سوال :
پشت، پنڈلی اور جسم کے دوسرے حصوں سے بال صاف کرنے کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟
جواب :
مذکورہ اعضاء سے بال تراشنا جائز ہے، اگر اس سے بدن کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور اس کا مقصد عورتوں یا کافروں کی مشابہت نہ ہو، کیونکہ اصل اباحت ہے اور کسی بھی مسلمان کے لیے بلا دلیل کسی چیز کو حرام ٹھہرا دینا جائز نہیں ہے اور جو کچھ پوچھا گیا ہے اس کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ان چیزوں کے بارے میں خاموش رہنا ان کے مباح ہونے کی دلیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مونچھیں کتروانے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور شرمگاہ کے بال مونڈنے کو لازم ٹھہرایا ہے، اس طرح مردوں کے لیے سر مونڈنے کو بھی مباح کیا ہے اور بالوں کو اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے، نیز ہمیں داڑھی بڑھانے، اسے لمبا کرنے اور اسے ہاتھ نہ لگانے کا حکم دیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسری چیزوں سے خاموشی اختیار کی ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول جس سے خاموش رہ جائیں وہ مباح ہوتا ہے، اسے حرام ٹھہرانا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے راوی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، جنھیں ضائع مت کرو، کچھ حدود متعین کیے ہیں، جنھیں پامال مت کرو، کچھ چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، جن کا ارتکاب نہ کرو اور تم پر رحم کرتے ہوئے کچھ چیزوں سے دانستہ سکوت اختیار کیا ہے، ان کی تہ میں نہ پڑو۔“
(الدارقطنی 298/4ح47610)
اس کے قائل امام نووی رحمہ اللہ بھی ہیں، حدیث مذکور کی روشنی میں دیگر بہت سے علماء نے بھی ایسا ہی کہا ہے، اس معنی و مفہوم کی اور بھی احادیث و آثار مروی ہیں جن میں کچھ کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”جامع العلوم والحکم“ میں ابو ثعلبہ سے مروی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔ جو مزید معلومات حاصل کرنا چاہے مذکورہ کتاب کی طرف رجوع کرے۔ واللہ أعلم!