چوبیس گھنٹوں میں ہزار سے زائد سنت اعمال صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
کتاب کا نام: ایک دن رات میں 1000 سے زیادہ سنتیں، مصنف کا نام: شیخ خالد الحسینان، ترجمہ: حافظ محمد اسحاق زاھد
مضمون کے اہم نکات

سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کے فوائد

① سنت پر عمل پیرا ہونے سے بندہ مومن کو اللہ تعالی کی محبت نصیب ہوتی ہے۔
② فرائض میں جو کمی کوتاہی رہ جاتی ہے، وہ ان سنتوں پر عمل کرنے کی وجہ سے پوری کر دی جاتی ہے۔
③ اتباع سنت کی بنا پر انسان بدعت سے محفوظ رہتا ہے۔
④ سنت کی پیروی کرنا شعائر الہی کے احترام کا حصہ ہے۔
تو آئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو عمل کے ذریعے زندہ کیجئے کیونکہ یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کامل اور سچی محبت کی نشانی ہے!

نیند سے بیدار ہونے کی سنتیں

① چہرے پر سے نیند کے آثار کو ہاتھ سے مٹانا

ایک حدیث مبارکہ ہے کہ
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہو کر اٹھے تو نیند کے آثار کو ختم کرنے کے لیے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگے۔“
(صحیح البخاري: 4572)
امام نووی رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسی حدیث کے پیش نظر نیند سے بیدار ہونے کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔

② بیدار ہونے کی دعا

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
(صحیح البخاري: 6312)
”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مارنے (سلانے) کے بعد ہمیں زندہ (بیدار) کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“
اس لیے نیند کو (عارضی) موت کہا جاتا ہے: النوم أخت الموت

③ مسواک کرنا

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کے ساتھ منہ صاف کرتے۔
(صحیح البخاري: 245 صحیح مسلم: 255)

④ ناک جھاڑنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”تم میں سے کوئی شخص جب نیند سے بیدار ہو تو وہ تین مرتبہ ناک جھاڑے کیونکہ شیطان اس کے نتھنوں میں رات گزارتا ہے۔“
(صحیح البخاري: 3295 صحیح مسلم: 238)

⑤ دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھونا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”تم میں سے کوئی شخص جب نیند سے بیدار ہو تو اس وقت تک اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈبوئے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے۔“
(صحیح البخاري: 162 صحیح مسلم: 278)

بیت الخلا میں داخل ہونے اور نکلنے کی سنتیں

① داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاؤں اندر رکھے، پھر دایاں۔
② داخل ہونے کی دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
”اے اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں مذکر اور مؤنث شیطانوں سے۔“
(صحیح البخاري: 142 صحیح مسلم: 375)
یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ اس لیے طلب فرمائی کہ عام طور پر شیطان بیت الخلا میں ہی رہتے ہیں۔
③ نکلتے وقت پہلے دایاں پاؤں باہر رکھے، پھر بایاں۔
④ نکلنے کی دعا:
غُفْرَانَكَ
”اے اللہ! میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔“
(سنن ترمذی: 7)
انسان کو دن اور رات میں کئی مرتبہ بیت الخلا میں جانا پڑتا ہے تو ہر مرتبہ اسے ان چار سنتوں پر عمل کرنا چاہیے:
دو داخل ہونے کی سنتیں اور دو نکلنے کی سنتیں۔

وضو کی سنتیں

① وضو گھر میں کرنا: ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص اپنے گھر میں وضو کرتا ہے اور فرض نماز ادا کرنے کی خاطر مسجد کی طرف چل کر جاتا ہے تو اس کے ایک ایک قدم پر اس کی ایک غلطی مٹا دی جاتی ہے، اور دوسرے پر اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔“
(صحیح مسلم: 222)
② وضو سے پہلے بِسْمِ اللَّهِ پڑھنا
③ وضو کے شروع میں اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھونا
④ چہرہ دھونے سے پہلے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا
⑤ بائیں ہاتھ کے ساتھ ناک جھاڑنا۔ ایک حدیث میں ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی چڑھایا اور اسے جھاڑا، پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا۔“
(صحیح البخاري: 164 صحیح مسلم: 226)
⑥ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا (پورے منہ میں پانی گھمانا اور ناک کے آخری حصے تک پانی پہنچانا)
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کیا کرو، الا یہ کہ تم روزہ دار ہو۔“
(سنن ابو داود:2366 صحیح)
⑦ ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا: حدیث ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہتھیلی میں پانی بھرا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔“
(صحیح بخاری : 191 صحیح مسلم : 235)
⑧ کلی کے وقت مسواک کرنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”اگر مجھے امت کی مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
(مسند احمد :2582)
⑨ چہرہ دھوتے ہوئے گھنی داڑھی کا خلال کرنا: حدیث میں ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے دوران اپنی داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔“
(سنن ترمذی 13 صحیح)
⑩ مسنون کیفیت کے مطابق مسح کرنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے شروع سے گدی تک لے جاتے، پھر انہیں اسی طرح سر کے شروع تک واپس لے آتے۔
( صحیح بخاری 192 و صحیح مسلم : 235)
یاد رہے کہ مسح اگر مسنون کیفیت کو چھوڑ کر کسی اور کیفیت سے کیا جائے تو اس سے فرض تو پورا ہو جاتا ہے لیکن سنت پر عمل نہیں ہوتا۔
⑪ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکمل وضو کیا کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو۔
(سنن ترمذی: 788 صحیح)
⑫ ہاتھ پاؤں دھوتے ہوئے پہلے دائیں ہاتھ پاؤں کو دھونا: حدیث ہے ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف پسند تھی، جوتا پہنتے ہوئے اور طہارت میں۔“
(صحیح البخاري: 168 صحیح مسلم: 268)
⑬ چہرہ، ہاتھ، بازو اور پاؤں کو ایک سے زیادہ (تین مرتبہ تک) دھونا
⑭ پانی بہاتے ہوئے اعضاے وضو کو ملنا
⑮ حسب ضرورت پانی استعمال کرنا: حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مُد (تقریباً نصف لیٹر) پانی سے وضو کیا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري: 201 صحیح مسلم: 325)
⑯ بازو اور پاؤں دھوتے ہوئے مبالغہ کرنا: ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے تو اپنے بازؤوں کو کندھوں تک اور اپنے پاؤں کو پنڈلیوں تک دھوتے، اور پھر کہتے: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔“
(صحیح مسلم: 246)
⑰ مکمل وضو کرنا اور ہر عضو کو اچھی طرح دھونا
⑱ وضو کے بعد یہ دعا پڑھنا
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
اس دعا کے پڑھنے کی فضیلت یہ ہے کہ اسے پڑھنے والے کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس میں سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔
(صحیح مسلم: 234)
⑲ وضو کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جو شخص میرے وضو کی طرح وضو کرے، پھر دو رکعات نماز اس طرح ادا کرے کہ اس میں دنیاوی خیالات سے بچا رہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
(صحیح البخاري: 190 صحیح مسلم: 226)
مسلمان دن اور رات میں کئی مرتبہ وضو کرتا ہے، اور اگر ہر مرتبہ وہ ان مذکورہ سنتوں کا خیال رکھے تو یقینی طور پر بہت زیادہ اجر و ثواب حاصل کر سکتا ہے۔
ان سنتوں کے مطابق وضو کرنے سے کتنا ثواب ملتا ہے، اس کا اندازہ درج ذیل دو حدیثوں سے کیا جا سکتا ہے:
① ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے حتی کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتے ہیں۔“
(صحیح مسلم: 245)
② ”تم میں سے جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت نماز پوری توجہ کے ساتھ ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔“
(مسند احمد: 16863)

مسواک

مسلمان کو دن اور رات میں کئی مرتبہ مسواک کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
(صحیح البخاري: 887 صحیح مسلم: 252)
اور دن اور رات میں مجموعی طور پر مندرجہ ذیل میں سے زیادہ مرتبہ مسواک کیا جا سکتا ہے: پانچ نمازوں کے وقت، فرض نماز سے پہلے اور بعد والی سنتوں کے وقت، چاشت کی نماز کے وقت، نماز وتر کے وقت، قراءت قرآن کے وقت، منہ میں بدبو پیدا ہو جانے کے بعد، نیند سے بیدار ہونے کے بعد، ہر وضو کے وقت، اور گھر میں داخل ہوتے وقت۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے۔“
(صحیح مسلم: 253)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”مسواک سے منہ پاک ہوتا ہے اور رضاے الہی نصیب ہوتی ہے۔“
(مسند احمد : ج 1 ص3)
جدید طب میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مسواک دانتوں اور مسوڑھوں کے لیے انتہائی مفید ہے، کیونکہ اس میں درج ذیل مواد پائے جاتے ہیں:
① جراثیم کو ختم کرنے والے مواد
② پاک کرنے والا مواد
③ دانتوں کو صاف کرنے والے مواد
④ منہ میں خوشبو پیدا کرنے والے مواد

جوتا پہننے کی سنتیں

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
”تم میں سے کوئی شخص جب جوتا پہنے تو سب سے پہلے دایاں پاؤں جوتے میں ڈالے، اور جب اُتارنے لگے تو سب سے پہلے بایاں پاؤں جوتے سے باہر نکالے۔ اور یا تو دونوں جوتے پہنے یا پھر دونوں کو اُتار دے۔“
(صحیح مسلم: 2097)
مسلمان دن اور رات میں کئی مرتبہ جوتا پہنتا اور اُتارتا ہے، مثلاً مسجد میں جاتے ہوئے اور اس سے باہر نکلتے ہوئے، حمام میں جاتے ہوئے اور اس سے باہر آتے ہوئے، اور کسی کام کے لیے گھر سے باہر جاتے ہوئے اور اس میں واپس آتے ہوئے، سو ہر مرتبہ اسے اس حدیث میں مذکورہ سنتوں پر عمل کرنا چاہیے۔

لباس پہننے کی سنتیں

جن کاموں کو تقریباً سارے لوگ دن اور رات میں کئی مرتبہ کرتے ہیں، ان میں سے ایک لباس پہننا اور اُتارنا ہے۔ لباس کو اتارنے اور پہننے کے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں، مثلاً غسل کے لیے لباس اُتارنا اور اس کے بعد پہننا، نیند کے لیے ایک لباس اُتارنا اور دوسرا پہننا، بیدار ہونے کے بعد نیند کا لباس اُتارنا اور دوسرا لباس زیب تن کرنا، تو ہر مرتبہ لباس پہننے اور اُتارنے کی مندرجہ ذیل سنتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
① بسم الله پڑھنا، چاہے لباس اُتارنا ہو یا پہنا ہو، امام نووی کا کہنا ہے کہ تمام کاموں میں بسم الله کا پڑھنا مستحب ہے۔
② رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بھی کپڑا (قمیص، چادر یا پگڑی وغیرہ) پہنتے تو یہ دعا پڑھتے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
(سنن ابو داود: 4020 صحیح)
”اے اللہ! میں اس (لباس) کی بھلائی کا اور جس کے لیے یہ ہے، اس کی بھلائی کا آپ سے سوال کرتا ہوں۔ اور میں اس کی برائی سے اور جس کے لیے یہ ہے، اس کی برائی سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔“
③ لباس پہلے دائیں طرف سے پہنے۔ ارشاد نبوی ہے:
”تم جب بھی لباس پہنو، دائیں طرف سے شروع کیا کرو۔
(سنن ابو داود: 4141 صحیح)
④ اور لباس اُتارتے ہوئے پہلے بائیں، پھر دائیں طرف سے اُتارے۔“

گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کی سنتیں

امام نووی رحمہ اللہ کا کہنا ہے:
گھر میں داخل ہوتے وقت بِسْمِ اللَّهِ کا پڑھنا، اللہ کا ذکر کرنا اور گھر والوں کو سلام کہنا سنت ہے۔

① گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر کرنا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ”کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے وقت
اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے: اب تم اس گھر میں نہ رہ سکتے ہو اور نہ تمہارے لیے یہاں پر کھانا ہے۔“
(صحیح مسلم: 2018)

② گھر میں داخل ہونے کی دعا پڑھنا

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا
(سنن ابو داود: 5096)
”اے اللہ! میں آپ سے گھر کے اندر اور گھر سے باہر خیر کا سوال کرتا ہوں، اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے، اور اللہ کے نام کے ساتھ ہم نکلے، اور اللہ اپنے رب پر ہم نے توکل کیا۔“
تو یہ دعا پڑھ کر گویا کہ مسلمان گھر میں داخل ہوتے ہوئے اور اس سے نکلتے ہوئے ہمیشہ اللہ پر توکل کا اظہار کرتا ہے اور ہر دم اس سے اپنا تعلق مضبوط بناتا ہے۔

③ مسواک کرنا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے۔
(صحیح مسلم: 253)

④ گھر والوں کو سلام کہنا

فرمان الہی ہے: ﴿فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً﴾
(سورة النور: 61)
”پس جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کہا کرو، (سلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزہ ہے۔“
اور اگر مسلمان ہر فرض نماز مسجد میں ادا کرتا ہو اور اس کے بعد اپنے گھر میں واپس آتا ہو تو ہر مرتبہ اگر وہ ان مذکورہ سنتوں پر عمل کرے تو گویا دن اور رات میں صرف گھر میں داخل ہوتے وقت وہ ان سنتوں پر عمل کرے گا۔

⑤ گھر سے نکلنے کی دعا

بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
”اللہ کے نام کے ساتھ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی گناہ سے بچنے کی طاقت ہے، نہ نیکی کرنے کی۔“
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ ”انسان جب یہ دعا پڑھ لیتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے: تجھے اللہ کافی ہے اور تجھے شر سے بچالیا گیا ہے، اور تیری راہنمائی کر دی گئی ہے۔ اور شیطان اس سے کنی کترا جاتا ہے۔“
(سنن ابو داود: 5095 صحیح)
چنانچہ جب بھی انسان گھر سے باہر جانے لگے، خواہ نماز پڑھنے کے لیے، یا اپنے کام کے لیے، یا گھر کے کسی کام کے لیے، تو ہر مرتبہ اس دعا کو پڑھے تا کہ مندرجہ بالا بھلائیاں اسے نصیب ہو سکیں۔

مسجد میں جانے کی سنتیں

① مسجد میں جانے کے لیے جلدی کرنا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور پہلی صف میں کتنا اجر ہے، پھر اس کے لیے انھیں قرعہ اندازی کرنی پڑے تو وہ قرعہ اندازی کر گزریں، اور اگر انھیں پتہ چل جائے کہ نماز کے لیے جلدی جانے میں کتنا ثواب ہے تو وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں، اور اگر اُنھیں خبر لگ جائے کہ عشاء اور فجر کی نمازوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ ہر حال میں ان نمازوں کو ادا کرنے کے لیے آئیں اگر چہ انھیں گھنٹوں کے بل ہی کیوں نہ آنا پڑے۔“
(صحیح بخاری: 631 و صحیح مسلم:437)

② مسجد کی طرف جانے کی دعا پڑھنا

اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا
(صحیح مسلم: 763)
”اے اللہ! میرے دل میں، میری زبان میں، میرے کانوں میں، میری نظر میں، میرے پیچھے، میرے آگے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور کر دے، اور مجھے نور عطا فرما۔“

③ سکون اور وقار کے ساتھ چلنا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ”جب تم اقامت سن لو تو نماز کی طرف جاؤ۔ اور تم پر سکون اور وقار لازم ہے۔“
(صحیح بخاری: 636 وصحیح مسلم: 602)
سکون سے مراد: حرکات میں ٹھہراؤ پیدا کرنا اور بے ہودگی سے بچنا۔ وقار سے مراد: نظر کو جھکانا، آواز کو پست رکھنا اور ادھر ادھر نہ دیکھنا۔

④ مسجد کی طرف چل کر جانا

فقہاء نے لکھا ہے کہ مسجد کی طرف جاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے آہستہ آہستہ چلنا چاہیے اور جلدی نہیں کرنی چاہیے تا کہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل ہوں، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزیں ذکر فرمائیں، ان میں سے ایک یہ تھی مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھانا۔“
(صحیح مسلم: 251)

⑤ مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھنا

درود شریف پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
(سنن ابو داود: 465 صحیح)
”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“

⑥ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے پہلے دایاں پاؤں اندر رکھنا

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ ”جب تم مسجد میں داخل ہونے لگو تو پہلے دایاں پاؤں اندر رکھو، اور باہر نکلنے لگو تو پہلے بایاں پاؤں باہر رکھو۔“
(مستدرک حاکم: 738 سنن کبری بیہقی: 422/2)

⑦ پہلی صف کے لیے آگے بڑھنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور پہلی صف میں کتنا اجر ہے، پھر اس کے لیے انہیں قرعہ اندازی کرنی پڑے تو وہ قرعہ اندازی کر گزریں۔“
(صحیح بخاری: 615 و صحیح مسلم: 437)

⑧ تحیۃ المسجد پڑھنا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”تم میں سے کوئی شخص جب مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعت نماز ادا نہ کر لے۔“
(صحیح بخاری: 1127 و صحیح مسلم: 714)
امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ تحیۃ المسجد تمام اوقات میں، حتی کہ ممنوعہ اوقات میں بھی مشروع ہے۔ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تمام اہل فتویٰ کا اجماع ہے کہ تحیۃ المسجد سنت یعنی مستحب ہے۔

⑨ مسجد سے نکلنے کی دعا پڑھنا

درود شریف پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
(صحیح مسلم: 713 سنن نسائی: 297 صحیح)
”اے اللہ! میں آپ سے آپ کے فضل کا سوال کرتا ہوں۔“

⑩ مسجد سے نکلتے ہوئے پہلے بایاں پاؤں باہر رکھنا

(اس کی دلیل پیچھے نکتہ نمبر 6 کے تحت گزر چکی ہے)
تو یہ ہیں مسجد کی سنتیں، اور یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، اگر مسلمان ہر نماز کے وقت مسجد کی ان دس سنتوں پر عمل کر لے تو وہ اس طرح پچاس سنتوں پر عمل کرنے کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔

اذان کی سنتیں

اذان کی پانچ سنتیں ہیں جیسا کہ امام ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں ذکر کیا ہے، اور وہ یہ ہیں:

① اذان کا جواب دینا:

چنانچہ سننے والا وہی الفاظ کہے جو موذن کہے، سوائے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کہ ان کے جواب میں لا حول ولا قوة إلا بالله کہنا ہوگا۔
(صحیح بخاری: 612 و صحیح مسلم: 385)
اس کی فضیلت یہ ہے کہ ایسا پڑھنے والے کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
(صحیح مسلم: 385)

② اذان کے بعد اس دعا کا پڑھنا

وَأَنَا أَشْهَدُ أَن لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا
(صحیح مسلم: 386)
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ میں اللہ کو رب اور اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر راضی ہو گیا۔“
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ پڑھنے والے کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

③ اذان کے بعد درود شریف پڑھنا

یاد رہے کہ سب سے افضل درود درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود پڑھو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں بھیجتا ہے (یا دس مرتبہ اس کی تعریف کرتا ہے)۔
(صحیح بخاری: 314)

④ درود شریف پڑھنے کے بعد درج ذیل دعا کا پڑھنا

اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ
(صحیح مسلم: 614)
”اس مکمل دعوت اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں اس مقام محمود پر فائز فرما جس کا آپ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔“
اور اس دعا کے پڑھنے کا فائدہ یہ ہے کہ پڑھنے والے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
⑤ اذان کے بعد کی درج بالا دعائیں پڑھنے کے بعد اپنے لیے دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرنا، کیونکہ یہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”مؤذن جس طرح کہے، اسی طرح کہا کرو۔ پھر اللہ سے سوال کیا کرو، وہ تمہیں عطا کرے گا۔“
(سنن ابو داود: 524 حسن)
درج بالا پانچوں سنتوں پر اگر ہر اذان کے وقت عمل کیا جائے تو یوں دن اور رات میں اذان کی پانچ سنتیں عمل ہو سکتی ہیں۔

اقامت کی سنتیں

اذان کی پہلی چار سنتیں اقامت کی سنتیں بھی ہیں جیسا کہ سعودی عرب کی دائمی فتوی کونسل کا فتویٰ ہے، بنا بریں دن اور رات میں اگر ہر اقامت کے وقت ان سنتوں پر بھی عمل کر لیا جائے تو یوں اقامت کی پانچ سنتیں عمل کر کے اجر عظیم حاصل کیا جا سکتا ہے!
سنت یہ ہے کہ اقامت سننے والا بھی اسی طرح کہے جس طرح اقامت کہنے والا کہتا ہے، سوائے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کہ ان میں لا حول ولا قوة إلا بالله کہے گا، اور قد قامت الصلاة کے جواب میں بھی قد قامت الصلاة ہی کہے گا، نہ کہ أقامها الله وأدامها کیونکہ اس بارے میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے، وہ ضعیف ہے۔
(فتوی کونسل، زیر نمبر: 2801)

سترہ کے سامنے نماز ادا کرنا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھنا چاہے تو سترہ کی طرف منہ کرے اور اس کے قریب ہو جائے، اور اپنے اور اس کے درمیان کسی کو گزرنے نہ دے۔“
(سنن ابن ماجہ: 944 ،مصنف ابن ابی شیبہ: 2875، 313/1)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ہر نماز سترہ رکھ کر ادا کی جائے، خواہ نمازی مسجد میں ہو یا گھر میں، مرد ہو یا عورت۔ جبکہ کئی نمازی اس سنت پر عمل نہ کر کے اپنے آپ کو اس کے اجر سے محروم کر لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ سنت بھی ان سنتوں میں سے ہے جن پر دن اور رات میں کئی مرتبہ عمل ہو سکتا ہے، چنانچہ فرائض سے پہلے اور بعد کی سنتیں، تحیۃ المسجد، نماز وتر، نماز چاشت اور فرض نمازیں سترہ کے سامنے پڑھ کر انسان ایک ہی سنت پر بار بار عمل کر کے بہت زیادہ اجر و ثواب کما سکتا ہے، یاد رہے کہ فرض نمازیں اگر امام کے پیچھے پڑھی جائیں تو امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔

سترہ کے چند مسائل

① سترہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جسے نمازی قبلہ کی سمت اپنے سامنے کر لے، مثلاً دیوار، ستون، عصا اور کرسی وغیرہ۔
② سترہ کی چوڑائی کی کوئی حد مقرر نہیں البتہ لمبائی (اونچائی) کم از کم ایک بالشت ضرور ہونی چاہیے۔
③ نمازی کے قدموں اور سترہ میں تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
④ سترہ امام اور اکیلے دونوں کے لیے مشروع ہے، نماز خواہ فرض ہو یا نفل۔
⑤ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ بھی ہوتا ہے، لہذا ایسی صورت میں ضرورت کے وقت مقتدیوں کے سامنے سے گزرنا جائز ہے۔

سترہ کے فوائد

① اگر نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو، اور اس کے سامنے سے کسی عورت یا گدھے یا کالے کتے کا گزر ہو تو اس سے اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے، لیکن اگر سترہ موجود ہو تو ایسا نہیں ہوتا۔
② اگر سترہ موجود ہو تو نمازی کی نظر ایک جگہ پر ٹکی رہتی ہے اور اس سے نماز میں خشوع پیدا ہوتا ہے، اور اگر سترہ نہ ہو تو نظر ادھر اُدھر جاتی ہے اور نمازی کی سوچ انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔
③ اگر سترہ موجود ہو تو گزرنے والوں کے لیے آسانی ہو جاتی ہے، ورنہ اگر سترہ نہ ہو تو نمازی ان کے لیے رکاوٹ بنا رہتا ہے۔

دن اور رات کی نفل نمازیں

① فرائض سے پہلے اور بعد کی سنت نماز:

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ”کوئی بھی مسلمان بندہ جب ہر دن بارہ رکعت نماز نفل اللہ کی رضا کے لیے پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“
(صحیح مسلم: 720)
اور بارہ مسنون رکعات یہ ہیں: چار ظہر سے پہلے اور دو اس کے بعد، دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو فجر سے پہلے۔
میرے مسلمان بھائی! کیا آپ کو جنت کا گھر پسند نہیں؟ اگر ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ نصیحت پر عمل کریں اور دن اور رات میں بارہ رکعات نماز نفل پڑھا کریں۔
② چاشت کی نماز جس کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ 360 صدقات کے برابر ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سے ہر شخص کے ہر جوڑ پر ہر دن صدقہ کرنا ضروری ہے۔ تم تو ہر سبحان الله صدقہ ہوتا ہے اور ہر الحمد لله صدقہ ہوتا ہے اور ہر لا إله إلا الله صدقہ ہوتا ہے، اور ہر الله اكبر صدقہ ہوتا ہے، اور نیکی کا ہر حکم صدقہ ہوتا ہے، اور برائی سے روکنا صدقہ ہوتا ہے، اور ان سب سے چاشت کی دو رکعات کافی ہو جاتی ہیں۔
(صحیح مسلم: 720)
اور یہ بات معلوم ہے کہ انسان کے جسم میں 360 جوڑ ہوتے ہیں، تو ہر جوڑ کی طرف سے ہر روز کم از کم ایک صدقہ شکرانہ کے طور پر کرنا ضروری ہوتا ہے، اور مذکورہ حدیث کے مطابق اگر چاشت کی دو رکعات ادا کر لی جائیں تو 360 جوڑوں کی طرف سے صدقہ ادا ہو جاتا ہے۔
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی: ایک یہ کہ میں ہر ماہ میں تین روزے رکھوں، اور دوسری یہ کہ چاشت کی دو رکعات پڑھوں، اور تیسری یہ کہ وتر کو سونے سے پہلے پڑھا کروں۔
(صحیح بخاری: 1178، صحیح مسلم: 721)
یاد رہے کہ چاشت کا وقت طلوع شمس کے پندرہ منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور اذان ظہر سے پندرہ منٹ پہلے تک جاری رہتا ہے، اور اس کا افضل وقت وہ ہے جب سورج کی حرارت تیز ہو، اور اس کی کم از کم رکعات دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ ہیں۔

③ عصر سے پہلے چار رکعات:

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ”اس شخص پر اللہ کی رحمت ہو جو عصر سے پہلے چار رکعات پڑھے۔“
(سنن ترمذی: 430 حسن)

④ مغرب سے پہلے دو رکعات:

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ (اذان کے بعد) مغرب کی جماعت سے پہلے نماز پڑھا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا، اور تیسری بار اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا: جس کا جی چاہے۔
(صحیح بخاری: 1183)

⑤ عشاء سے پہلے دو رکعات:

ارشاد نبوی ہے کہ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا: جس کا جی چاہے۔
(صحیح بخاری: 627 صحیح مسلم: 838)
امام نووی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔

نوافل کی ادائیگی گھر میں

① ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”بندے کی بہترین نماز وہ ہے جسے وہ گھر میں ادا کرے، سوائے فرض نماز کے۔ “
(صحیح بخاری: 2113 صحیح مسلم: 781)
② نیز فرمایا: کسی شخص کی ایک نفل نماز، جسے وہ ایسی جگہ پر ادا کرے جہاں اسے لوگ نہ دیکھ سکتے ہوں، ان 25 نمازوں کے برابر ہوتی ہے جنہیں وہ لوگوں کے سامنے ادا کرے۔
( صحیح الجامع الصغیر: 3821)
③ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: انسان جو نماز گھر میں ادا کرے اس کی فضیلت لوگوں کے سامنے پڑھی گئی نماز پر ایسے ہے جیسے فرض نماز کی نفل نماز پر۔
(ایضا: 4217)
مذکورہ بالا احادیث کی بنا پر نفل نمازوں کو گھر میں پڑھنا چاہیے، چاہے وہ فرائض کی سنتیں ہوں یا چاشت کی نماز ہو، یا نماز وتر ہو یا کوئی اور نفل نماز ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل ہو سکے۔
گھر میں نوافل کی ادائیگی سے درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
① اس سے نماز میں خشوع زیادہ ہوتا ہے، اور انسان ریا کاری سے دور رہتا ہے۔
② گھر میں نماز پڑھنے سے گھر سے شیطان نکل جاتا ہے، اور اس گھر میں اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔
③ نوافل کو گھر میں ادا کرنے سے ان کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جیسا کہ فرض نماز کا ثواب مسجد میں باجماعت ادا کرنے سے کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔

قیام اللیل کی سنتیں

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”رمضان کے بعد محرم کے روزے سب سے افضل روزے ہیں جو کہ اللہ کا مہینہ ہے اور فرض نماز کے بعد رات کے نوافل سب سے افضل نماز ہے۔“
(صحیح مسلم: 1163)
① رات کی نفل نماز کی سب سے افضل تعداد گیارہ یا تیرہ رکعات ہے، بشرطیکہ ان میں قیام لمبا ہو، ایک حدیث میں ہے کہ ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے، اور دوسری حدیث میں ہے کہ تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔“
(صحیح بخاری: 994، 1164)
② کوئی انسان جب رات کی نفل نماز کے لیے بیدار ہو تو اس کے لیے مسواک اور سورۃ آل عمران کی آیت (190) ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ سے لے کر اس سورت کے آخر تک پڑھنا مسنون ہے۔
③ اور درج ذیل دعا پڑھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی نام سے ثابت ہے:
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، لَكَ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ
(صحیح بخاری: 1120وصحیح مسلم: 769)
”اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، تو ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، تو ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے، اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، تو ہی آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے، اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، تو برحق ہے اور تیرا وعدہ، تیری ملاقات، تیرا فرمان، جنت و دوزخ برحق ہیں اور تمام نبی برحق ہیں۔“
④ رات کی نفل نماز کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی ہے کہ اس کا آغاز دو ہلکی پھلکی رکعات سے کیا جائے تاکہ انسان بعد کی لمبی نماز کے لیے تیار ہو جائے، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”تم میں سے کوئی شخص جب رات کے قیام کے لیے کھڑا ہو تو دو ہلکی پھلکی رکعات سے نماز کا افتتاح کرے۔“
(صحیح مسلم: 768)
⑤ رات کی نفل نماز کا افتتاح درج ذیل دعا سے کرنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ اس موقعہ پر آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَلِيمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ. اهْدِنِي لِمَا اخْتَلَفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
(صحیح مسلم: 770)
اے اللہ! اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! اے غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو اپنے بندوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف میں فیصلہ کرتا ہے۔ مجھے اپنے حکم سے ان اختلافی باتوں میں حق کی طرف ہدایت دے، بے شک تو ہی جس کی تو چاہے، صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔
⑥ رات کی نفل نماز کو لمبا کرنا سنت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کونسی نماز افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس میں لمبا قیام کیا جائے۔ “
(صحیح مسلم: 756)
⑦ نفل نماز میں قراءت قرآن کے دوران آیات عذاب کو پڑھتے ہوئے اللہ کی پناہ طلب کرنا، مثلاً یوں کہنا: اللهم إني أعوذ بك من عذابك، اور آیات رحمت کو پڑھتے ہوئے اللہ کی رحمت کا سوال کرنا مثلاً یوں کہنا: اللهم إني أسألك من فضلك، اور جن آیات میں اللہ کی پاکیزگی بیان کی گئی ہو، ان کو پڑھتے ہوئے سبحان الله کہنا سنت ہے۔ ایک حدیث میں ہے:
”آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہوتی، وہاں تسبیح پڑھتے، اور جس میں اللہ سے سوال کرنے کا ذکر ہوتا، وہاں اس سے سوال کرتے اور جس میں عذاب کا ذکر آتا، وہاں اللہ کی پناہ طلب کرتے۔ “
(صحیح مسلم: 772)

قیام اللیل کے لیے اہم اسباب :

① دعا کرنا، ② رات کو جلدی سونا، ③ دوپہر کو قیلولہ کرنا، ④ گناہوں سے پرہیز کرنا اور ⑤ نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد کرنا۔

وتر کی سنتیں

① تین وتر پڑھنے والے شخص کے لیے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ الأعلى، دوسری میں سورۃ الکافرون اور تیسری میں سورۃ الإخلاص پڑھنا مسنون ہے۔
(سنن ترمذی: 462 صحیح، سنن ابو داود: 1430)
② نماز وتر سے سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ پڑھنا اور تیسری مرتبہ اس دعا کے ساتھ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ کا اونچی آواز میں پڑھنا بھی سنت ہے۔
(صحیح بخاری: 619)

فجر کی سنتیں

① فجر کی سنتوں کو ہلکا پھلکا (مختصر) پڑھنا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو مختصر رکعات پڑھا کرتے تھے۔ “
(صحیح سنن دار قطنی: 31/2)
② پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر (136)اور دوسری میں سورۃ آل عمران کی آیت نمبر (64)کا پڑھنا مسنون ہے۔
(صحیح مسلم: 727)
اور ایک روایت میں پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد الکافرون اور دوسری میں الاخلاص کو ذکر کیا گیا ہے۔
(صحیح مسلم: 726)
③ سنتیں پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر کے لیے دائیں پہلو پر لیٹنا: ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جایا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 1120)
سو جو شخص گھر میں فجر کی سنتیں ادا کرے، وہ اس سنت کے اجر و ثواب کو حاصل کرنے کی خاطر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے، پھر تھوڑی دیر کے بعد مسجد میں چلا جائے۔

نماز فجر کے بعد مسجد میں بیٹھے رہنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد اس وقت تک اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے جب تک سورج طلوع ہو کر بلند نہ ہو جاتا۔
(صحیح مسلم: 670)
اور اس کی فضیلت، جیسا کہ صحیح حدیث میں موجود ہے، یہ ہے کہ نماز کے بعد اللہ تعالی مسجد ہی میں بیٹھے رہنے والوں کے لیے فرشتوں کو مقرر کر دیتا ہے جو ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔
(صحیح بخاری: 477)

نماز کی قولی سنتیں

① تکبیر تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح کا پڑھنا:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
( سنن ترمذی: 242 صحیح)
”اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے اور تیرا نام بابرکت ہے اور تیری بزرگی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ
( صحیح بخاری: 744 صحیح مسلم: 598)
اے اللہ! میرے اور میری غلطیوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر دی ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میری کوتاہیوں کو پانی، برف اور اولوں کے ساتھ دھو دے۔
یاد رہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد استفتاح کی کچھ اور دعائیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، ان میں سے جو دعا آپ چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔
② قراءت سے پہلے أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ پڑھنا
③ پھر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھنا۔
④ فاتحہ کے بعد آمِين کہنا
آمِين کہنے کے بعد ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اور فجر، جمعہ اور ہر نفل نماز کی دونوں رکعات میں کسی اور سورت کی قراءت کرنا۔ یاد رہے کہ مقتدی صرف سری نمازوں میں فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کر سکتا ہے، البتہ جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اسے امام کی تلاوت پر ہی اکتفا کرنا ہوگا۔
⑥ رکوع وسجود میں تسبیحات یعنی سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ اور سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى کا ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنا، اور نمازی کو صرف انہی تسبیحات پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ان کے علاوہ دوسری دعائیں بھی پڑھنی چاہییں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، خاص طور پر سجدہ میں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، لہذا کثرت سے دعا کیا کرو۔“
( صحیح مسلم: 482)
⑦ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہنا یا درج ذیل دعا کا پڑھنا:
اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ أَهْلِ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
(صحیح مسلم: 477)
اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، اتنی تعریفیں جن سے آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے، سب بھر جائے۔ اے تعریف اور بزرگی کے لائق سب سے سچی بات جو بندے نے کہی، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، وہ یہ ہے کہ اے اللہ! جو تو دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جسے تو روک لے تو اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
⑧ دو سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي پڑھنا۔
⑨ آخری تشہد میں سلام پھیرنے سے پہلے یہ دعا پڑھنا: اللَّاللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
(صحیح مسلم: 588)
”اے اللہ! میں عذاب جہنم، عذاب قبر، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“
نماز کی مذکورہ قولی سنتوں میں سے بیشتر سنتیں ایسی ہیں جن پر ہر رکعت میں عمل کیا جا سکتا ہے، چاہے نماز فرض ہو یا نفل، اور اگر فرض اور نفل نمازوں کی ہر رکعت کی مذکورہ سنتوں کو جمع کر لیا جائے تو اندازہ کریں کہ دن اور رات میں کتنی زیادہ سنتوں کا ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے!!

نماز کی عملی سنتیں

① تکبیر تحریمہ کہتے وقت رفع الیدین کرنا۔
① رکوع میں جاتے ہوئے رفع الیدین کرنا۔
③ رکوع سے اٹھ کر رفع الیدین کرنا۔
④ دو تشہد والی نماز میں تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو کر رفع الیدین کرنا۔
⑤ رفع الیدین کرتے ہوئے انگلیوں کو ملا کر رکھنا۔
⑥ رفع الیدین کرتے ہوئے انگلیوں اور ہتھیلیوں کو قبلہ کی سمت سیدھا رکھنا۔
⑦ رفع الیدین کرتے ہوئے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر یا کانوں کی لو تک اُٹھانا۔
⑧ دونوں ہاتھوں کو سینے پر اس طرح رکھنا کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ہو، یا دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی کلائی کو پکڑا ہوا ہو۔
⑨ دورانِ قیام جائے سجدہ پر دیکھتے رہنا۔
⑩ حالت قیام میں دونوں پاؤں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنا۔
⑪ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا اور دورانِ قراءت اس میں تدبر کرنا۔

رکوع کی سنتیں

① دونوں گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے اس طرح پکڑنا کہ انگلیاں کھلی ہوں۔
② حالت رکوع میں پیٹھ کو سیدھا رکھنا۔
③ اپنے سر کو پیٹھ کے برابر رکھنا، سر پیٹھ سے اوپر ہو، نہ نیچے۔
④ اپنے بازوؤں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھنا۔

سجدہ کی سنتیں

① اپنے بازوؤں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھنا
② سجدے کی حالت میں اپنے گھٹنوں کے درمیان فاصلہ رکھنا۔
③ اپنے پاؤں کو کھڑا رکھنا۔
④ پاؤں کی انگلیوں کو زمین پر قبلہ رخ رکھنا۔
⑤ پاؤں کو ملا کر رکھنا۔
⑥ اپنے ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں کے برابر رکھنا۔
⑦ ہاتھوں کو کھلا رکھنا۔
⑧ ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر رکھنا۔
⑨ ہاتھوں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی سمت رکھنا۔
⑩ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے الگ رکھنا
⑪ اپنی رانوں کو اپنی پنڈلیوں سے جدا رکھنا۔

دوسجدوں کے درمیان جلسہ کی سنتیں

① اس جلسہ کی دو کیفیات ہیں:
ایک یہ کہ دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے ایڑیوں پر بیٹھنا اور دوسری یہ کہ دائیں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھنا۔
② اس جلسہ میں طوالت کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اس قدر طوالت کرتے تھے کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شاید آپ بھول گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پہلی اور تیسری رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے اُٹھنے سے پہلے بھی ایک جلسہ مسنون ہے، جسے جلسہ استراحت کہا جاتا ہے، البتہ اس جلسہ کی کوئی دعا نہیں۔

آخری تشہد کی سنتیں

① آخری تشہد میں بیٹھنے کی تین کیفیات ہیں:
ایک یہ کہ دایاں پاؤں کھڑا کر کے بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی کے نیچے کرلے اور زمین پر بیٹھ جائے۔
دوسری کیفیت پہلی کیفیت کی طرح ہے، لیکن دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کرنے کی بجائے اسے بھی بائیں پاؤں کی طرح بچھا لے۔
تیسری یہ کہ دایاں پاؤں کھڑا کر لے، اور بائیں پاؤں دائیں پنڈلی اور ران کے درمیان رکھ لے۔
② ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھنا، جبکہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہوں۔
③ تشہد میں (خواہ پہلا ہو یا آخری) اپنی انگشت شہادت کو حرکت دینا، اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کا انگوٹھا درمیان والی اُنگلی پر ایک گول دائرے کی شکل میں رکھا ہوا ہو، اور اپنی نظر انگشت شہادت پر رکھیں۔
④ سلام پھیرتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ کو گھمانا۔
نماز کی ان عملی سنتوں کو شمار کر لیں، پھر دیکھیں کہ ان میں سے کونسی سنت ہر رکعت میں آتی ہے اور کونسی سنت پوری نماز میں ایک یا دو مرتبہ آتی ہے۔ پھر دن اور رات کی فرض اور نفل نمازوں کی رکعات بھی شمار کر لیں تو دیکھیں چوبیس گھنٹوں میں آپ کتنی زیادہ سنتوں پر عمل کر کے کتنا زیادہ اجر و ثواب کما سکتے ہیں۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ جوزیہ کا کہنا ہے کہ بندے کو اللہ کے سامنے دو مرتبہ کھڑا ہوتا ہے، ایک نماز میں اور دوسرا قیامت کے روز تو جو شخص نماز کی حالت میں اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا حق ادا کر دیتا ہے، اس کے لیے قیامت کے دن کا کھڑا ہونا آسان ہوگا، اور جو شخص نماز والے قیام کا حق ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن والا قیام بھی انتہائی سخت ہوگا۔

فرض نماز کے بعد کی سنتیں

درج ذیل دعاؤں کا پڑھنا مسنون ہے:
① تین مرتبہ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ کہہ کر یہ دعا پڑھیں: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ
(صحیح مسلم: 591)
”اے اللہ! تو سلامتی والا ہے اور تجھ سے ہی سلامتی ہے، تو بابرکت ہے اے بزرگی اور عزت والے!“
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
(صحیح بخاری : 844، صحیح مسلم: 593)
اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے ساری بادشاہت ہے اور اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے تو اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی بزرگی والے کی بزرگی تجھ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الصَّنَاءُ الْحُسْنَى، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
(صحیح مسلم: 594)
اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے ساری بادشاہت ہے اور اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کسی برائی سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ کچھ کرنے کی۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ ساری نعمتیں اسی کے لیے ہیں، اور سارا فضل اس کے لیے ہے، اور اچھی صفت اسی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں، اگرچہ کافروں کو یہ بات ناپسند کیوں نہ ہو۔
④ 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ ، 33 مرتبہ الْحَمْدُ لِلَّهِ اور 33 مرتبہ اللَّهُ أَكْبَرُ کہنا، پھر ایک مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کا پڑھنا۔
(صحیح مسلم: 597 )

ان تسبیحات کے فوائد

دن اور رات کی ہر نماز کے بعد ان تسبیحات کو پڑھا جائے تو پڑھنے والے کے لیے 500 صدقوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہر تسبیح سُبْحَانَ اللَّهِ صدقہ ہے، اور ہر تکبیر اللَّهُ أَكْبَرُ صدقہ ہے، اور ہر الْحَمْدُ لِلَّهِصدقہ ہے، اور ہر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صدقہ ہے۔
(صحیح مسلم: 720)
اسی طرح اس کے لیے جنت میں 500 درخت لگا دیے جاتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزری جبکہ وہ شجر کاری کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! کیا میں تمہیں اس سے بہتر شجر کاری نہ بتاؤں؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ کہا کرو، ہر ایک کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جائے گا۔
(سنن ابن ماجہ: 3707 صحیح)
جو شخص ان تسبیحات کو پڑھتا ہے، اس کی غلطیاں، چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں، معاف کر دی جاتی ہیں۔
(صحیح مسلم: 2691)
ہمیشہ یہ تسبیحات پڑھنے والا شخص دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے محفوظ رہتا ہے۔
(صحیح مسلم: 596)
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
(سنن ابو داود: 1522 صحیح)
”اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی عبادت میں حسن (پیدا کرنے) پر میری مدد فرما۔“
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
(صحیح بخاری: 2822)
اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور بے قدر عمر کی طرف لوٹائے جانے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تُبْعَثُ عِبَادَكَ
”اے میرے رب! مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچانا جب تو اپنے بندوں کو اٹھائیں گے۔“
حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری خواہش ہوتی کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوں، تو میں نے انہیں یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تُبْعَثُ عِبَادَكَ
(صحیح مسلم: 709)
⑧ آخری تین سورتوں کو پڑھنا۔
(سنن ابو داود: 1523 صحیح)
⑨ آیت الکرسی کا پڑھنا، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی کو پڑھے، اس کے اور جنت کے درمیان صرف اس کی موت کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔
(سنن کبری از امام بیہقی: 9928)
⑩ فجر اور مغرب کے بعد دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(سنن ترمذی: 3534 حسن)
”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ساری بادشاہت ہے اور اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“
⑪ درج بالا تسبیحات کی گنتی دائیں ہاتھ پر کرنا۔
⑫ درج بالا اذکار اور دعاؤں کو جگہ تبدیل کیے بغیر اپنی جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے پڑھنا۔
ان تمام سنتوں پر اگر ہر فرض نماز کے بعد عمل کیا جائے تو تقریباً 55 سنتوں پر عمل ہوگا، اور فجر اور مغرب کے بعد اس سے بھی زیادہ، لہذا ان کا بھرپور خیال رکھنا چاہیے، یاد رہے کہ فرض نماز میں واقع ہونے والا خلل مذکورہ اذکار سے پورا کر دیا جاتا ہے۔

صبح و شام میں مسنون عمل

درج ذیل دعاؤں اور اذکار کا پڑھنا مسنون ہے:
① آیت الکرسی، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو شخص اسے صبح کے وقت پڑھ لے، اسے شام تک جِنوں سے پناہ دے دی جاتی ہے، اور جو اسے شام کے وقت پڑھ لے، اسے صبح ہونے تک جِنوں سے پناہ دے دی جاتی ہے۔
(صحیح ترغیب: 262 صحیح)
معوذات (آخری تین سورتوں کا پڑھنا)، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”جو شخص ان سورتوں کو صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھ لے، اسے یہ ہر چیز سے کافی ہو جاتی ہیں۔ “
(سنن ترمذی: 3575 حسن)
③ صبح کے وقت یہ دعا پڑھنا:
أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِيهِ هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
(صحیح مسلم: 2723)
”ہم نے صبح کی اور اللہ کے لیے حکمرانی نے صبح کی، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ساری بادشاہت ہے اور اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے میرے رب! میں آپ سے اس دن کی اور اس کے بعد والے دن کی خیر کا سوال کرتا ہوں، اور میں اس دن کے اور اس کے بعد والے دن کے شر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں، اے میرے رب! میں کسلی اور بڑھاپے کی برائی سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اے میرے رب! میں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔“
یہی دعا شام کے وقت بھی پڑھنی چاہیے، لیکن شام کے وقت أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ کی بجائے أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى اور هَذَا الْيَوْمُ کی بجائے هَذِهِ اللَّيْلَةُ کہنا ہوگا۔
④ صبح کے وقت یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
(سنن ترمذی: 3391 صحیح)
”اے اللہ! تیری توفیق سے ہم نے صبح کی اور تیری ہی توفیق سے ہم نے شام کی، اور تیرے حکم سے ہم زندہ ہوئے، اور تیرے ہی حکم سے ہم پر موت آئے گی، اور تیری طرف اٹھ کر جانا ہے۔“
اور یہی دعا شام کے وقت یوں پڑھیں:
اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ
اے اللہ! تیری توفیق سے ہم نے شام کی اور تیری ہی توفیق سے ہم نے صبح کی، اور تیرے حکم سے ہم زندہ ہوئے، اور تیرے ہی حکم سے ہم پر موت آئے گی، اور تیری طرف لوٹ کر جانا ہے۔
⑤ صبح و شام یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَىٰ عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! آپ میرے رب ہیں، آپ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ آپ نے مجھے پیدا کیا، اور میں آپ کا بندہ ہوں۔ اور میں اپنی طاقت کے مطابق آپ کے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں اپنے اوپر آپ کی نعمتوں کا اعتراف اور اپنے گناہ گار ہونے کا اعتراف کرتا ہوں، لہذا آپ مجھے معاف کر دیں کیونکہ آپ کے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔ “
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص اسے شام کے وقت یقین کے ساتھ پڑھ لے اور اسی رات میں اس کی موت آجائے تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا، اور اسی طرح جو اسے صبح کے وقت یقین کے ساتھ پڑھ لے اور اسی دن اس کی موت آجائے تو وہ بھی سیدھا جنت میں جائے گا۔
(صحیح بخاری: 6306)
⑥ صبح کے وقت یہ دعا چار مرتبہ پڑھیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أَشْهَدُكَ وَأَشْهَدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ
”اے اللہ! میں نے صبح کی۔ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں اور آپ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کو، اور آپ کے (دیگر) فرشتوں کو اور آپ کی پوری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ صرف آپ ہی سچے معبود ہیں، اور آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ اکیلے ہیں، آپ کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بندے اور رسول ہیں۔“
اور یہی دعا شام کے وقت بھی چار مرتبہ پڑھیں، لیکن شام کے وقت أَصْبَحْتُ کی بجائے أَمْسَيْتُکہنا ہوگا۔
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص اسے صبح و شام چار چار مرتبہ پڑھ لے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔
(سنن ابو داود: 5069)
⑦ صبح کے وقت یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ
”اے اللہ! مجھ پر یا آپ کی مخلوق میں سے کسی پر جس نعمت نے صبح کی وہ آپ کی طرف سے ہے۔ آپ اکیلے ہیں، آپ کا کوئی شریک نہیں سو تمام تعریف اور شکر آپ کے لیے ہے۔“
یہی دعا شام کے وقت بھی پڑھنی چاہیے، لیکن أَصْبَحَکی بجائے أَمْسَىکہا جائے۔ اور اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ جو آدمی اسے صبح کے وقت پڑھ لے، اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا، اور جو اسے شام کے وقت پڑھ لے، اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔
(سنن ابو داود: 5073)
⑧ صبح و شام تین تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
(سنن ابو داود: 5090 حسن)
”اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میرے کانوں میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری نظر میں عافیت دے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اے اللہ! میں کفر اور فقر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ “
⑨ صبح و شام یہ دعا سات سات مرتبہ پڑھیں:
﴿حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴾
(سورۃ التوبہ: 129)
”مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ میں نے اسی پر توکل کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔“
اس دعا کا فائدہ یہ ہے کہ جو شخص اسے صبح و شام سات سات مرتبہ پڑھ لے، اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی و اخروی غموں سے نجات دے دیتا ہے۔
(سنن ابو داود: 5، 81)
⑩ درج ذیل دعا صبح و شام پڑھیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي
(سنن ابن ماجہ: 3871 صحیح)
”اے اللہ! میں آپ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں آپ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل و عیال اور مال و دولت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے، اور مجھے ڈر اور خوف میں امن عطا کر۔ اے اللہ! آپ میری حفاظت فرمائیں، میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے، اور میرے اوپر سے۔ اور میں آپ کی عظمت کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔ “
⑪ درج ذیل دعا بھی صبح و شام پڑھیں:
اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَىٰ نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَىٰ مُسْلِمٍ
(سنن ترمذی: 3529 صحیح)
”اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! اے غیب اور حاضر کو جاننے والے! آپ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، آپ ہر شے کے رب اور مالک ہیں۔ میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور اس بات سے بھی آپ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر کسی برائی کا ارتکاب کروں یا کسی برائی کو کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔ “
⑫ درج ذیل دعا بھی صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھیں:
بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اللہ کے نام کے ساتھ کہ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ جو اسے صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھ لے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
(سنن ترمذی: 3388 حسن صحیح)
⑬ درج ذیل دعا بھی صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھیں:
رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا
”میں اللہ کو رب ماننے اور اسلام کو دین ماننے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننے پر راضی ہوں۔“
اس کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص اسے صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھ لے، اللہ پر واجب ہو جاتا ہے کہ وہ اسے قیامت والے دن راضی کرے۔
(مسند احمد: 337/4)
⑭ اسی طرح یہ دعا بھی صبح و شام پڑھیں:
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تُكَلِّنِي إِلَىٰ نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ
(مستدرک حاکم: 545/1 صحیح)
اے وہ جو کہ زندہ ہے ! اے (زمین و آسمان کو) قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے ساتھ مدد کا طلبگار ہوں۔ میرے تمام معاملات کو میرے لیے درست کر دے۔ اور مجھے ایک پل کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ فرما۔
⑮ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے:
أَصْبَحْنَا عَلَىٰ فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَدِينِ نَبِيّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(صحیح الجامع الصغیر: 4674 صحیح)
”ہم نے فطرت اسلام، کلمہ اخلاص اور اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور اپنے باپ حضرت ابراہیم حنیف مسلم کی ملت پر صبح کی، وہ شرک سے اعراض کرنے والے تھے، مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔“
⑯ صبح و شام سو مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ پڑھیں، اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص اسے صبح و شام سو مرتبہ پڑھ لے قیامت والے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں لا سکے گا، سوائے اس شخص کے کہ جو اسی آدمی کی طرح اسے پڑھتا تھا یا اس سے زیادہ عمل کرتا تھا۔
(صحیح مسلم: 2692)
نیز اس کی ایک اور فضیلت یہ بھی ہے کہ اس آدمی کے تمام گناہ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں، معاف کر دیے جاتے ہیں۔
⑰ صبح کے وقت یہ دعا سو مرتبہ پڑھیں:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اور اسے پڑھنے کے فضائل درج ذیل ہیں:
اسے سو مرتبہ پڑھنا دس گردنوں کو آزاد کرنے کے برابر ہے۔
اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔
اور اس کے سو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
اور یہ دعا شام ہونے تک اس شخص کے لیے شیطان کے سامنے حفاظت کا حصار بنی رہتی ہے۔
(صحیح بخاری: 3293 صحیح مسلم: 2691)
⑱ صبح کے وقت اس دعا کو پڑھیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
(سنن ابن ماجہ: 925 صحیح)
”اے اللہ! میں آپ سے علم نافع، پاکیزہ رزق، اور اس عمل کا سوال کرتا ہوں جسے قبول کر لیا جائے۔“
⑲ صبح و شام تین تین مرتبہ اس دعا کو پڑھیں:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ
( صحیح مسلم: 2726)
”اللہ پاک ہے، اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر، اور اپنے نفس کی رضا کے برابر، اور اپنے عرش کے وزن کے برابر، اور اپنے کلمات کے برابر۔ “
⑳ شام کے وقت تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
(سنن ترمذی: 3437 صحیح)
”میں ہر مخلوق کے شر سے اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں۔“
درج بالا اذکار اور دعاؤں میں سے جس کو بھی آپ پڑھیں گے ایک سنت پر عمل ہوگا، لہذا ان تمام کو صبح و شام پڑھا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ سنتوں پر عمل کرنے کا ثواب کما سکیں۔
یاد رہے کہ ان اذکار کو اخلاص، صدق اور یقین کے ساتھ اور ان کے معانی میں تدبر کرتے ہوئے پڑھنا ضروری ہے تاکہ عملی زندگی میں آپ کو ان کے اچھے نتائج محسوس ہو سکیں۔

لوگوں سے میل ملاقات کی سنتیں

① سلام کہنا :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اسلام میں کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو کھانا کھلائے، اور ہر جاننے والے اور نہ جاننے والے کو سلام کہے۔
(صحیح بخاری: 12 صحیح مسلم: 39)
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دس نیکیاں ہیں۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔ پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے بیس نیکیاں ہیں۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔ پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے تیس نیکیاں ہیں۔
(سنن ابو داود: 5195 صحیح)
تو غور فرمائیں! جو شخص پورا سلام نہیں کہتا وہ کتنا زیادہ اجر ضائع کر بیٹھتا ہے۔ اگر وہ پورا سلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اسے تیس نیکیاں ملتی ہیں، اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ گویا ایک مرتبہ پورا سلام کہنے سے تین سو نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور اگر اللہ چاہے تو اس سے بھی زیادہ عطا کر سکتا ہے، لہذا اپنی زبان کو پورا سلام کہنے کا عادی بنائیں تاکہ اتنا بڑا اجر و ثواب حاصل ہو سکے۔
اور مسلمان دن اور رات میں کئی مرتبہ سلام کہتا ہے۔ جب مسجد میں داخل ہو تو متعدد نمازیوں کو سلام کہنے کا موقع ملتا ہے، اسی طرح جب ان سے جدا ہو تب بھی انہیں سلام کہے، اور اسی طرح گھر میں آتے ہوئے اور پھر باہر جاتے ہوئے بھی سلام کہے تو ایسے تمام موقعوں پر پورا سلام کہا جائے تو اندازہ کر لیں کہ کتنا زیادہ ثواب صرف اس سلام کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے!!
اور یہ بات نہ بھولیں کہ جس طرح ملاقات کے وقت سلام کہنا مسنون ہے، اسی طرح جدائی کے وقت بھی پورا سلام کہنا سنت ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: تم میں سے کوئی شخص جب کسی مجلس میں جائے تو سلام کہے، اور جب وہاں سے جانا چاہے تو تب بھی سلام کہے کیونکہ ملاقات جدائی سے زیادہ سلام کا حق نہیں رکھتی۔
(سنن ابو داود: 5208 حسن صحیح)
انسان اگر ہر نماز کے وقت سلام کا اہتمام کرے تو وہ دن اور رات میں کئی مرتبہ سلام کہہ سکتا ہے، پانچ مرتبہ گھر سے جاتے ہوئے، پانچ مرتبہ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے، پانچ مرتبہ مسجد سے نکلتے ہوئے، اور پانچ مرتبہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے، جبکہ چوبیس گھنٹوں میں انسان کو کئی اور مقاصد کے لیے بھی گھر سے باہر جانا اور واپس آنا پڑتا ہے، اور اسی طرح کئی لوگوں سے ہم کلام ہونے کا بھی موقع ملتا ہے۔ ایسے ہی دن بھر میں کئی اور احباب سے فون پر بھی اس کا رابطہ ہوتا ہے تو ایسے تمام مواقع پر پورا سلام کہہ کر وہ بہت زیادہ نیکیاں کما سکتا ہے۔

② چہرے پر مسکراہٹ لانا یا خندہ پیشانی سے ملنا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: نیکی کے کسی کام کو حقیر مت سمجھو، خواہ تم اپنے بھائی کو مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملو۔
(صحیح مسلم: 2626)

③ مصافحہ کرنا

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: دو مسلمان ملاقات کے وقت جب مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
(سنن ابو داود: 5212 صحیح)
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہر ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب ہے۔ تو جب بھی کسی مسلمان سے آپ کی ملاقات ہو، آپ درج بالا تین سنتوں پر عمل کر کے بہت زیادہ ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔

④ اچھی بات کرنا:

فرمان الہی ہے
﴿وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا﴾
(الإسراء: 53)
”اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں، کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
اچھی بات کرنا صدقہ ہے۔
(صحیح بخاری: 2989 صحیح مسلم: 1009)
اچھی بات میں ذکر کرنا، دعا کرنا، سلام کہنا، برحق تعریف پیش کرنا، حکم دینا، سچ بولنا، اور نصیحت کرنا وغیرہ سب شامل ہیں۔
اچھی بات انسان پر حیرت انگیز اثر کرتی ہے، اور اسے راحت و اطمینان پہنچاتی ہے۔
اچھی بات اس کی دلیل ہوتی ہے کہ اس انسان کا دل نور ایمان اور ہدایت سے بھرا ہوا ہے۔
سو ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے۔ اپنی بیوی، اپنی اولاد، اپنے پڑوسی، اپنے دوست، اپنے ماتحت ملازمین، اور الغرض ان تمام لوگوں کے ساتھ اچھی بات کو معمول بنائے جن کے ساتھ اس کا دن اور رات میں کئی مرتبہ میل جول ہوتا ہے۔

مجلس سے اٹھ کر جانے کی سنت

① مجلس سے اٹھ کر جاتے ہوئے یہ دعا پڑھنی چاہیے:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
”اے اللہ! تو پاک ہے، اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔“
اس دعا کو پڑھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوران مجلس جو گناہ سرزد ہوتے ہیں، انہیں معاف کر دیا جاتا ہے۔
(سنن ترمذی: 3433 صحیح)
یاد رہے کہ دن اور رات میں انسان کئی مجالس میں شریک ہوتا ہے، مثال کے طور پر جب وہ دن اور رات میں تین مرتبہ اپنے اہل خانہ یا ساتھیوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتا ہے۔
جب وہ اپنے دوست یا کسی پڑوسی سے ملاقات کرتا ہے، اگرچہ کھڑے کھڑے اس سے بات چیت کر کے چلا کیوں نہ جائے۔
جب وہ دوران ڈیوٹی اپنے ساتھی ملازمین کے ساتھ یا سکول و کالج میں اپنے ہم کلاس طلبہ کے ساتھ رہتا ہے۔
جب وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہوتا ہے، اور ان کے ساتھ کئی امور پر تبادلہ خیالات کرتا ہے۔
جب وہ کسی کو اپنے ساتھ لے کر گاڑی میں گھومتا ہے یا اس کے ساتھ کسی کام پر جاتا ہے۔
جب وہ کوئی درس یا لیکچر سننے کے لیے دیگر حاضرین کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
تو ذرا سوچیں! ان مجلسوں میں سے کتنی مجلسیں ایسی ہیں جن سے اٹھ کر جاتے ہوئے آپ مندرجہ بالا دعا کو پڑھتے ہیں؟ اور اگر آپ اس دعا کے معنی میں غور فرمائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ دعا انتہائی عظیم ہے، اس کے ذریعے انسان ہمیشہ اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھتا ہے، اس کی تعریف کرتا ہے، اسے عیبوں سے پاک ذات قرار دیتا ہے، اس کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے، اور اپنی کوتاہیوں پر اللہ سے معافی مانگتا ہے، اور ان سے توبہ کرتا ہے، سو کتنی عظیم ہے یہ دعا کہ اس میں توحید بھی ہے، اللہ کی تعریف بھی ہے، اور اپنے گناہوں پر اظہار شرمندگی بھی ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”اپنے دوستوں کے ساتھ ملاقات دو قسم کی ہوتی ہے: “
① ایک ملاقات محض وقت گزارنے اور طبیعت کو خوش کرنے کے لیے ہوتی ہے، اور اس میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ جس کا کم از کم نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ دل کو فاسد اور وقت کو ضائع کرتا ہے۔
② دوسری ملاقات ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کرنے اور نجات پانے کے اسباب پر ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے لیے ہوتی ہے اور یہ ملاقات سب سے زیادہ نفع بخش اور بہت بڑی غنیمت ہے۔

کھانے کی سنتیں

کھانے سے پہلے اور کھانے کے دوران

① بسم اللہ کا پڑھنا: اگر شروع میں بھول جائے تو یاد آنے پر بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ پڑھ لے۔
(سنن ترمذی: 1858 صحیح)
② دائیں ہاتھ سے کھانا۔
③ اپنے سامنے سے کھانا۔
ایک حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: اے بچے! بسم اللہ پڑھو، اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
(صحیح بخاری: 5376)
④ لقمہ گر جائے تو اسے صاف کر کے کھا لینا۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جب تم میں سے کسی شخص سے لقمہ گر جائے تو وہ اسے صاف کر کے کھالے۔
(صحیح مسلم: 2033)
⑤ تین انگلیوں کے ساتھ کھانا۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے تھے
(صحیح مسلم: 2032)
اور اکثر و بیشتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ تھا۔ سو یہی افضل ہے، البتہ اگر مجبوری ہو تو کوئی دوسرا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

کھانے کے دوران بیٹھنے کی کیفیت

اپنے گھٹنوں اور پیروں کے بل بیٹھنا، یا دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پاؤں پر بیٹھنا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اسے مستحب قرار دیا ہے۔

کھانے کے بعد

① پلیٹ اور انگلیوں کو چاٹنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پلیٹ اور انگلیوں کو چاٹنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ برکت کس میں ہے۔
(ایضا: 2033)
② کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا: ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”بے شک اللہ تعالیٰ بندے سے اس وقت راضی ہو جاتا ہے جب وہ کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کا شکر ادا کرتا ہے۔“
(ایضا: 2734)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم درج ذیل الفاظ کے ساتھ کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرتے تھے:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ
”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری کوشش اور طاقت کے بغیر مجھے یہ عطا فرمایا۔“
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ اسے پڑھنے والے کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
(سنن ترمذی: 3458 حسن)
کھانے کی مذکورہ سنتوں پر اگر دن اور رات کے تینوں کھانوں میں عمل کیا جائے تو اس طرح 21 سنتوں پر عمل ہوگا۔ اور اگر تینوں کھانوں کے درمیان کوئی اور ہلکی پھلکی غذا بھی کھائی جائے تو سنتوں کی مذکورہ تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

پینے کی سنتیں

① بسم اللہ پڑھنا
② دائیں ہاتھ کے ساتھ پینا۔
③ پینے کے دوران برتن سے باہر تین مرتبہ سانس لینا: حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پینے کے دوران تین مرتبہ سانس لیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 5631)
④ بیٹھ کر پینا: ارشاد نبوی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر نہ پیئے۔
(صحیح مسلم: 2026)
⑤ پینے کے بعد الحمد للہ کہنا: ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ بندے سے اس وقت راضی ہو جاتا ہے جب وہ کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کا شکر ادا کرتا ہے، اور کوئی چیز پیتا ہے تو اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔
(صحیح مسلم: 2734)
مندرجہ بالا سنتیں صرف پانی پینے کی نہیں بلکہ ہر چیز کی ہیں، چاہے وہ گرم ہو یا ٹھنڈی، جبکہ اس دور میں بہت سارے لوگ صرف پانی پیتے ہوئے ان سنتوں کا خیال رکھتے ہیں اور باقی مشروبات میں نہیں رکھتے، حالانکہ یہ فرق کرنا غلط ہے۔

اگر نیت نیک ہو تو

یہ بات ہر انسان کو معلوم ہونی چاہیے کہ تمام مباح اعمال جیسے نیند، کھانا پینا اور طلب رزق وغیرہ ان تمام کو عبادات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ان کے ذریعے ہزاروں نیکیاں کمائی جا سکتی ہیں، بشرطیکہ اس کی نیت اللہ کا تقرب حاصل کرنا ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم: 1907)
اور اس کی ایک سادہ سی مثال یوں ہے کہ سوتے وقت اگر کوئی انسان یہ نیت کر کے جلدی سو جائے کہ نماز تہجد اور نماز فجر کے لئے جلدی بیدار ہو جائے گا تو اس کی یہ نیند عبادت بن جاتی ہے اسی طرح باقی مباحات بھی ہیں۔

بیک وقت ایک سے زیادہ عبادات

بیک وقت ایک سے زیادہ عبادات کرنے کا طریقہ صرف ان لوگوں کو آتا ہے جو اپنے قیمتی اوقات کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، اور اس کے کئی طریقے ہیں:
① انسان کا مسجد کی طرف جانا عبادت ہے، چاہے پیدل چل کر جائے یا سواری پر سوار ہو کر، لیکن اس دوران وہ کئی اور عبادات بھی کر سکتا ہے مثلاً اللہ کا ذکر اور تلاوت قرآن وغیرہ۔
② کسی دعوتی تقریب میں حاضر ہونا عبادت ہے بشرطیکہ اس تقریب میں منکرات نہ ہوں، اور اس دوران اگر وہ تقریب کے حاضرین کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دے اور انہیں پند و نصائح کرے یا اللہ کے ذکر میں مشغول رہے تو یوں ایک وقت میں وہ کئی عبادات کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔
③ عورت کا گھریلو کام کاج سر انجام دینا عبادت ہے، اگر اس کی نیت اللہ کا تقرب حاصل کرنا اور خاوند کو راضی کرنا ہو۔ اور اسی دوران اگر وہ اپنی زبان سے اللہ کا ذکر کرتی رہے یا کوئی اسلامی کیسٹ سنتی ہے تو اسے ایک وقت میں متعدد عبادتوں کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ دعا سو مرتبہ سنا کرتے تھے:
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
(سنن ابو داود: 1516 صحیح)
اے میرے رب! مجھے معاف فرما اور میری توبہ قبول کر، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
تو غور کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی وقت میں دو عبادتیں کیا کرتے تھے: ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مجلس اور انہیں دین کی تعلیم دینا، اور دوسری اللہ کا ذکر اور استغفار اور توبہ۔

ہر حال میں اللہ کا ذکر

① اللہ کا ذکر اللہ کی بندگی کی بنیاد ہے، کیونکہ ذکر سے تمام اوقات واحوال میں بندے کا اس کے خالق سے تعلق ظاہر ہوتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
(صحیح مسلم: 273)
اور ذکر اللہ کے ساتھ رابطہ ہے اور اس کے ساتھ رابطہ میں زندگی ہے، اور اس کی پناہ میں نجات ہے، اور اس کے قرب میں کامیابی اور اس کی رضا ہے، اور اس سے دوری اختیار کرنے میں گمراہی اور گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔
② اللہ کا ذکر مؤمنوں اور منافقوں میں فرق کرتا ہے، کیونکہ منافق بہت کم اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔
③ شیطان صرف اس وقت انسان پر غالب آ سکتا ہے جب وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہو، سو اللہ کا ذکر ایک مضبوط قلعہ ہے جو انسان کو شیطان کی چالوں سے بچا لیتا ہے، اور شیطان کو یہ بات پسند ہوتی ہے کہ انسان اللہ کے ذکر سے غافل رہے تاکہ وہ اسے بآسانی شکار کر سکے۔
④ ذکر سعادت مندی کا راستہ ہے، فرمان الہی ہے:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
(الرعد: 28)
”جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔“
⑤ ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتے رہنا انسان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ اہل جنت صرف اس گھڑی پر حسرت کریں گے جس میں انہوں نے اللہ کا ذکر نہیں کیا ہوگا۔ اور ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتے رہنا، ہمیشہ اللہ کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کی دلیل ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
علما کا اتفاق ہے کہ بے وضو یا جنبی شخص اور حیض و نفاس والی عورت کے لیے دل اور زبان کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا جائز ہے، جیسے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ اور درود شریف پڑھنا اور دعا کرنا، البتہ قرآن کی قراءت کرنا جائز نہیں۔
⑥ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے، اللہ اس کا ذکر کرتا ہے۔ فرمان الہی ہے:
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾
(البقرة: 152)
پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔
اور کسی انسان کو اگر اس بات کا پتہ چل جائے کہ اسے فلاں بادشاہ نے یاد کیا ہے اور اس نے اپنی مجلس میں اس کی تعریف کی ہے، تو اسے انتہائی خوشی ہوتی ہے، اسی طرح اگر اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اسے بادشاہوں کے بادشاہ نے فرشتوں کے سامنے یاد کیا ہے تو اس کی خوشی کا عالم کیا ہو گا!!
⑦ ذکر سے مقصود یہ نہیں کہ صرف زبان چلتی رہے اور دل اللہ کی عظمت اور اس کی اطاعت سے غافل رہے، بلکہ زبان کے ذکر کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی سوچوں کا مرکز اللہ رب العزت ہو اور وہ ذکر کے معانی میں تدبر کر رہا ہو۔
فرمان الہی ہے:
”اور صبح و شام اپنے رب کو یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ، اور نسبتاً نیچی آواز کے ساتھ، اور اہل غفلت میں سے مت ہونا۔“
(الأعراف: 205)
ذکر کرنے والے کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کسی عظیم ذات کا ذکر کر رہا ہے تاکہ ظاہری اور باطنی طور پر اللہ سے اس کا تعلق قائم رہے۔

اللہ کی نعمتوں میں غورو فکر

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
تَفَكَّرُوا فِي آلاءِ اللَّهِ وَتَدَبَّرُوا فِي اللَّهِ
اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو، اور اللہ میں غور و فکر نہ کیا کرو۔
(السلسلة الصحيحة: 1788 حسن)
اور وہ امور جو دن اور رات میں بار بار کیے جا سکتے ہیں، ان میں سے ایک ہے اللہ کی نعمتوں کا احساس اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا، تو چوبیس گھنٹوں میں کتنے مواقع ایسے آتے ہیں جن میں انسان اگر اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرے تو بے ساختہ طور پر اس کی زبان سے الحمد لله کے الفاظ جاری ہو جائیں۔ مثال کے طور پر:
① آپ جب مسجد کی طرف جا رہے ہوتے ہیں، خصوصاً فجر کے وقت اور آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے آس پاس کے لوگ مسجد کا رخ نہیں کر رہے اور صبح ہونے کے باوجود مردوں کی طرح گہری نیند سو رہے ہیں، تو کیا آپ نے کبھی اس بات کا احساس کیا کہ اللہ نے آپ کو ہدایت دے کر آپ پر کتنا بڑا احسان فرمایا ہے!
② آپ جب اپنی گاڑی میں بیٹھے راستے پر رواں دواں ہوتے ہیں تو آپ کو کئی مناظر دکھائی دیتے ہیں، ادھر کسی گاڑی کا حادثہ ہو گیا ہے، اور ادھر کسی گاڑی سے گانوں کی آواز آ رہی ہے، تو کیا آپ نے بھی سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتنا بڑا انعام فرمایا اور آپ کو حادثات سے محفوظ رکھا اور اپنی نافرمانی سے بچائے رکھا!
③ آپ جب خبریں سن رہے یا پڑھ رہے یا دیکھ رہے ہوتے ہیں، تو آپ کو قحط سالی، سیلاب، وبا، حادثات، زلزلوں، جنگوں اور قوموں پر مظالم کی خبروں کا علم بھی ہوتا ہے، تو کیا آپ نے کبھی اس بات کا احساس کیا کہ اللہ نے آپ کو ان سے محفوظ فرما کر آپ پر کتنا انعام کیا ہے!
سو نیک بخت ہے وہ انسان جو ہر دم اللہ رب العزت کی نعمتوں کو یاد رکھتا ہے اور ہر موقع پر اللہ کے ان احسانات کا احساس کرتا ہے جن سے اللہ نے اسے نواز رکھا ہوتا ہے، مثلاً صحت و تندرستی، خوشحالی، دین پر استقامت، آفتوں اور مصیبتوں سے امن اور ان کے علاوہ دیگر بے شمار نعمتیں، تو ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا ضروری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
جو شخص کسی مصیبت زدہ آدمی کو دیکھ کر درج ذیل دعا پڑھ لے تو وہ اس آزمائش سے محفوظ رہتا ہے:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا، اور اس نے اپنے پیدا کیے ہوئے بہت سے لوگوں پر مجھے فضیلت بخشی۔ (سنن ترمذی: 3431 صحیح)
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
(الأعراف: 69)
”پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کیا کرو تاکہ تم کامیابی پا جاؤ۔“

ہر ماہ میں تکمیل قرآن مجید

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
اقرأ القرآن فى شهر
”ایک مہینے میں قرآن پڑھا کرو۔“
(سنن ابو داود: 1388 صحیح)
اور ہر ماہ میں پورا قرآن مجید مکمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر فرض نماز سے پہلے یا اس کے بعد کم از کم چار صفحات کی تلاوت کریں، یوں دن اور رات میں بیس صفحات یعنی ایک پارے کی تلاوت ہو گی۔ اور اگر ہر روز اسی طرح کیا جائے تو تیس دنوں میں پورا قرآن مجید مکمل ہو سکتا ہے۔

سونے سے پہلے کی سنتیں

سونے سے پہلے درج ذیل دعاؤں کا پڑھنا مسنون ہے:
اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا
اے اللہ! میں آپ کے نام کے ساتھ مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔
(صحیح بخاری: 6314)
② دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کر کے ان میں پھونک ماریں اور پھر آخری تین سورتیں پڑھیں، اس کے بعد جہاں تک ہو سکے اپنی ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر پھیریں، اپنے سر اور چہرے سے شروع کریں اور جسم کے سامنے والے حصے پر ہتھیلیوں کو پھیریں، اور ایسا تین بار کریں۔
(صحیح بخاری: 5010)بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا ہے، اور تیرے فضل کے ساتھ ہی اسے اٹھاؤں گا، اگر تو نے میری روح کو قبض کر لیا تو اس پر رحم کرنا، اور اگر تو نے اسے واپس لوٹا دیا تو اس کی اس چیز کے ساتھ حفاظت کرنا جس کے ساتھ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔
(صحیح بخاری: 6320)
اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تُوَفِّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ
اے اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا، اور تو ہی اسے فوت کرے گا، تیرے لیے ہے اس کی موت اور اس کی زندگی، اگر تو نے اسے زندہ رکھا تو اس کی حفاظت کرنا، اور اگر تو نے اسے مار دیا تو اس کی مغفرت کرنا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔
(صحیح مسلم: 2712)
⑥ اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ کر تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچانا جب آپ اپنے بندوں کو اٹھائیں گے۔
(سنن ابو داود: 5045 صحیح)
⑦ 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ أكبر پڑھنا۔
(صحیح بخاری: 3113 ، صحیح مسلم: 2727)
ان تسبیحات کے فوائد نماز کے بعد کی سنتوں میں درج کیے جا چکے ہیں۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا، اور ہمیں کافی ہو گیا اور ہمیں جگہ دی۔ پس کتنے لوگ ہیں جنہیں کوئی کفایت کرنے والا نہیں اور نہ جگہ دینے والا۔
(صحیح مسلم: 2715)
اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! اے غیب اور حاضر کو جاننے والے! آپ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، آپ ہر شے کے رب اور مالک ہیں۔ میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور اس بات سے بھی آپ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر کسی برائی کا ارتکاب کروں یا کسی برائی کو کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔
(سنن ترمذی: 3529 صحیح)
اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِيَ إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ
اے اللہ! میں نے اپنے نفس کو آپ کے حوالے کر دیا، اور اپنا معاملہ آپ کے سپرد کر دیا، اور اپنی پشت کو آپ کی پناہ میں دے دیا، آپ کی طرف رغبت کرتے اور آپ سے ڈرتے ہوئے اور آپ کی ہی طرف پناہ پانے اور نجات حاصل کرنے کی جگہ ہے، میں آپ کی اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو آپ نے اتاری اور آپ کے نبی پر جسے آپ نے بھیجا۔
(صحیح بخاری: 6313)
اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ
اے اللہ! اے آسمانوں وزمین کے رب! اے عرش عظیم کے رب! اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے! اے تورات، انجیل اور قرآن کو اتارنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی کو آپ نے پکڑ رکھا ہے، اے اللہ! آپ ہی اول ہیں، پس آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور آپ ہی آخر ہیں، پس آپ کے بعد کوئی چیز نہیں، اور آپ ہی ظاہر ہیں، آپ سے اوپر کوئی چیز نہیں اور آپ ہی باطن ہیں، آپ کے نیچے کوئی چیز نہیں، ہماری طرف سے قرضہ ادا کر دیں اور ہمیں فقیری سے نکال کر غنی کر دیں۔
(صحیح مسلم: 2713)
⑫ سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات کا پڑھنا:﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ . لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾
(آیات نمبر 285، 286)
اور ان کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص انہیں رات میں پڑھ لے اسے یہ کافی ہو جاتی ہیں۔
(صحیح بخاری: 5009 صحیح مسلم: 808)
اور کافی ہو جانے سے مراد کیا ہے؟ اس میں علما کا اختلاف ہے، بعض کا کہنا ہے کہ قیام اللیل سے کافی ہو جاتی ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ ہر برائی اور شر سے کافی ہو جاتی ہیں، اور یہ دونوں معانی مراد لینا درست ہیں۔
(الأذكار از نووی رحمہ اللہ : ص 84)
⑬ سورۃ الکافرون کا پڑھنا، اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ ”یہ سورت شرک سے براءت (بیزاری) ہے۔“
(سنن ترمذی: 3403 صحیح)
⑭ سونے کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی ہے کہ باوضو سوئے، ایک حدیث میں ہے کہ تم جب بستر پر آنے کا ارادہ کرو تو وضو کر لیا کرو۔
(صحیح بخاری: 6311)
⑮ اسی طرح ایک سنت یہ بھی ہے کہ دائیں پہلو پر سوئے، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جانا۔
(صحیح بخاری: 247 صحیح مسلم: 2710)
⑯ اور ایک سنت یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے۔
(سنن ابوداود 50 صحیح )
⑰ اور سونے سے پہلے اپنا بستر جھاڑ لے، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: تم میں سے کوئی شخص جب اپنے بستر پر سونا چاہے تو اسے جھاڑ لے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے جانے کے بعد اس پر کیا آیا ہے۔
( صحیح بخاری: 6320 صحیح مسلم: 2714)
مذکورہ بالا دعاؤں کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ انسان ان تمام دعاؤں کو پڑھے، اگر ایسا نہ ہو سکے تو اپنی طاقت کے مطابق ان میں سے جو اہم دعائیں پڑھ سکتا ہے، پڑھ لے۔
یاد رہے کہ یہ دعائیں صرف رات کی نیند ہی کی نہیں بلکہ دن کی نیند کی بھی ہیں، کیونکہ ان کے متعلق جو احادیث ذکر کی گئی ہیں وہ ہر نیند کے بارے میں ہیں چاہے دن کو ہو یا رات کو، اور اگر انسان دن اور رات میں دو مرتبہ سوتا ہو، جیسا کہ بعض لوگوں کا معمول ہے تو مذکورہ سنتوں پر دو مرتبہ عمل ہو سکتا ہے۔
ان دعاوں کو پڑھنے کے دو فوائد حاصل ہوتے ہیں
① انسان اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے، اور اسی کی بناپر وہ رات کی تمام آفتوں اور شیطان کے شر سے بچ جاتا ہے۔
② انسان کے دن کا اختتام اللہ کے ذکر، اس کی اطاعت، اس پر توکل اور اس کی توحید پر ہوتا ہے۔