مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

چوری کی حد کیا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

چوری کی حد کیا ہے؟

جواب:

مسروقہ مال نصاب کو پہنچ جائے، تو چوری کی حد ہاتھ کاٹنا ہے۔ اس کا نصاب کم سے کم ایک چوتھائی دینار یا اس کی قیمت ہے۔
❀ علامہ ابن مفلح رحمہ اللہ (884ھ) فرماتے ہیں:
القطع فى السرقة وهو ثابت بالإجماع
چوری پر ہاتھ کاٹنا بالا جماع ثابت ہے۔
(المبدع: 428/7)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔