اس کے لیے ایک مرتبہ اقرار یا دو عادل آدمیوں کی گواہی کافی ہے
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال چرانے والے شخص کو دوبارہ اقرار کا حکم نہیں دیا ۔
[بخاري: 6795 ، كتاب الحدود: باب قول الله تعالى: والسارق و السارقة……]
➋ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کی چادر چرانے والے کو بھی ایسا کوئی حکم نہیں دیا ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 3693 ، كتاب الحدود: باب فيمن سرق من حرز ، ابو داود: 4394]
جس روایت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور سے کہا تھا:
ما إخالك سرقت؟
”میں خیال نہیں کرتا کہ تم نے چوری کی ہو ۔ “
اس نے کہا کیوں نہیں ۔ دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہ تکرار ہوا ۔ تو یاد رہے کہ وہ روایت ضعیف ہے ۔
[ضعيف: ضعيف ابو داود: 943 ، كتاب الحدود: باب فى التلقين فى الحد ، إرواء الغليل: 2426 ، ابو داود: 4380]
(مالکؒ ، شافعیؒ ، ابو حنیفہؒ ) ایک مرتبہ اقرار ہی کافی ہے ۔
(احمدؒ ، ابو یوسفؒ ) کم از کم دو مرتبہ اقرار لازم ہے ۔
[نيل الأوطار: 587/4]
(راجح) پہلا موقف راجح ہے ۔
[الروضة الندية: 600/2]
ارشاد باری تعالٰی ہے کہ :
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ [الطلاق: 2]
”دو عادل شخصوں کو گواہ بنا لو ۔“