مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کافر سے مسلمان عورت کے نکاح کا حکم احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کافر سے مسلمان عورت کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب:

مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے نہیں ہو سکتا۔
❀ علامہ ابن جزی رحمہ اللہ (741ھ) فرماتے ہیں:
انعقد الإجماع على أن الكافر لا يتزوج مسلمة، سواء كان كتابيا أو غيره
اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ کافر کا مسلمان عورت سے نکاح جائز نہیں، خواہ وہ کافر کتابی ہو یا غیر کتابی۔
(تفسير ابن جزي: 120/1)
❀ علامہ خازن حنفی رحمہ اللہ (741ھ) فرماتے ہیں:
انعقد الإجماع على أنه لا يجوز لمسلمة أن تتزوج
اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ (اعتقادی مشرک) سے نکاح کرے۔
(تفسير الخازن: 215/1)
❀ علامہ ابن مفلح رحمہ اللہ (884ھ) فرماتے ہیں:
لا يحل لمسلمة نكاح كافر بحال، لا نعلم فيه خلافا
کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ کافر کے ساتھ نکاح کرے، ہمیں اس بارے میں کسی اختلاف کا علم نہیں۔
(المبدع: 139/6)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔