سوال:
درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
جواب:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أتيت على راع، فناده ثلاث مرار، فإن أجابك، وإلا فاشرب فى غير أن تفسد، وإذا أتيت على حائط بستان، فناد صاحب البستان ثلاث مرات، فإن أجابك، وإلا فكل فى أن لا تفسد
جب آپ کسی ریوڑ کے پاس آئیں تو چرواہے کو تین آواز میں لگائیں، اگر وہ جواب دے، تو درست، ورنہ آپ (اونٹنی یا بکری کا) دودھ پی سکتے ہیں لیکن دودھ خراب مت کریں۔ اسی طرح اگر آپ کسی باغ سے گزریں، تو مالک کو تین دفعہ آواز دیں، اگر وہ جواب دے، تو درست، ورنہ بقدر ضرورت کھا سکتے ہیں لیکن پھل خراب نہیں کرنا۔
(سنن ابن ماجه: 2300)
روایت ضعیف ہے۔ سعید بن ایاس جریری مختلط ہے، یزید بن ہارون نے ان سے بعد از اختلاط روایت لی ہے۔
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سماع يزيد بن هارون عنه بعد اختلاطه
یزید بن ہارون کا سعید جریری سے بعد از اختلاط سماع ہے۔
(السنن الكبرى: 9/604)
اس کی معتبر متابعت نہیں۔
❀ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد ضعيف
یہ سند ضعیف ہے۔
(مصباح الزجاجة: 3/38)
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أتى أحدكم على ماشية فإن كان فيها صاحبها فليستأذنه، فإن أذن له فليحتلب وليشرب، فإن لم يكن فيها فليصوت ثلاثا، فإن أجابه فليستأذنه وإلا فليحتلب وليشرب ولا يحمل
کوئی شخص کسی ریوڑ کے پاس آئے اور مالک موجود ہو، تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دے، تو دودھ نکال کر پی لے، اگر مالک موجود نہیں، تو اسے تین مرتبہ آواز دے، اگر جواب دے، تو اس سے اجازت مانگ لے، ورنہ دودھ نکالے اور پی لے، مگر اپنے ساتھ مت لے جائے۔
(سنن أبي داود: 2619، سنن الترمذي: 1296)
روایت ضعیف و منکر ہے۔
قتادہ مدلس ہے، سماع کی تصریح نہیں کی۔ حسن بصری کا عنعنہ ہے۔ سعید بن بشیر ازدی ضعیف ہے۔ سعید کی قتادہ سے روایت منکر ہوتی ہے۔
امام محمد بن عبد اللہ بن نمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يروي عن قتادة المنكرات
یہ قتادہ سے منکر روایات بیان کرتا ہے۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 4/7، وسنده صحيح)
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان رديء الحفظ فاحش الخطأ يروي عن قتادة ما لا يتابع عليه
اس کا حافظہ ردی تھا، فاحش غلطیاں کرتا تھا، اس نے قتادہ سے ایسی روایات بیان کی ہیں، جن پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
(كتاب المجروحين: 1/319)