سوال :
کاروبار بڑھانے کے لیے اپنی دکان یا فیکٹری وغیرہ کو نئے نئے طریقوں سے خوبصورت بنانا کیسا ہے؟ جیسا کہ لوگ اس معاملے میں اندھا دھند پڑھتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ قرآن پاک میں اللہ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم سے فرمایا: آنکھ اٹھا کر مت دیکھنا اس دنیا کی زیب وزینت کو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وغیرہ اور اس کے علاوہ کئی جگہ دنیا سے بے رغبتی بیان ہوئی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو روز قیامت کیا ہم سے مواخذہ ہو گا؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب :
کتاب وسنت کی نصوص میں دنیا سے بے رغبتی کثرت سے بیان کی گئی ہے اور اسے چند روزہ فائدہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان دنیا کے اسباب سے قطع تعلقی کر لے، کیونکہ یہ اشیاء اللہ تعالٰی سے سوال کرنے اور استعانت میں شامل ہیں۔ انسان اللہ تعالٰی سے رزق میں وسعت ، کاروبار میں برکت کی دعا کرتا ہے اور یہ شریعت کے مطلوب میں سے ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیادی اسباب و ذرائع کو اصل مقصد نہ بنا لے، بلکہ اپنے مال و متاع کو اخروی امور کے لیے خرچ کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کتنے ہی ایسے تھے جو مال دار تھے۔ حلال روزی کمانا انبیاء ورسل علیہم السلام کی سنت میں سے ہے، بلکہ طبرانی کبیر کی ایک حدیث کے مطابق اپنی اولاد، اہل وعیال اور والدین کی خدمت کے لیے جائز طریقے سے بھاگ دوڑ کرنا فی سبیل اللہ ہے۔ البتہ اپنی روزی اور کمائی کو انسان فضول خرچی اور ناجائز طریقوں میں خرچ نہ کرے، کیونکہ قرآن حکیم میں فضول خرچ لوگوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے، لہذا آپ فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے حسب ضرورت اپنی دکان یا فیکٹری کو سنوار سکتے ہیں۔