چوتھی مرتبہ شراب پینے پر قتل منسوخ ہے
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا شرب فــاجــــدوه ثم إذا شرب الثانية فاجلدوه ثم إذا شرب الثالثه فاجلدوه ثم إذا شرب الرابعة فاضربوا عنقه
”جب کوئی شراب پیے تو اسے کوڑے مارو ، پھر دوسری مرتبہ شراب پیے تو پھر کوڑے لگاؤ ، پھر تیسری مرتبہ شراب پیے تو پھر کوڑے لگاؤ ۔ مگر جب چوتھی دفعہ شراب نوشی کرے تو اس کی گردن اُڑادو ۔ “
[حسن صحيح: صحيح ابو داود: 3764 ، كتاب الحدود: باب إذا تتابع فى شرب الخمر ، احمد: 519/2 ، ابو داود: 4484 ، ترمذی: 1444 ، ابن ماجۃ: 2573 ، نسائی فی السنن الکبری: 5299]
➋ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
إن شرب الـخـمـر فـاجـلـدوه فإن عاد فى الرابعة فاقتلوه
”اگر کوئی شراب پیے تو اسے کوڑے لگاؤ اور اگر وہ چوتھی مرتبہ ہے تو اسے قتل کر دو ۔“
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدی لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی آپ نے اسے مارا لیکن قتل نہیں کیا ۔
[صحيح: نصب الراية: 347/3 ، ترمذى تعليقا: 49/4 ، بزار: 221/2 ، شرح معاني الآثار: 161/3 ، حاكم: 373/4 ، بيهقي: 314/8]
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ شراب پینے والے کو قتل کرنے کا حکم پہلے تھا اب منسوخ ہو چکا ہے اسی پر عام اہل علم ہیں اور ہم ان کے درمیان کسی اختلاف کو نہیں جانتے اور اس مسئلے کی مزید تائید وہ حدیث کرتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تینوں میں سے ایک کے ساتھ: جان کے بدلے جان ، شادی شدہ زانی اور مرتد ۔“
[ترمذى: بعد الحديث / 1444 ، كتاب الحدود: باب ما جآء من شرب الخمر فاجلدوه ومن عاد فى الرابعة فاقتلوه]
امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شراب پینے والا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ۔
[احمد: 291/2]
اس مسئلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے:
(ابن حزمؒ ) اسے چوتھی مرتبہ قتل کر دیا جائے گا ۔
(جمہور ، شافعیؒ) اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ قتل کا حکم منسوخ ہو چکا ہے ۔
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے ۔
[نيل الأوطار: 604/4 ، سبل السلام: 1726/4 ، الروضة الندية: 614/2]
❀ حد قائم کرنے کی چار شرائط ہیں:
➊ عقل
➋ بلوغت
➌ خود مختاری
➍ علم (کہ یہ چیز نشہ آور ہے اور پھر بھی اسے پی لے ۔ )
نیز اسلام اور حریت شرط نہیں ہیں ۔
[فقه السنة: 492/2]
❀ شرابی اسلام سے خارج نہیں ہوتا ۔
[بخاري: 6780 ، كتاب الحدود: باب ما يكره من لعن شارب الخمر ]