مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

چھ یا سات سال کا بچہ بھی نماز کی جماعت کروا سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 155

سوال

کم از کم کتنی عمر کا بچہ جماعت کروا سکتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت میں جماعت کروانے کے لیے بچے کی کم از کم عمر کے حوالے سے کوئی واضح حد بندی قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے۔ یعنی کتاب و سنت میں ایسی کوئی عمر متعین نہیں کی گئی جو امامت کے لیے شرط ہو۔

اگر کوئی بچہ حدیث میں بیان کردہ اَقْرَأُ (یعنی قرآن کا زیادہ علم رکھنے والا) کے معیار پر پورا اترتا ہو، تو وہ امامت (نماز کی جماعت کروانے) کا اہل ہو سکتا ہے۔

حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں محض چھ یا سات سال کی عمر میں جماعت کروائی تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر بچہ قرآن کے علم میں دوسروں سے آگے ہو تو عمر کی قلت اس کی امامت کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔