کان میں آذان سے متعلق روایت کو علامہ البانی کا حسن کہنا اور اس سے رجوع
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

لاہور کے ایک ماہنامہ کے مئی 2005ء کے شمارہ میں بچے کے کان میں اذان کے حوالے سے ابو رفاعہ سے مروی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ علامہ البانی نے اسے حسن کہا ہے، کیا یہ بات صحیح و درست ہے؟

جواب:

نومولود کے کان میں اذان کے حوالے سے راقم الحروف کافی مفصل مضمون رقم کر چکا ہے، اس کے لیے آپ کے مسائل اور ان کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں جلد سوم ملاحظہ کریں، البتہ اس روایت پر علامہ البانی کا جو حکم ”حسن“ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے اس کے بارے یاد رہے کہ علامہ البانی نے اس سے رجوع فرما لیا ہے۔ انھوں نے ابوداؤد (5105)، ترمذی (1514) مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض اور سلسلہ ضعیفہ طبع جدید (493/1) اور بدایة الرواة (4085) وغیرہ میں اس کے ضعیف ہونے کی تصریح کر دی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو الأعلام بآخر أحكام الألباني الإمام از شیخ محمد کمال السیوطی (رقم 3) اور ”تراجع العلامة الألباني“ شیخ ابوالحسن محمد حسن الشیخ۔
لہٰذا اب اس روایت پر حسن کا حکم لگا کر اسے علامہ البانی کی طرف منسوب کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، وہ اس کے ضعف کی تصریح کر چکے ہیں۔ (وللہ الحمد)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے