پیدائش کے وقت چمارن بلانے کے شرعی و سماجی اثرات

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد نمبر: 1، صفحہ نمبر: 39
مضمون کے اہم نکات

چمارن کو پیدائش کے وقت بلانے کا شرعی حکم

سوال

پیدائش کے وقت چمارن کا بلانا

سوال کا پس منظر

ہندوستانی مسلمان معاشرے میں یہ رواج عام ہے کہ:
◈ جب عورت کو بچہ جننے کا وقت قریب آتا ہے تو چمارن (یعنی ہندو دایہ) کو بلایا جاتا ہے۔
◈ اس سے بچے اور زچہ کی دیکھ بھال اور خدمت کروائی جاتی ہے۔
◈ لوگ اس عمل کو اتنا ضروری اور واجب سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان خاندان چمارن کو نہ بلائے اور اس کی جگہ کسی مسلمان تجربہ کار عورت سے یہ خدمت لے،
◈ تو وہ شخص برادری میں مطعون قرار پاتا ہے
◈ حتیٰ کہ بعض اوقات اسے برادری سے خارج بھی کر دیا جاتا ہے۔

حالانکہ واضح حقیقت یہ ہے کہ چمارن:
◈ ہندوؤں کی طرح مشرکہ، کافرہ اور ناپاک العقیدہ ہوتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے وقت میں شریعت مطہرہ کی روشنی میں کیا حکم ہے؟

سوال کنندہ: عبدالعزیز، ڈاکخانہ کٹرہ بازار، ضلع گونڈہ

 

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چمارن کو ضروری سمجھنا: جہالت و گناہ

◈ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بچے کی ولادت کے وقت چمارن کو بلانا ضروری یا لازم ہے،
◈ اور جو لوگ چمارن کو نہیں بلاتے، ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں،
◈ یا ان کو برادری سے خارج کرتے ہیں،
◈ ایسے تمام لوگ سخت جاہل، گنوار، احمق اور گناہ گار ہیں۔

شریعت، عقل اور طب کی روشنی میں بہتر طریقہ

◈ ایک صاف ستھری، توہمات سے پاک، شریف، تجربہ کار مسلمان عورت یا شریف ہندو دایہ کو بلانا:
◈ شریعتاً
◈ عقلاً
◈ اور طباً
ہر لحاظ سے بہتر ہے۔

چمارن کی حقیقت

◈ چمارنیں:
◈ گندی،
◈ پھوہڑ،
◈ توہم پرست،
◈ جاہل،
◈ اور ناتجربہ کار ہوتی ہیں۔

لہٰذا:
◈ بچے کی پیدائش کے لیے چمارن کو بلانا کسی لحاظ سے مناسب یا مستحسن نہیں،
◈ چہ جائیکہ اسے ضروری یا واجب سمجھا جائے۔

صفائی ستھرائی کے کام میں مضائقہ نہیں

◈ ہاں، اگر پیدائش کے وقت:
◈ گندگی صاف کرنے
◈ یا زچہ کے فضلات وغیرہ کو اٹھانے کے لیے چمارن یا بھنگن کو بلایا جائے،
◈ تو دونوں برابر ہیں،
◈ اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں۔
◈ یہ خدمت کسی مسلمان عورت سے بھی لی جا سکتی ہے،
◈ کیونکہ شریعت میں یہ کام مسلمان کے لیے حرام نہیں ہے۔

عقیدہ کی درستگی

◈ کسی کام کو لازمی اور ضروری سمجھنا جبکہ شریعت نے اسے لازم قرار نہ دیا ہو،
◈ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔

کتبہ:
عبیداللہ المبارک پوری الرحمانی،
مدرس، مدرسۃ دارالحدیث الرحمانیہ، بدلہی

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب