پڑوسیوں اور راستوں کے شرعی احکام: شفعہ کے مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل کتاب البیوع:جلد 02: صفحہ 95
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فقہائے کرام نے اپنی کتبِ فقہ میں پڑوسیوں اور راستوں سے متعلق احکام کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، کیونکہ یہ مسئلہ نہایت اہم اور عام ضرورت سے تعلق رکھتا ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ پڑوسیوں کے مابین مختلف قسم کے مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان کا بروقت حل ضروری ہے تاکہ بات دشمنی اور نزاع تک نہ پہنچے۔ اس سلسلے میں چند اہم اصول و ضوابط درج ذیل ہیں:

پڑوسیوں سے متعلق اہم اصول

① عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانا

◈ فریقین کے درمیان انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے صلح کروائی جائے۔

② پانی گزارنے کا معاملہ

◈ اگر کسی شخص کو اپنے پڑوسی کی زمین کے کنارے یا اس کی سطح سے پانی گزارنے کی ضرورت ہو تو وہ باہمی رضامندی سے معاوضہ طے کرسکتے ہیں۔
◈ اگر یہ معاوضہ کسی نفع کے بدلے ہو اور زمین کی ملکیت برقرار رہے تو یہ "اجارہ” کے حکم میں ہوگا۔
◈ اور اگر ملکیت منتقل ہوجائے تو یہ بیع شمار ہوگی۔

③ گزرگاہ کی ضرورت

◈ اگر کسی کو اپنے پڑوسی کی زمین میں سے راستہ درکار ہو تو وہ صلح کے ذریعے یا ضرورت کے مطابق زمین خرید کر راستہ حاصل کرسکتا ہے۔
◈ مالک کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے پڑوسی کو مجبوری کی حالت میں راستہ دینے سے روکے یا اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھائے۔

④ درخت کی شاخ کا معاملہ

◈ اگر درخت کی شاخ بڑھ کر پڑوسی کی زمین یا فضا میں داخل ہوجائے تو درخت کے مالک پر لازم ہے کہ وہ اسے کاٹ دے یا اپنی طرف موڑ لے۔
◈ اگر وہ انکار کرے تو زمین کا مالک اسے کم سے کم نقصان کے ساتھ ختم کرسکتا ہے کیونکہ یہ تجاوز کے مترادف ہے۔
◈ البتہ اگر دونوں اس پر صلح کرلیں، خواہ معاوضہ کے ساتھ یا پھل کی تقسیم کے ذریعے، تو یہ بھی جائز ہے۔

⑤ درخت کی جڑ کا حکم

◈ اگر درخت کی جڑ پڑوسی کی زمین میں چلی جائے تو اس کا حکم بھی وہی ہے جو شاخ کا بیان ہوچکا ہے۔

⑥ نقصان دہ تبدیلیاں کرنا منع ہے

◈ اپنی ملکیت میں ایسی تبدیلی کرنا جائز نہیں جس سے پڑوسی کو نقصان ہو، مثلاً:
✔ حمام بنانا
✔ تنور لگانا
✔ قہوہ خانہ یا فیکٹری قائم کرنا
✔ ایسی کھڑکی یا روشن دان کھولنا جس سے پڑوسی کے گھر میں نظر پڑتی ہو

⑦ مشترکہ دیوار کے احکام

◈ مشترکہ دیوار میں بغیر اجازت کھڑکی کھولنا یا بڑی میخ ٹھونکنا جائز نہیں۔
◈ مشترکہ یا پڑوسی کی دیوار پر بلا ضرورت بوجھ رکھنا درست نہیں۔
◈ اگر چھت ڈالنے کے لیے شہتیر رکھنا ہو اور دیوار وزن برداشت کرسکے تو پڑوسی کو منع نہیں کرنا چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"لاَ يَمْنَعْ جارٌ جارَهُ أَنْ يغْرِزَ خَشَبَةً في جِدارِهِ”
"کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی رکھنے سے نہ روکے۔” [صحیح البخاری المظالم باب لا یمنع جارجارہ ان یغرز خشبۃ فی جدارہ حدیث 2463 وصحیح مسلم المساقاۃ باب غرز الخشبہ فی جدار الحار حدیث 1609]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے:
"تعجب ہے کہ میں تمھیں دیکھ رہا ہوں کہ تم (اس حکم کو ماننے سے) گریز کررہے ہو، اللہ کی قسم! میں ضرور اس کو تمہارے کندھوں کے درمیان ماروں گا۔” [صحیح البخاری المظالم باب لایمنع جار جارہ ان یغرز خشبۃ فی جدارہ حدیث 2463۔وصحیح مسلم المساقاۃ باب غرز الخشبۃ فی جدار الجار حدیث 1609]

اس سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کو لکڑی رکھنے سے روکنا درست نہیں، اور اگر کوئی رکاوٹ بنے تو حاکم اسے مجبور بھی کرسکتا ہے۔

راستوں سے متعلق شرعی احکام

① راستہ کشادہ رکھنا

◈ مسلمانوں کو راستوں میں تنگ کرنا جائز نہیں۔
◈ تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ایمان کا حصہ ہے۔

② راستہ تنگ کرنا منع ہے
◈ اپنی ملکیت میں ایسی تبدیلی کرنا جس سے راستہ تنگ ہو، مثلاً اوپر چھت ڈال دینا یا چبوترہ بنانا، جائز نہیں۔

③ راستے میں رکاوٹیں ڈالنا منع ہے

◈ جانور باندھنا
◈ گاڑیاں کھڑی کرنا
◈ یہ سب حادثات اور تنگی کا سبب بنتے ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی عمارت کا کوئی حصہ مسلمانوں کی گزرگاہ کی طرف نکالے حتیٰ کہ دیوار کو سیمنٹ کرنا بھی جائز نہیں، الا یہ کہ دیوار کو اپنی حدود کے اندر اتنا پیچھے کرلیا جائے جتنی سیمنٹ کی موٹائی ہو۔” [مجموع الفتاویٰ 30/10]

④ راستے میں تکلیف دہ کام ممنوع ہیں

◈ پودا لگانا
◈ عمارت بنانا
◈ گڑھا کھودنا
◈ ایندھن رکھنا
◈ جانور ذبح کرنا
◈ کوڑا، راکھ یا نجاست پھینکنا

بلدیہ کے ذمہ داروں پر لازم ہے کہ وہ ایسے افراد کو روکیں اور باز نہ آنے والوں کو سزا دیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَالَّذينَ يُؤذونَ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنـٰتِ بِغَيرِ مَا اكتَسَبوا فَقَدِ احتَمَلوا بُهتـٰنًا وَإِثمًا مُبينًا ﴿٥٨﴾
"جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیتے ہیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وہ بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔” [الاحزاب 33/58]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ”
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔” [صحیح البخاری الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ حدیث 10]

نیز فرمایا:

"الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً, فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ, وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ, وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ”
"ایمان کے ستر سے کچھ زائد شعبے ہیں، سب سے افضل لا إله إلا الله کہنا ہے اور سب سے کم درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔” [صحیح مسلم الایمان باب بیان عدد شعب الایمان۔۔۔حدیث 35]

شفعہ کے احکام

 شفعہ کا لغوی معنی

◈ شفعہ لفظ "شفع” سے ماخوذ ہے جس کے معنی "جفت” کے ہیں۔
◈ چونکہ شفعہ کرنے والا منفرد مبیع کو اپنی ملکیت میں شامل کرلیتا ہے، اس لیے اسے شفعہ کہا جاتا ہے۔

 شفعہ کی مشروعیت

◈ شفعہ سنتِ صحیحہ سے ثابت ہے۔
◈ اس کے ذریعے شریعت نے شراکت سے پیدا ہونے والے فساد کا دروازہ بند کیا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"شریعت کے عدل و انصاف پر مبنی قوانین میں سے ایک شفعہ بھی ہے… شریعت نے ضرر کو کبھی تقسیم سے اور کبھی شفعے سے ختم کیا ہے… شریک اجنبی کی نسبت زیادہ حق دار ہے… شفعہ عدل و انصاف کی بہترین صورت ہے اور انسانی فطرت کے مطابق ہے۔” [اعلام الموقعین 2/123]

شفعہ کی تعریف (اصطلاحی)

◈ اگر ایک شریک اپنا حصہ فروخت کردے تو دوسرے شریک کو حق حاصل ہے کہ وہ اسی قیمت پر وہ حصہ حاصل کرلے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے:

"قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالشفعة في كل ما لم يقسم، فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة "
"ہر اس چیز میں شفعہ ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، اور جب حدود مقرر ہوجائیں اور راستے جدا ہوجائیں تو شفعہ نہیں۔” [صحیح البخاری الشفعۃ باب الشفعۃ فیمالم یقسم۔۔۔حدیث 2257 ومسند احمد 3/296،399]

نیز فرمایا:

"لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ "
"کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شریک کو اطلاع دیے بغیر فروخت کرے۔” [صحیح مسلم المساقاۃ باب الشفعۃ حدیث 1608]

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اگر شریک کو اطلاع دی گئی اور اس نے انکار کردیا تو بعد میں مطالبہ نہیں کرسکتا…” [اعلام الموقعین 2/123]

حیلہ سازی کی ممانعت

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"کسی مسلمان کا حق شفعہ ساقط کرنے کے لیے حیلہ کرنا حرام ہے۔” [اعلام الموقعین 3/260]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لا تَرْتَكِبُوا مَا ارْتَكَبَتِ الْيَهُودُ , فَتَسْتَحِلُّوا مَحَارِمَ اللَّهِ بِأَدْنَى الْحِيَلِ "
"یہودیوں کی طرح حیلوں کے ذریعے اللہ کی حرام چیزوں کو حلال نہ بناؤ۔” [تفسیر ابن کثیر الاعراف 7/163]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"الفاظ بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی، حق شفعہ کو ختم کرنے کے لیے حیلہ ناجائز ہے۔” [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ :30/386]

 شفعہ کب باقی رہتا ہے؟

◈ غیر منقسم زمین میں شفعہ ہوگا۔
◈ اگر حدود مقرر ہوجائیں لیکن راستہ مشترک ہو تو بھی شفعہ باقی رہے گا۔

حدیث:

"فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة " [صحیح البخاری الشفعۃ باب الشفعۃ فیمالم یقسم۔۔۔حدیث 2257]

امام احمد، ابن قیم اور تقی الدین رحمہم اللہ نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ [اعلام الموقعین:2/132]

 شفعہ کے دیگر مسائل

① اگر شفیع کو فروخت کا علم ہو تو فوراً مطالبہ کرے۔
② اگر علم نہ ہو تو برسوں بعد بھی حق باقی رہے گا۔
③ ابن ہبیرہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق: "علماء کا اتفاق ہے کہ اگر صاحبِ حق غائب ہو تو واپسی پر مطالبہ کرسکتا ہے۔”
④ شریک اپنے حصے کے بقدر حق رکھتا ہے۔
⑤ اگر ایک شریک دستبردار ہوجائے تو دوسرا مکمل جائیداد لے یا چھوڑ دے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب