سوال:
کسی کو پھولوں کا تحفہ پیش کرنا کیسا ہے؟
جواب:
ایک دوسرے کو تحفہ دینا اچھی عادت ہے اور اس سے محبت بڑھتی ہے، شریعت میں تحفہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
تهادوا تحابوا
”ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو تو تم آپس میں محبت کرنے لگو گے۔“
(الأدب المفرد للبخاري 594)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے۔ (التلخیص الحبیر 75/2)
اسی طرح صحیح بخاری وغیرہ میں ایک حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ہدیہ بھیجے ہرگز حقیر نہ سمجھے، اگر چہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔“
(بخاری، کتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب فضل الهبة 2566)
مذکورہ بالا صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدیہ وقفہ لینا یا دینا محبت کا باعث ہے۔ لہٰذا پھولوں کا گلدستہ ہو یا کوئی کھانے پینے کی حلال چیز، ایسے تحفے دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور نہ اس میں یہود کی مشابہت ہے۔ مشابہت سے مراد کسی قوم کے ایسے شعار یا مخصوص طرز کو اپنانا ہوتا ہے جس کی اسلام میں اجازت نہ ہو۔