کاٹا ہوا ہاتھ چور کی گردن میں لٹکا دیا جائے گا

تحریر: عمران ایوب لاہوری

کاٹا ہوا ہاتھ چور کی گردن میں لٹکا دیا جائے گا
➊ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ، اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا:
ثم أمر بها فعلقت فى عنقه
”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ۔“
[ضعيف: إرواء الغليل: 2432 ، ابو داود: 4411 ، كتاب الحدود: باب فى تعليق يد السارق فى عنقه ، ترمذي: 1447 ، نسائي: 92/8 ، ابن ماجة: 2587 ، احمد: 19/6]
اس کی مشروعیت کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے تا کہ لوگ عبرت حاصل کریں ۔
[حجة الله البالغة: 163/2 ، نيل الأوطار: 589/4]
➋ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چور کا ہاتھ کاٹا پھر جب لوگ اس کے پاس سے گزرے تو اس کا ہاتھ گردن میں لٹکا ہوا تھا ۔
[بيهقي: 275/8 ، نيل الأوطار: 589/4]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے