کافر کے انجام اور توبہ کی اہمیت

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

کافر کے انجام کار کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

کافر اگر مرنے سے پہلے کفر سے تائب ہو جائے، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں گے اور وہ جنت کا مستحق بن جائے گا اور اگر کفر پر ہی مرجائے، تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بن جائے گا، اسے کبھی جہنم سے نہیں نکالا جائے گا۔
❀ علامہ ابن عطیہ رحمہ اللہ (542ھ) اور علامہ ابن الفرس اندلسی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
كافر مات على كفره، فهذا مخلد فى النار بإجماع.
”جو کافر کفر پر فوت ہو جائے، وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، اس پر اجماع ہے۔“
(تفسير ابن عطية: 64/2 ، أحكام القرآن: 214/2)
❀ علامہ ابن جزی غرناطی رحمہ اللہ (741ھ) فرماتے ہیں:
إن الكافر إذا تاب من كفره، غفر له بإجماع، وإن مات على كفره، لم يغفر له، وخلد فى النار بإجماع
”کافر جب کفر سے توبہ کر لے، تو اس کی بخشش ہو جائے گی، اس پر اجماع ہے، اگر کفر پر ہی فوت ہو جائے تو اس کی بخشش نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا، اس پر بھی اجماع ہے۔“
(تفسير ابن جزي: 196/1)
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ مشرک جب اپنے شرک پر مرجائے، تو وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوگا، جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جیسے چاہے معاف کر دے گا، البتہ گناہگار مسلمان جو مشرک نہیں ہونگے، وہ اس کی مشیت کے تحت ہوں گے، جسے چاہے گا، معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا، عذاب دے گا۔“
(فتح القدير: 549/1)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے