سوال:
سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، قيل: ومن يا رسول الله؟ قال: الذى لا يأمن جاره بوائقه
اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! کون؟ فرمایا: جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔
(صحیح البخاری: 6016)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه
وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا، جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔
(صحیح مسلم: 46)
ان احادیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ پڑوسی کو تنگ کرنے والا مومن نہیں اور نہ وہ جنت میں داخل ہو سکتا ہے؟ کیا پڑوسی کو تنگ کرنے سے انسان کا ایمان ختم ہو جاتا ہے؟
جواب:
پڑوسی کو تنگ کرنا کبیرہ گناہ ہے اور کمالِ ایمان کے منافی ہے۔ حدیث میں جو ایمان کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد کامل مومن ہے، کہ جب تک انسان پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت نہ رکھے، کامل مومن نہیں بن سکتا۔
پڑوسی کو تنگ کرنے پر جو جنت سے محروم ہونے کی وعید ہے، وہ اس کی قباحت اور شناعت کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ انسان جنت سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔ یا یہ مطلب ہو کہ پڑوسیوں کو تنگ کرنے والا بغیر عذاب چکھے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ گویا پڑوسی کو ستانے پر جنت سے محرومی ایک مدت تک کے لیے ہوگی۔
اہل سنت والجماعت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے کہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کوئی مومن کا ایمان ختم نہیں ہو جاتا، نہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا اور نہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت سے محروم ہوگا۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ
(النساء: 48)
بلاشبہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا، اس کے علاوہ جو چاہے گا، جسے چاہے گا، معاف فرما دے گا۔
❀ امام طبری رحمہ اللہ (310ھ) فرماتے ہیں:
قد أبانت هذه الآية أن كل صاحب كبيرة ففي مشيئة الله إن شاء عفا عنه، وإن شاء عاقبه عليه ما لم تكن كبيرة شركا بالله
اس آیت نے واضح کر دیا کہ شرک کے علاوہ ہر گناہ کبیرہ کا مرتکب اللہ تعالیٰ کی مرضی پر ہوگا، چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور چاہے گا، تو اسے سزا دے گا۔
(تفسیر الطبری: 7/122)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
أول خلاف حدث فى الملة فى الفاسق الملي: هل هو كافر أو مؤمن، فقالت الخوارج: إنه كافر، وقالت الجماعة: إنه مؤمن، وقالت طائفة المعتزلة: هو لا مؤمن ولا كافر، منزلة بين منزلتين، وخلدوه فى النار، واعتزلوا حلقة الحسن البصري وأصحابه، فسموا معتزلة، وأما أهل السنة فلم يخرجوه من الإسلام، ولم يحكموا عليه بخلود فى النار، وإنما هو فاسق بكبيرته مؤمن بإيمانه، وهو تحت مشيئة الله تعالى
امت میں پہلا اختلاف کبیرہ گناہ کے مرتکب کے بارے میں ہوا کہ کیا وہ کافر ہے یا مومن، خوارج نے کہا: وہ کافر ہے، ایک جماعت (مرجیہ) کے نزدیک وہ مومن ہے، جبکہ معتزلہ نے کہا کہ وہ نہ کافر ہے نہ مومن، بلکہ منزلہ بین المنزلتین ہے، انہوں نے اسے ہمیشہ جہنمی قرار دیا، اس طرح وہ حسن بصری رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ کی مجلس سے علیحدہ ہو گئے، اس وجہ سے انہیں معتزلہ کہا جاتا ہے۔ اہل سنت والجماعت نے مرتکب کبیرہ کو نہ اسلام سے خارج کیا اور نہ ان کو ہمیشہ کا جہنمی بتایا، بلکہ وہ اپنے کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے اور اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے، اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔
(مجموع الفتاوی: 3/183، لوامع الأنوار البهیہ للسفارینی: 1/346)