پھٹی ہوئی جراب پر مسح کا شرعی حکم

سوال:

مضمون کے اہم نکات

کیا پھٹے ہوئے جراب پر مسح کیا جا سکتا ہے؟

جواب از فضیلۃ الباحث افضل ظہیر جمالی حفظہ اللہ

1. جرابوں پر مسح کی رخصت:

شریعت میں جرابوں پر مسح کی رخصت کا اصل مقصد امت کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے، نہ کہ تنگی۔
کتاب و سنت میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ مسح صرف مکمل یا غیر پھٹی ہوئی جرابوں پر جائز ہے۔

2. مسح کی شرعی حیثیت:

اگر جراب پاؤں کو ڈھانپنے والی چیز کے طور پر پہنی گئی ہے، خواہ وہ پھٹی ہو، ہلکی ہو یا موٹی، تب بھی اس پر مسح کرنا جائز ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ہم جراب پر مسح کرنے کے لیے کسی قسم کی خودساختہ شرطیں لگائیں، تو یہ امت پر تنگی کا سبب بنے گا، جو شریعت کے مقاصد کے خلاف ہے۔

3. خلاصہ:

  • پھٹی ہوئی یا ہلکی جرابوں پر بھی مسح جائز ہے، جب تک ان کا نام جراب ہو اور وہ عام طور پر پاؤں پر پہنی جاتی ہوں۔
  • شریعت نے مسح کی رخصت دی ہے، اور اس میں غیر ضروری سختی یا شرطیں لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حوالہ:

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ، فتاوی نور علی الدرب، 350

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️