1 ص 168 ح 390) وغیرہ میں بھی واو کے اثبات کے ساتھ موجود ہے۔
➌ روایت مذکورہ میں امام ابوعوانہ کے کم از کم تین اساتذہ ہیں:
⟐ عبد اللہ بن ایوب
⟐ سعدان بن نصر
⟐ شعیب بن عمرو ان میں سے سعدان بن نصر کی روایت السنن الکبری للبیہقی (69/2) میں اثبات رفع الیدین اور واو کے اثبات کے ساتھ موجود ہے۔
➍ امام ابو عوانہ فرماتے ہیں:
حدثنا الربيع بن سليمان عن الشافعي عن ابن عيينة بنحوه إلخ (90/2)
یہ روایت کتاب الام للشافعی (103/1) میں واو کے اثبات اور رفع الیدین کے ثبوت کے ساتھ موجود ہے۔ امام ابو عوانہ در اصل راویوں کا اختلاف بیان کر کے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ بعض راویوں نے ولا يرفع بين السجدتين [السنن الکبری للبیہقی 69/2، کتاب الام 103/1] اور بعض نے ولا يرفعهما بين السجدتين کے الفاظ بیان کئے ہیں، جبکہ والمعني واحد مفہوم ایک ہے۔ (صحیح مسلم 168/1 ح 390)
امام ابوعوانہ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ کتاب الام للشافعی، وغیرہ میں یہی روایت اثبات رفع الیدین کے ساتھ موجود ہے۔
➎ راقم الحروف نے اپنی کتاب «نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین» میں یہ ثابت کیا ہے کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے یہی روایت تیس (30) سے زیادہ اماموں اور راویوں نے اثبات رفع الیدین کے ساتھ نقل کی ہے۔ اسی طرح امام زہری رحمہ اللہ سے یہی روایت تواتر کے ساتھ ثابت ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فإن الرواية عن الزهري بهذا السند بالغة مبلغ القطع بإثبات الرفع عند الركوع وعند الإعتدال وهى فى الموطأ وسائر كتب أهل الحديث (لسان المیزان 289/5 ترجمه محمد بن عکاشہ)
امام حازمي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وممن رواه الزهري عن سالم ولم يختلف فيه عليه ولا اضطراب فى متنه اور سالم سے روایت کرنے والوں میں زہری بھی ہیں۔ اس روایت میں ان پر اختلاف نہیں کیا گیا اور نہ اس روایت کے متن میں کوئی اضطراب ہے۔ (مقدمة كتاب الاعتبار في الناسخ والمنسوخ من الآثار ص 16 الوجه التاسع عشر دوسرا نسخه ص 21)
➏ امام ابوعوانہ نے اس حدیث پر رفع الیدین کے اثبات کا باب باندھا ہے لہذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس باب کے تحت وہ رفع الیدین نہ کرنے کی کوئی روایت لے آئیں۔
ایک شخص دکان پر بورڈ لگاتا ہے «گوشت کی دکان» جبکہ وہ دکان کے اندر منیاری کا سامان سجائے بیٹھا ہے۔ کیا کوئی شخص اسے صاحب عقل تصور کر سکتا ہے؟ جب عام آدمی ایسا نہیں کرتا تو امام ابو عوانہ سے اس کا صدور کس طرح ممکن ہے؟
➐ عصر حاضر سے پہلے کسی حنفی نے ابو عوانہ کی روایت مذکورہ سے استدلال نہیں کیا اگر ایسی کسی روایت کا وجود ہوتا تو اسلاف حنفیہ اس سے ضرور استدلال کرتے۔
➑ اس روایت میں ولا يرفع اور ولا يرفعهما دونوں سے سجدوں والے رفع الیدین کی نفی ہے، رکوع والے کی نہیں۔
➒ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے متعدد ثقہ راویوں نے اثبات رفع الیدین نقل کیا ہے مثلاً سالم بن عبد اللہ، نافع اور محارب بن دثار رحمہم اللہ وغیرہم۔
➓ ابن عمر رضی اللہ عنہما جس شخص کو دیکھتے کہ رفع الیدین نہیں کرتا تو اسے کنکریاں مارتے تھے۔( جزء رفع الیدین ص 53 ح15صحیح النووی في الجموع شرح المهذب 405/3)
حدیث نمبر 2:

تبصرہ:
➊ مسند حمیدی کا موجودہ نسخہ حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی نے نسخہ دیوبند (نوشتہ 1324ھ) سے شائع کیا ہے۔ [مسند حمیدی ج 1 ص 3 مقدمہ]
اعظمی صاحب نے (ص 24 مقدمہ کے بعد) مکتبہ ظاہریہ دمشق کے نسخہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کا سن نوشت 689ھ ہے۔ [مقدمہ مسند حمیدی 19/1]
نسخہ ظاہریہ کے مذکورہ نسخہ کی مکمل فوٹوسٹیٹ میرے پاس موجود ہے۔ اس کے صفحہ 100 پر مذکورہ بالا حدیث درج ذیل متن کے ساتھ موجود ہے:
وبعد ما يرفع رأسه من الركوع ولا يرفع بين السجدتين
یعنی اس میں فلا يرفع کے الفاظ نہیں ہیں۔
➋ مدینہ یونیورسٹی سے میرے عرب طالب علم دوستوں نے مکتبہ ظاہریہ کا ایک دوسرا مسند حمیدی کا (مکمل) نسخہ بھیجا ہے جس کا سن نوشت تقریباً ساتویں صدی ہجری ہے۔ اس پر امام ابن قدامہ وغیرہ کے سماعات بھی ہیں۔ اس نسخہ کے ص 128 الف پر یہی روایت:
وبعد ما يرفع رأسه من الركوع ولا يرفع بين السجدتين
کے متن کے ساتھ موجود ہے۔ فلا يرفع کے الفاظ نہیں۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ متن حدیث میں فلا يرفع کا لفظ تیرھویں اور چودھویں صدی کے ہندوستانی ناسخین کا وہم ہے۔
➌ مسند حمیدی کا موجودہ نسخہ (تحقیق الاعظمی) غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے مسند الحمیدی کی تحقیق میں جسے (دار السلام ریاض، لاہور) سے (ان شاء اللہ) شائع کیا جا رہا ہے اس نسخہ کی تقریباً چار سو اغلاط کی نشاندہی کی ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ بطور تجربہ اعظمی صاحب کے نسخہ کا کوئی صفحہ نکالیں اور حاشیہ پڑھیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر صفحہ پر غلطی اور غلطیاں موجود ہیں۔ مثلاً ج 1 ص 222ح 469 پر أخبرني أبو الشعثاء جابر بن زيد قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ہے حالانکہ یہ سند قطعاً غلط ہے۔
جابر بن زید تابعین ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات بالکل ثابت نہیں ہے۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں ورنہ میں ایسی بہت سی مثالیں ذکر کرتا۔ لہٰذا ایسے غلط نسخہ کی بنیاد پر صحیح متفق علیہ احادیث کو تار پیڈو کرنا انتہائی مذموم حرکت ہے۔
➍ عصر حاضر سے پہلے کسی حنفی نے یہ روایت اپنے استدلال میں پیش نہیں کی۔
➎ سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ سے رفع الیدین کا اثبات بالتواتر ہے۔
➏ زہری رحمہ اللہ سے رفع الیدین کا اثبات متواتر ہے۔
➐ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے متعدد شاگردوں نے رفع الیدین کا اثبات نقل کیا ہے۔
➑ ابن عمر رضی اللہ عنہما رفع الیدین نہ کرنے والوں کو کنکریاں مارتے تھے۔
➒ کسی کتاب کے اگر کسی نسخہ سے کوئی مختلف فیہ روایت نقل کی جائے تو اس کتاب کے دوسرے موجودہ نسخوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ص 202 مقدمہ ابن الصلاح
➓ امام حمیدی سے مروی ہے کہ جو شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث معلوم ہو جانے کے بعد بھی رفع الیدین نہ کرے تو اس کی نماز فاسد یا ناقص ہے۔ [دیکھیے التمہید 225/9]
جب امام حمیدی رفع الیدین کے وجوب کے قائل ہیں تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ رفع الیدین کے خلاف روایت بیان کریں؟
حدیث نمبر 3:

تبصرہ:
نصب الرایہ کے مذکورہ بالا صفحہ پر اس حدیث کے بعد لکھا ہوا ہے:
قال البيهقي: قال الحاكم: هذا باطل موضوع، ولا يجوز أن يذكر الاعلي سبيل القدح
بیہقی نے کہا: حاکم نے کہا: یہ روایت باطل موضوع ہے اور بغیر اس پر جرح کے اس روایت کا ذکر جائز نہیں ہے۔
یعنی یہ روایت باطل اور من گھڑت ہے۔ انوار خورشید دیوبندی نے روایتی مقلدین کی طرح خاموشی کے ساتھ اس جرح کو چھپا لیا ہے۔
حدیث نمبر 4:

تبصرہ:
اس حدیث میں رفع الیدین نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ کی کتاب «معرفة السنن والآثار» (541،540/1 ح 759 طبع بیروت لبنان) میں ابن وہب کی یہی روایت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع الیدین کے اثبات کے ساتھ موجود ہے۔( نیز دیکھیے التمہید 211،210/9)
”المدونۃ الکبری“ امام مالک کی کتاب نہیں ہے۔ صاحب مدونہ ”سحنون“ تک متصل سند نا معلوم ہے لہذا یہ ساری کتاب بے سند ہے۔ ایک مشہور عالم ابو عثمان سعید بن محمد بن صبیح بن الحداد المغربی صاحب سحنون، جو کہ مجتہدین میں سے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء 205/14)
انھوں نے مدونہ کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے۔ (ایضاً 207)
وہ مدونہ کو ”مدوّدہ“ یعنی کیڑوں والی کتاب کہتے تھے۔ (العمر في خبر من عبر 1/443 وفیات سنہ 302ھ)
عبد الرحمن بن قاسم نے امام مالک سے جو مسائل بیان کئے ہیں ان کے بارے میں امام ابوزرعہ الرازی نے فرمایا: فالناس يتكلمون فى هذه المسائل پس لوگ ان مسائل پر جرح کرتے ہیں۔ [کتاب الضعفاء لابی زرعہ الرازی ص534]
حدیث نمبر 5:

تبصرہ:
➊ اس روایت سے ترک رفع الیدین ثابت نہیں ہوتا۔
➋ خود ابن عباس رضی اللہ عنہما سے باسند صحیح رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ 1/235 ح 2431 وسندہ حسن، جزء رفع الیدین للبخاری: 21]
➌ انوار خورشید صاحب کی پیش کردہ کتاب كشف الاستار کے حاشیہ پر حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی لکھتے ہیں:
قال الهيثمي وفيه ابن أبى ليلى وهو سيء الحفظ
یعنی اس کے راوی ابن ابی لیلیٰ کا حافظہ خراب تھا۔ [مجمع الزوائد ج 2 ص 103]
نیز اسی صفحہ پر محدث ہزار کی جرح بھی موجود ہے۔
➍ انورشاہ کشمیری (دیوبندی) اس راوی محمد بن ابی لیلیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں:
فهو ضعيف عندي كما ذهب إليه الجمهور
یعنی وہ میرے نزدیک اور جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ (فیض الباری 168/3)
➎ اس کا ایک راوی الحکم بن عتیبہ مدلس ہے۔ [اسماء المدلسین السیوطی ص 96]
مدلس راوی کے بارے میں سرفراز خان صاحب فرماتے ہیں:
مدلس راوی عن سے روایت کرے تو وہ حجت نہیں الا یہ کہ وہ تحدیث کرے یا اس کا کوئی ثقہ متابع ہو مگر یاد رہے کہ صحیحین میں تدلیس مضر نہیں وہ دوسرے طرق سے سماع پر محمول ہے۔ (مقدمہ نووی ص 18، فتح المغیث ص 77 و تدریب الراوی ص 144)
حدیث نمبر 6:

تبصرہ:
➊ اس روایت میں رفع الیدین کے نہ کرنے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ نیز دیکھیے حدیث سابق: 5
➋ عطاء بن السائب رحمۃ اللہ علیہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔ [الكواكب النيرات ص 61 تا ص 65]
میرے علم میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ورقاء نے عطاء سے قبل از اختلاط سماع کیا تھا۔
حدیث نمبر 7 تا 14:




تبصرہ:
➊ ان تمام روایات میں سفیان ثوری ہیں جو کہ ہر سند میں «عن» سے روایت کر رہے ہیں۔ ابن الترکمانی حنفی لکھتے ہیں: الثوري مدلس وقد عنعن ثوری مدلس ہیں اور انھوں نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے۔ [الجوہر النقی: 362/8]
سرفراز خان صفدر صاحب حیاتی دیوبندی، ماسٹر امین اوکاڑوی حیاتی دیوبندی، شیر محمد صاحب مماتی دیوبندی، محمد شریف صاحب کوٹلوی بریلوی اور نیموی وغیرہم نے بھی سفیان ثوری کا مدلس ہونا تسلیم کیا ہے۔
(خزائن السنن 77/2، مجموعہ رسائل 331/3، آئینہ تسکین الصدور ص 92،90 وغیرہ، فقہ الفقیہ ص134، آثار السنن ص 126 تحت ح384 وفی نسخہ أخرى ص194)
مدلس راوی کے عنعنہ کے بارے میں سرفراز خان صفدر دیوبندی کی تحقیق حدیث 5 جواب 5 میں گزر چکی ہے۔ احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمد میں مردود و نا مستند ہے۔ [فتاوی رضویہ 245/5]
اور مزید لکھتے ہیں اور عنعنہ مدلس اصول محدثین پر نا مقبول (ص 266 ایضا)
حدیث نمبر 15:

تبصرہ:
جامع المسانید میں اس کی سند درج ذیل ہے:
أخرجه أبو محمد البخاري عن رجاء بن عبد الله النهشلي عن شقيق بن إبراهيم عن أبى حنيفة رضي الله عنه
اس کا پہلا راوی ابو محمد البخاری الحارثی کذاب ہے۔ (دیکھیے الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث ص 238، میزان الاعتدال 496/2، لسان المیزان 3/348، 349)
دوسرا راوی نامعلوم اور تیسرا متکلم فیہ ہے لہذا یہ سند موضوع و باطل ہے۔
حدیث نمبر 16 تا 21 اور 23:




تبصرہ:
➊ اس کا راوی یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں:
يزيد بن أبى زياد وهو ضعيف [تفسیر ابن کثیر: 113/4]
نماز پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مصنف محمد الیاس فیصل لکھتے ہیں :
”زیلعی فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔“ (ص 85)
”نبوی نماز مدلل سندھی“ جلد اول کے مصنف علی محمد صاحب حقانی دیو بندی فرماتے ہیں:

(ص169) اس کا مفہوم الیاس فیصل صاحب کے الفاظ میں اس سے پہلے گزر چکا ہے۔
➋ یزید بن ابی زیاد مدلس ہے۔ [اسماء المدلسین للسیوطی ص 107]
اور رفع الیدین نہ کرنے والی روایت( لم یعد وغیرہ) کی کسی سند میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ امام شعبہ کی جس سند میں سماع کی تصریح ہے اس میں تکبیر اولی کے بعد دوبارہ رفع الیدین کرنے کی نفی موجود نہیں ہے۔
➌ یزید بن ابی زیاد کا آخری عمر میں حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ [ملحق الكواكب النيرات ص 509-510 للشیخ عبد القیوم عبدرب النبی]
یزید نے یہ روایت اختلاط کے بعد بیان کی ہے۔ [سنن دار قطنی 294/2]
➍ محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ” لم یعد “ کا قول یزید بن ابی زیاد کا مدرج قول ہے۔ نیل الاوطار 2/180۔ نیز دیکھیے المدرج إلى المدرج للسيوطي ص 16، الخيص الحبير 2/221
➎ متعدد محدثین مثلاً امام یحییٰ بن معین وغیرہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے اس کتاب کے سابقہ صفحات دیکھیں۔
حدیث نمبر 22 ، 24 تا 28 :



تبصرہ :
محمد بن أبي ليلى ضعیف ہے جیسا کہ حدیث 5 پر تبصرہ نمبر 3۔4 میں گزر چکا ہے۔
طحاوی حنفی بھی اسے مضطرب الحفظ جدا کہتے ہیں۔ [مشکل الآثار 3/226]
ابن أبي ليلى نے یہ روایت یزید بن أبي زياد سے سنی تھی۔ (دیکھیے کتاب العلل لأحمد بن حنبل 1/143)
حدیث نمبر 29:

تبصرہ :
اس روایت میں تکبیر اولیٰ کے بعد رفع الیدین نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ سنن أبي داود کے اسی نسخہ میں حدیث 738 پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس میں وہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین نقل کرتے ہیں۔ (جلد 1 ص 108)
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ (344/1 ،345 ح 695)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا : هذا حديث صحيح [موافقة الخبر الخبر 1/409،410]
حدیث نمبر 30:

تبصرہ :
اس روایت میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع الیدین کے ترک کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اصول میں یہ بات مقرر ہے کہ عدم ذکر نفی ذکر کے لیے مستلزم نہیں ہوتا۔ (دیکھیے الدراية مع الهداية ص 1/177، الجوهر النقي 4/317 وغیرہما)
اس سے پہلی حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کا اثبات گزر چکا ہے۔
خودا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی رفع الیدین ثابت ہے۔ (جزء رفع الیدین ص 22ح 22، واسنادہ صحیح )
بلکہ ایک روایت میں ان سے یہ بھی آیا ہے:
أقسم بالله إن كانت لهي صلاته حتى فارق الدنيا (المعجم لابن الاعرابی 1/226)
اس کے راوی محمد بن احمد بن عصمہ الرملی کے حالات نہیں ملے لیکن مسند الشامیین للطبرانی (35/2) میں بعض حدیث میں اس کی متابعت موجود ہے۔ تفصیلی بحث آگے آرہی ہے۔ ان شاء اللہ
حدیث نمبر 31:

تبصرہ:
➊ اس روایت پر امام دارقطنی نے جرح کرتے ہوئے فرمایا ہے:
ووهم فى رفعه یعنی اسے مرفوع بیان کرنے میں وہم ہوا ہے۔ [العلل الواردة 107/4]
➋ دوسرے یہ کہ العلل الواردۃ میں عبد الرحیم مذکور تک سند غیر موجود ہے لہذا یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
حدیث نمبر 32:

تبصرہ:
اس روایت میں ترک رفع الیدین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ روایت باطل ہے۔ کامل ابن عدی کے صفحہ مذکورہ سے پہلے (ص 2085 پر) امام بخاری رحمہ اللہ کا قول موجود ہے کہ: كثير بن عبد الله أبو هاشم الأبلي منكر الحديث عن أنس اور امام نسائی کا قول لکھا ہوا ہے:
كثير أبو هاشم يروي عن أنس: متروك الحديث
امام بخاری کا کسی راوی پر «منکر الحدیث» کی جرح کرنا (ان کے نزدیک) شدید جرح ہے۔ (دیکھیے میزان الاعتدال 6/1 وغیرہ بحوالہ قواعد فی علوم الحدیث تصنیف ظفر احمد تھانوی دیوبندی ص 157 حاشیہ نمبر ابی غدہ)
بلکہ تہذیب التہذیب (418/8 وفی نسخہ ص 374) میں لکھا ہوا ہے:
وقال الحاكم: زعم أنه سمع من أنس، روى عنه أحاديث يشهد القلب أنها موضوعة اور حاکم نے کہا: اس نے انس سے سننے کا دعویٰ کیا ہے، اس نے آپ سے ایسی حدیثیں بیان کی ہیں جن کے بارے میں دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ موضوع ہیں۔
حدیث نمبر 33:

تبصرہ:
یہ روایت بالکل صحیح ہے۔ لیکن اس میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے ترک کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ محمد بن عمرو بن عطاء کی یہی روایت ایک دوسری سند کے ساتھ رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے اثبات کے ساتھ سنن ابی داود (106/1 ح 730)، سنن ترمذی (1/67 ح 304) میں بھی موجود ہے۔ اسے امام ابن خزیمہ (587-588)، امام ابن حبان (الموارد: 491، 442-492) وغیرہما نے صحیح کہا ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هذا حديث حسن صحيح اسے امام بخاری رحمہ اللہ، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام ابن قیم رحمہ اللہ وغیرہم نے بھی صحیح کہا ہے۔ لہذا انوار خورشید صاحب کا مفصل روایت کو چھوڑ کر مختصر روایت سے استدلال صحیح نہیں ہے۔ یاد رہے کہ حدیث مذکورہ کا راوی عبد الحمید بن جعفر اکثر علماء کے نزدیک ثقہ ہے۔ [نصب الرایہ 344/1]
حدیث نمبر 34:

تبصرہ:
اس روایت کے ایک راوی شہر بن حوشب پر کافی کلام ہے لیکن قولِ راجح میں وہ حسن الحدیث ہے کیونکہ وہ جمہور کے نزدیک موثق ہے۔ عرض ہے کہ اس میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے ترک کا کہاں ذکر ہے؟ خواہ مخواہ عدم ذکر والی روایت کو نقل کر کے اپنی کتاب کا حجم بڑھا دینا کون سے دین کی خدمت ہے؟
حدیث نمبر 35:

تبصرہ:
➊ اس کی سند کے ایک راوی ”محمد بن اسحاق“ کا تعین مطلوب ہے۔ یہ وضاحت کی جائے کہ یہ کون ذات شریف ہے؟
➋ حفص بن غیاث مدلس ہے۔ [اسماء المدلسین للسیوطی ص 96]
لہذا اس کے سماع کی تصریح ثابت کی جائے۔
ابو یوسف محمد ولی در ولیش (الاستاذ بجامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن) اپنی کتاب ”د پيغمبر خدا صلى الله عليه وسلم مونح“ میں لکھتے ہیں:
او د مدلس عنعنه دهيحا په نزد قبوله نه ده
یعنی مدلس کا عن سے روایت کرنا کسی کے نزدیک بھی مقبول نہیں ہے۔ (ص 322)
➌ روایت منقطع ہے۔ امام عراقی مرسل روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
ورده جماهير النقاد للجهل بالساقط فى الإسناد
اور جمہور محدثین نے مرسل کو اس وجہ سے رد کر دیا ہے کہ اس کی سند میں گرا ہوا راوی مجہول ہوتا ہے۔ [الفیة العراقی ص 143 مع فتح الباقی، والألفیة مع فتح المغیث 134/1]
حدیث نمبر 36، 37:

تبصرہ:
➊ اس میں رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے بلکہ یہ روایت تشہد میں رفع الیدین کے بارے میں ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
➋ محدثین کرام و دیگر علماء ( مثلاً امام نسائی ، امام ابوداود، نووی رحمہم اللہ) اور محمد بن الحسن الشيباني ( فى الحجة على أهل المدينة) نے اس پر سلام کے ابواب باندھے ہیں۔
➌ کسی محدث نے یہ روایت ترک رفع الیدین کے باب میں ذکر نہیں کی۔
➍ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت قیام والے رفع الیدین سے کوئی تعلق نہیں رکھتی بلکہ صرف تشہد والے رفع الیدین سے تعلق ہے۔( دیکھیے جزء رفع الیدین ص 101، الضیع الحبیر 221/1)
➎ جو کام خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اسے شریر گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دینا انتہائی غلط اور قابل مذمت حرکت ہے۔
➏ اگر اس حدیث سے رفع الیدین کا نسخ یا منع ثابت کیا جاتا تو پھر حنفی، دیوبندی اور بریلوی حضرات (1) تکبیر اولی (2) وتر (3) اور عیدین والا رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟
اگر اس کی تخصیص دوسرے دلائل سے ثابت ہے تو پھر رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کی تخصیص بھی احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ دیکھیے علامہ سیوطی کی قطف الأزهار المتناثرة فى الأحاديث المتواترة [336]
➐ تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ کی یہ روایت مخالفین رفع الیدین، قیام والے رفع الیدین کے بارے میں پیش کر رہے ہیں حالانکہ یہی روایت مختصر مسند احمد (93/5) میں وهم قعود کے الفاظ کے ساتھ بھی موجود ہے یعنی: اور وہ بیٹھے ہوتے تھے۔
➑ متعدد علماء نے اس حدیث سے استدلال کرنے والوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ مثلاً: امام نووی رحمہ اللہ اسے أقبح أنواع الجهالة بالسنة قرار دیتے ہیں یعنی سنت کے ساتھ جہالت کی اقسام میں سب سے بڑی قسم۔ [المجموع شرح المہذب 403/4]
➒ اس حدیث کے راویوں مثلاً امام مسلم، امام احمد اور امام ابوداود رحمہم اللہ وغیرہم میں سے ایک سے بھی اس حدیث کی بنیاد پر رفع الیدین کو منسوخ کہنا یا سمجھنا ثابت نہیں۔
➓ متعدد دیوبندی علماء نے اس روایت کے ساتھ رفع الیدین پر استدلال کی تنقید کی ہے۔ مثلاً محمود حسن دیوبندی فرماتے ہیں:
باقی اذناب خیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں کیونکہ وہ سلام کے بارے میں ہے کہ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم بوقت سلام نماز میں اشارہ بالید بھی کرتے تھے۔ آپ نے اس کو منع فرما دیا۔ (الورد الشدی علی جامع الترمذی ص 63، نقار بر حضرت شیخ الہند ص 65)
محمد تقی عثمانی (جن کا دیوبندی سنجیدہ حلقے میں بڑا مقام ہے) فرماتے ہیں:
لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے۔ [درس ترمذی: 36/2]
کسے معلوم تھا کہ انوار خورشید صاحب ایسے اختلاف بھی آئیں گے جو انصاف کا خون کرتے ہوئے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث اور احادیث ضعیفہ و موضوعہ اور غیر متعلق روایات پیش کر کے اپنے دیوبندی عوام کو ورغلانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ اس قسم کی سازشوں سے سادہ لوح عوام پر وہ شدید اثر پڑتا ہے جس کا تذکرہ مولوی عاشق الہی میرٹھی صاحب نے کیا ہے، فرماتے ہیں:
اصل بات یہ تھی کہ بعض حنفیوں نے اہل حدیث یعنی غیر مقلدین زمانہ کو رفع الیدین پر کافر کہنا شروع کر دیا تھا اور یہ سخت ترین غلطی تھی۔ [تذکرۃ الخلیل ص 132-133]
حدیث نمبر 38:

تبصرہ:
اس روایت کی سند میں وہی محمد بن ابی لیلیٰ (ضعیف) موجود ہے جس کا ذکر حدیث نمبر 5، تبصرہ نمبر 3-4 کے تحت گزر چکا ہے۔ اس کی سند میں اور بھی کئی نقائص موجود ہیں مثلاً حکم بن عتیبہ (مدلس) کا عنعنہ، وغیرہ۔
مختصر المختصر:
انوار خورشید دیوبندی نے کل ارتیس مرفوع روایات پیش کی ہیں۔ ان میں سے دس (4،5،23،29،30،32،33،34،36،37) موضوع سے غیر متعلق ہیں۔ ان روایات میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان دس میں سے نمبر 4 مختصر، نمبر 23، 5 ضعیف، 32 باطل، نمبر 34 مشکوک فیہ ہے اور باقی روایات بلحاظ سند صحیح ہیں، لیکن ان سے رفع الیدین کا نہ کرنا بالکل ثابت نہیں ہوتا۔ باقی اٹھائیس روایات کا مختصر جائزہ درج ذیل ہے:
(نمبر 1،2) تحریف،(نمبر 3) باطل، موضوع، (نمبر 6 تا 14) ضعیف، (نمبر 15) موضوع، (نمبر 16 تا 22) ضعیف، (نمبر 24 تا 28) ضعیف، (نمبر 31) ضعیف، (نمبر 35)ضعیف مرسل ، اور (نمبر 38) ضعیف ہے۔
ان میں بعض روایات کو آٹھ مرتبہ اور بعض کو سات دفعہ ذکر کیا گیا ہے۔ اب آپ کی خدمت میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کا اثبات صحیح احادیث سے پیش کیا جاتا ہے۔