مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے یا تینوں دن؟ مکمل وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) جلد ۲، صفحہ ۱۷۵

پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے یا تینوں دن برابر ثواب رکھتے ہیں؟ – تفصیلی وضاحت

سوال:

عید الاضحی کے تین دنوں میں سے پہلے دن قربانی کرنا زیادہ ثواب کا باعث ہے یا تمام دنوں کا اجر برابر ہے؟ برائے مہربانی وضاحت کریں۔

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن ارشاد فرمایا:

"آج ہم پہلے نماز پڑھیں گے، پھر قربانیاں کریں گے۔”
(صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب سنۃ العیدین لاھل الاسلام، حدیث ۹۵۱، صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب ۱، حدیث ۱۹۶۱)

اس حدیث مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی پہلے دن یعنی 10 ذوالحجہ کو کی۔ لہٰذا، عید الاضحی کے تین دنوں میں سے پہلا دن قربانی کے لیے سب سے افضل اور بہتر ہے۔

باقی دو دن، یعنی 11 اور 12 ذوالحجہ کو قربانی کرنا بھی جائز اور باعثِ اجر ہے، لیکن افضلیت پہلے دن کو حاصل ہے۔

صحابہ کرام کی رائے:

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

"قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے، اور افضل قربانی نحر والے (پہلے) دن ہے۔”

خلاصہ:

◈ قربانی کے تین دن (10، 11، 12 ذوالحجہ) جائز اور باعث اجر ہیں۔
◈ ان میں پہلا دن (10 ذوالحجہ) سب سے افضل اور زیادہ ثواب والا ہے۔
◈ یہ عمل سنتِ نبوی اور صحابہ کرام کی رہنمائی کے مطابق ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔