کاروباری شراکت کے اسلامی قوانین: قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل شراکت کے احکام و مسائل:جلد 02: صفحہ 103
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
شراکت اور اس کی اقسام

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شراکت کے مسائل کا جاننا بہت ضروری ہے، کیونکہ تجارت میں اکثر لوگوں کو ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ شراکت سے مراد مالی فائدہ حاصل کرنے اور اسے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون ہے؛ اس میں شریک ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کتاب و سنت میں تجارت وغیرہ میں شراکت کے جواز کی دلیلیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ الخُلَطاءِ لَيَبغى بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ… ﴿٢٤﴾… سورة ص

"اور بلاشبہ اکثر حصے دار (شریک ایسے ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پرظلم کرتے ہیں۔ [ص 38:24]

یہ آیت شراکت کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور ساتھ ہی شریک کو دوسرے شریک پر ظلم کرنے سے روکتی ہے۔

سنتِ رسول ﷺ سے شراکت کے جواز کی ایک دلیل یہ حدیث ہے: "إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا "
"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو حصے داروں میں تیسرا ہوں جب تک ان میں ایک شخص دوسرے کی خیانت نہیں کرتا، اور جب خیانت کرے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد، البیوع، فی الشرکۃ، حدیث 3383؛ سنن الدارقطنی 3/31، حدیث 2910؛ السنن الکبری للبیہقی 6/78، واللفظ لھما]

اس حدیث میں شراکت کے جواز کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے حق میں خیانت سے بچنے کی سخت تاکید بھی ہے۔ شراکت کا مقصد باہمی تعاون ہے، اور اسی اصول کو نبی ﷺ نے یوں بیان فرمایا:
"اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کے ساتھ تعاون کرتا رہتا ہے۔” [صحیح مسلم، الذکر و الدعاء، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن و علی الذکر، حدیث 2699]

کاروباری شراکت میں حلال اور پاک مال شامل ہونا چاہیے، اور حرام مال یا حرام کی آمیزش سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔

اگر شراکت میں خرید و فروخت کی نگرانی اور اشراف مسلمان کے ہاتھ میں ہو، تو شراکت میں کافر کا حصے دار ہونا بھی درست ہے؛ کیونکہ اس صورت میں سودی کاروبار یا حرام مال کے شامل ہونے کا اندیشہ کم ہو جاتا ہے۔

شراکت کی اقسام

شراکت کی دو بنیادی قسمیں ہیں:
① شراکتِ املاک
② شراکتِ عقود

◈ شراکتِ املاک: یعنی استحقاق میں اشتراک، جیسے زمین، فیکٹری، گاڑیوں وغیرہ کی ملکیت میں شریک ہونا۔
◈ شراکتِ عقود: یعنی تصرف میں اشتراک، جیسے خرید و فروخت کرنا یا کسی چیز کو کرائے پر دینا، اور ہر شریک کو تصرف کا اختیار ہونا۔

شراکتِ عقود میں اشتراک کبھی مال اور محنت دونوں میں ہوتا ہے، اور کبھی صرف محنت میں ہوتا ہے (مال میں نہیں)۔ اس کی پانچ صورتیں درج ذیل ہیں:

① دونوں شریک مال بھی لگائیں اور محنت بھی کریں: اسے "شرکت عنان” کہتے ہیں۔
② ایک شریک مال دے اور دوسرا محنت کرے: یہ "مضاربت” ہے۔
③ دونوں بغیر مال کے ذمہ داری اٹھائیں: اسے "شرکت وجوہ” کہتے ہیں۔
④ دونوں کی بدنی محنت شریک ہو: یہ "شرکت ابدان” ہے۔
⑤ تمام امور میں تفویض اور مکمل اختیارات کی شراکت: اسے "شرکت مفاوضہ” کہتے ہیں، اور یہ شرکتِ عنان، وجوہ، ابدان کے ساتھ مضاربت کو بھی سمیٹتی ہے۔

یہ شراکت کی انواع کا ایک اجمالی خاکہ تھا۔ ان کی ضرورت کے پیش نظر اب ہر قسم کی کچھ تفصیل بیان کی جاتی ہے۔

شراکت عنان

"شراکتِ عنان” سے مراد یہ ہے کہ دو یا زیادہ شریک مال اور تصرف میں شریک ہوں، اور عموماً دونوں اپنا مال اور محنت پیش کرتے ہیں۔

اس کی صورت یہ ہے کہ دو (یا زیادہ) افراد اپنا اپنا مال ملا کر ایک مجموعی سرمایہ بنا لیں اور معاہدہ کریں کہ:
✔ ہم سب مل کر کاروبار کریں گے، یا
✔ ایک کاروبار کرے گا تو اسے دوسرے کے مقابلے میں زیادہ نفع دیا جائے گا۔

اس اعتبار سے "شراکتِ عنان” بالاجماع جائز ہے، جیسا کہ ابن منذر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، اگرچہ اس کی بعض شرائط میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس مشترکہ مال میں دونوں فریق اصالتاً بھی اور وکالتاً بھی تصرف کر سکتے ہیں، یعنی کسی ایک کو دوسرے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔

علماء کا اتفاق ہے کہ شراکت کے کاروبار میں اصل سرمایہ سونے چاندی کے سکوں/کرنسی کی صورت میں ہو، کیونکہ نبی ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک لوگ بغیر اعتراض کے اسی پر شراکت کرتے آئے ہیں اور کسی معتبر عالم نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

البتہ اگر شراکتِ عنان میں اصل سرمایہ سامان/اشیاء کی شکل میں ہو، تو اس کے جواز یا عدم جواز میں اختلاف ہے:

◈ عدم جواز کہنے والوں کی وجہ یہ ہے کہ سامان کی قیمت میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، اس لیے نفع برابر تقسیم ہونے میں خلل آتا ہے؛ ایک کے مال میں اضافہ ہو اور دوسرا بلا وجہ اس میں شریک ہو جائے، نیز حقوق ضائع ہونے اور باطل طریقے سے مال کھانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔

◈ جواز کہنے والوں کے نزدیک شراکت کا مقصد یہ ہے کہ تمام شرکاء پورے مال میں تصرف کریں اور پورا نفع آپس میں تقسیم کریں؛ یہ مقصد نقدی کی طرح سامان کے ذریعے بھی حاصل ہو جاتا ہے، اور یہی بات زیادہ درست ہے۔

شراکتِ عنان کے جواز کے لیے یہ شرط ہے کہ منافع کی تقسیم حصص کے مطابق متعین ہو، مثلاً تہائی، چوتھائی وغیرہ؛ کیونکہ نفع مشترک ہے اور ہر شریک کا حصہ شرط کے مطابق ہی واضح ہو گا۔

اگر:
✔ ہر شریک کا حصہ مجہول رکھا جائے، یا
✔ کسی ایک کے لیے کسی مخصوص مال کے نفع کی شرط لگا دی جائے، یا
✔ محدود وقت یا مخصوص سفر کے نفع کو خاص کر دیا جائے،
تو ان صورتوں میں شراکتِ عنان جائز نہیں؛ کیونکہ کبھی مخصوص حصے میں نفع ہوتا ہے اور کبھی نہیں، اور کبھی متعین نفع سے زیادہ بھی حاصل ہو جاتا ہے۔

نتیجہ یہ کہ ایسی صورتیں نزاع و اختلاف کا سبب بنتی ہیں، اور ایک فریق کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے؛ لہٰذا شریعتِ اسلامی ہمیں اس سے روکتی ہے، کیونکہ شریعت دھوکے اور نقصان سے لوگوں کو بچانے کے لیے نازل ہوئی ہے۔

مضاربت کا بیان

"مضاربت” کا لفظ "ضرب” سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی زمین میں (تجارت کی خاطر) سفر کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَءاخَرونَ يَضرِبونَ فِى الأَرضِ يَبتَغونَ مِن فَضلِ اللَّهِ…﴿٢٠﴾… سورة المزمل

"اور بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ کا فضل (روزی بھی) تلاش کریں گے۔” [المزمل 73:20]

شرعی اصطلاح میں مضاربت یہ ہے:

◈ ایک شخص سرمایہ فراہم کرے، دوسرا اس میں کاروبار کرے، اور طے شدہ حصوں کے مطابق نفع دونوں میں تقسیم ہو۔

مضاربت کے درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ کام کرنے والے (عامل) کا نفع میں حصہ متعین ہو، کیونکہ وہ اسی شرط کی بنا پر حق دار بنتا ہے۔

یہ کاروباری صورت بالاجماع جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں مضاربت ہوتی تھی اور آپ ﷺ نے اسے برقرار رکھا۔ سیدنا عمر، عثمان، علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں آثار ملتے ہیں، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔

قیاس اور حکمت بھی مضاربت کے جواز کا تقاضا کرتی ہے، کیونکہ لوگوں کو اس کی ضرورت رہتی ہے، اور درہم و دینار تجارت کے ذریعے ہی بڑھتے ہیں۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"مضاربت میں کاروبار کرنے والا شخص امانت دار، مزدور، وکیل اور حصے دار ہوتا ہے… جب مال قبضے میں لیتا ہے تو امین ہے، جب تصرف کرتا ہے تو وکیل ہے، بعض اعمال خود کرنے کی وجہ سے مزدور ہے، اور نفع ہونے کی صورت میں شریک ہے… مضاربت کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ عامل کا حصہ مقرر ہو…” [زاد المعاد 1/161]

ابن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"علماء کا اتفاق ہے کہ عامل کو چاہیے کہ مالکِ مال کے ساتھ تہائی یا چوتھائی نفع لینے کی شرط طے کرے، یا دونوں کی رضا سے جو بھی معاہدہ ہو وہ درست ہے۔ اگر مالکِ مال نے عامل کے لیے سارا نفع مقرر کر دیا، یا نفع کی رقم متعین کر دی (مثلاً ہزار روپے)، یا مجہول حصہ رکھا تو یہ معاہدہ فاسد ہو گا۔” [المغنی والشرح الکبیر 5/140]

عامل کے نفع کی تعیین دونوں کی رضامندی سے ہو گی:

✔ اگر مالک کہے: "تم تجارت کرو، نفع ہم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا” تو دونوں کو نصف نصف ملے گا، جیسے کہا جائے: "یہ گھر میرے اور تمہارے درمیان مشترک ہے” تو نصف نصف استحقاق بنتا ہے۔
✔ اگر مالک کہے: "نفع میں میرا حصہ تین چوتھائی/تہائی ہو گا” یا "تجھے تین چوتھائی/تہائی ملے گا” تو یہ بھی درست ہے؛ ایک فریق کا حصہ مقرر ہو جائے تو باقی دوسرے فریق کا ہو گا۔

اگر اختلاف ہو جائے کہ مقرر حصہ (مثلاً ایک تہائی) کس کے لیے تھا، تو وہ عامل کے لیے سمجھا جائے گا، خواہ کم ہو یا زیادہ؛ کیونکہ عامل اپنے کام کی وجہ سے اس حصے کا حق دار بنا ہے، اور حالات کے مطابق عامل کا حصہ کم یا زیادہ رکھا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک ہی کام کرنے والے دو عاملوں کے حصص بھی مختلف ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایک زیادہ ماہر ہو سکتا ہے اور دوسرا کم۔

خلاصہ یہ کہ عامل کا حق شرط سے ثابت ہوتا ہے، جبکہ مالکِ مال اپنے مال کے سبب نفع کا مستحق ہے، شرط کے سبب نہیں۔

اگر مضاربت فاسد ہو جائے تو:

◈ نفع مالکِ مال کو ملے گا کیونکہ نفع اسی کے مال سے پیدا ہوا۔
◈ عامل کو اس جیسے کام کی معروف اجرت ملے گی، کیونکہ اس کا استحقاق شرط کے ساتھ تھا، اور فساد کی صورت میں وہ شرط معتبر نہ رہی۔

مضاربت محدود مدت کے لیے بھی ہو سکتی ہے، مثلاً مالک کہے: "میں یہ درہم ایک سال کے لیے مضاربت میں دیتا ہوں۔” اسی طرح مضاربت کسی جائز شرط کے ساتھ معلق بھی ہو سکتی ہے، مثلاً: "جب فلاں مہینہ آئے تو مضاربت کرنا” یا "جب زید سے میرا مال وصول کر لو تو وہ مضاربت کے لیے تمہارے پاس رہے گا”۔ وجہ یہ ہے کہ مضاربت مال میں تصرف کی اجازت کا نام ہے، اس لیے اسے مستقبل سے متعلق شرط پر معلق کیا جا سکتا ہے۔

عامل کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کا مال لے کر مضاربت شروع کرے، الا یہ کہ پہلے مالک/مضارب کی اجازت ہو؛ کیونکہ دوسرے مال کی زیادتی سے یا تو پہلے کی تجارت متاثر ہو گی، یا پہلے مال کی مشغولیت سے دوسرے کے کام میں تعطل آئے گا۔ البتہ اجازت ہو یا نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو گنجائش ہے۔

اگر عامل نے پہلے کی اجازت کے بغیر دوسرے سے مضاربت کر لی اور اس سے پہلے کو نقصان ہوا، تو دوسرے مضاربت کے نفع میں سے پہلے کا حق نکالا جائے گا؛ پھر عامل کا حصہ پہلے مضاربت والے نفع میں ملا کر مجموعی رقم طے شدہ شرط کے مطابق عامل اور پہلے مالک کے درمیان تقسیم ہو گی، کیونکہ دوسرے سے حاصل ہونے والے عامل کے نفع میں پہلے کا حق شامل ہے۔

عامل مضاربت کے مال میں سے اپنے سفر اور خوراک کا الگ خرچہ نہ نکالے، الا یہ کہ مالک کے ساتھ شرط ہو؛ کیونکہ وہ نفع کا ایک مخصوص حصہ معاہدے کے مطابق لے رہا ہے، اس لیے بلا شرط زائد لینے کا حق نہیں، مگر یہ وہاں کے عرف میں معروف و معمول ہو تو گنجائش ہے۔

جب تک عقدِ مضاربت قائم رہے، منافع تقسیم نہ کیا جائے، الا یہ کہ دونوں تقسیم پر راضی ہوں؛ کیونکہ نفع کے ذریعے اصل سرمایہ محفوظ رہتا ہے، اور نقصان کی صورت میں نفع سے کمی پوری کی جاتی ہے۔ اگر دورانِ عقد نفع تقسیم کر دیا جائے تو نقصان پورا کرنے کی صورت باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے عامل تب ہی معاوضے کا مستحق بنتا ہے جب اصل سرمایہ پورا محفوظ رہے۔

عامل امانت دار ہے، اسے اپنی ذمہ داری میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ مال کے نقصان یا تلف ہونے کی صورت میں اس کی بات معتبر ہو گی۔ اگر یہ اختلاف ہو کہ عامل نے کوئی چیز ذاتی طور پر خریدی یا مضاربت کے لیے، تو عامل کی بات قبول کی جائے گی، کیونکہ وہ امین مانا گیا تھا۔

شراکت وجوہ، ابدان اور مفاوضہ

شراکت وجوہ

شراکت وجوہ یہ ہے کہ دو یا زیادہ افراد کسی چیز کو مشترکہ ذمہ داری پر خریدیں، پھر بیچ کر جو نفع حاصل کریں، اسے طے شدہ شرائط کے مطابق تقسیم کر لیں (اسی طرح نقصان میں بھی دونوں متاثر ہو سکتے ہیں)۔ اسے "شراکت وجوہ” اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں اصل سرمایہ موجود نہیں ہوتا، بلکہ ہر شریک کی ذمہ داری، مارکیٹ میں اثر و رسوخ اور لوگوں کا اعتماد وغیرہ کام آتا ہے۔ اسی بنیاد پر وہ خرید و فروخت کرتے اور نفع حسبِ شرط تقسیم کرتے ہیں۔

اس کے درست ہونے کی دلیل یہ فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
"المُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ”

"مسلمان طے شدہ شرائط کی پاسداری کریں۔” [جامع الترمذی، الاحکام، باب ما ذکر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الصلح بین الناس، حدیث 1352]

یہ قسم "شراکتِ عنان” سے مشابہ ہے، اسی لیے اس کا حکم بھی وہی ہے۔

اس میں ہر شریک اپنے ساتھی کا وکیل بھی ہوتا ہے اور قیمت میں کفیل بھی؛ لہٰذا اس کا تعلق وکالت اور کفالت سے بھی ہے۔

نفع کی تقسیم شرط کے مطابق اور شے کی ملکیت کے حساب سے ہو گی، مثلاً نصف یا کم و بیش۔ اسی طرح خسارہ بھی ملکیت کے تناسب سے ہو گا: جس کی ملکیت نصف ہے وہ نصف خسارہ برداشت کرے گا۔

خلاصہ یہ کہ ہر شریک کو نفع حسبِ شرط ملے گا، مثلاً نصف، چوتھائی یا تہائی—کیونکہ کسی کا مارکیٹ میں اعتماد زیادہ، کسی کا تجربہ زیادہ، کسی کی محنت و کردار زیادہ ہو سکتا ہے؛ چنانچہ شرائط کی پابندی کی جائے گی۔

شراکت وجوہ میں بھی ہر شریک کی صلاحیت و قابلیت کا لحاظ رکھا جائے گا، جیسے شراکتِ عنان میں ہوتا ہے۔

شراکت ابدان

اس میں دو یا زیادہ افراد باہمی معاہدہ کرتے ہیں کہ وہ بدنی محنت سے کام کریں گے، اور جو بھی کمائی ہو گی وہ سب میں برابر تقسیم ہو گی یا جس نسبت سے طے کر لیں۔

اس کے جواز کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان ہے:
"میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدر کے دن سمجھوتہ کیا کہ آج جو ہمیں مال غنیمت حاصل ہو گا اس میں ہم سب برابر کے حصے دار ہوں گے چنانچہ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو قیدی لے آئے جب کہ میں (عبد اللہ ) اور عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی چیز نہ لائے۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد، البیوع، باب فی الشرکاۃ علی غیر راس مال، حدیث 3388؛ سنن النسائی، البیوع، باب الشرکہ بغیر مال، حدیث 4701]

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"نبی ﷺ نے ان کی (عبداللہ بن مسعود، سعد اور عمار رضی اللہ عنہم) مشارکت کو بحال رکھا۔” [المغنی والشرح الکبیر 5/111]

شرکاء جب معاہدہ کر لیں تو اگر ان میں سے کوئی ایک کسی کام کی ذمہ داری اٹھا لے تو باقی شرکاء کو بھی اسے پورا کرنا چاہیے، کیونکہ معاہدے کا یہی تقاضا ہے۔

اگر شرکاء کے ہنر اور کام مختلف بھی ہوں تو شراکت ابدان جائز ہے، مثلاً: ایک کپڑے سیے اور دوسرا لوہے کا کام کرے۔ اجرت طلب کرنے اور وصول کرنے کا اختیار ہر ایک کو ہے، اور آجر کسی ایک کو بھی اجرت دے سکتا ہے، کیونکہ ہر شریک دوسرے کا وکیل ہے۔ پھر حاصل شدہ اجرت تمام شرکاء میں برابر تقسیم ہو گی۔

مباح امور میں شراکت ابدان درست ہے، جیسے:
✔ لکڑیاں جمع کرنا
✔ پہاڑوں سے پھل چننا
✔ کان/معدن سے کچھ نکالنا

اگر ایک شریک بیمار ہو جائے تو دوسرے کی محنت سے ملنے والی آمدن بھی دونوں میں تقسیم ہو گی، جیسا کہ سعد رضی اللہ عنہ کے دو قیدیوں میں ان کے ساتھی شریک ہوئے تھے۔ [سنن ابی داود، البیوع، باب فی الشرکۃ علی غیر راس مال، حدیث 3388]

اگر تندرست شریک بیمار شریک سے نائب مقرر کرنے کا مطالبہ کرے تو اسے پورا کرنا لازم ہے، کیونکہ دونوں شراکت کے دائرے میں کام کرنے کے معاہدے کے ساتھ داخل ہوئے تھے۔ اگر بیمار شریک معذور ہو اور نائب بھی مقرر نہ کرے تو دوسرے شریک کو معاہدہ فسخ کرنے کا حق حاصل ہو گا۔

اگر دو یا زیادہ افراد (جن کے پاس اپنی اپنی سواری/گاڑی ہو) یہ معاہدہ کریں کہ ہم کرایہ پر بوجھ یا مسافروں کو اپنے اپنے جانور/گاڑی پر لادیں گے اور جو بھی آمدن ہو گی سب میں برابر تقسیم ہو گی، تو یہ شراکت بھی درست ہے، کیونکہ یہ بھی کمائی کی ایک صورت ہے۔

اسی طرح کسی کو جانور یا گاڑی دے کر یہ طے کرنا کہ وہ اس سے کما کر آمدن آپس میں تقسیم کرے، یہ بھی جائز ہے۔

اگر تین افراد مل جائیں—ایک کے پاس گھوڑا، دوسرے کے پاس تانگہ، اور تیسرا کوچوان کی حیثیت سے محنت کرے—اور آمدن تینوں برابر تقسیم کریں تو یہ بھی درست اور جائز ہے۔

اگر دو یا زیادہ افراد دلالی میں شراکت کر لیں، مثلاً سامان بیچنے کے لیے دونوں آواز لگائیں یا گاہک تلاش کریں، تو یہ بھی جائز ہے اور حاصل ہونے والی کمائی دونوں میں برابر تقسیم ہو گی۔

شراکت مفاوضہ

شراکت مفاوضہ میں ہر شریک دوسرے کو مالی اور بدنی اشتراک کے تمام اختیارات دے دیتا ہے۔ یہ شراکت عنان، مضاربت، وجوہ اور ابدان سب کو محیط ہے—یعنی تمام شرکاء حقوق اور فرائض میں برابر شریک ہوتے ہیں۔

یہ نوع جائز ہے، کیونکہ یہ ان تمام شراکتوں کو جمع کرتی ہے جو الگ الگ بھی جائز ہیں؛ لہٰذا جب جائز اقسام ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوں تو ان کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

منافع کی شرح جیسی وہ باہم طے کر لیں، اسی کے مطابق نافذ ہو گی؛ البتہ خسارہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے سرمائے کے تناسب سے برداشت کریں گے۔

شریعتِ اسلامیہ نے مباح حدود کے اندر رہتے ہوئے کسب و کمائی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، اور اسے مباح قرار دیا ہے کہ انسان اکیلا کمائے یا کسی کے ساتھ شریک ہو۔ شرط یہ ہے کہ طے شدہ شرائط کی پابندی ہو اور کوئی ناجائز یا حرام شرط شامل نہ ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت ہر زمانے کے لیے قابلِ عمل ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی شریعت پر چلائے، اس پر قائم رکھے، اتباع اور عمل صالح کی توفیق دے۔ بے شک وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب