پاکدامن مسلمان مرد پر زنا کی تہمت لگانے پر کیا سزا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

پاکدامن مسلمان مرد پر زنا کی تہمت لگانے پر کیا سزا ہے؟

جواب:

پاکدامن مسلمان مرد پر زنا کی تہمت لگانے کی وہی سزا ہے، جو پاکدامن مسلمان عورت پر تہمت زنا لگانے کی سزا ہے۔ اس حد میں اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ زنا کی تہمت پر چار عادل گواہ پیش کرنا ضروری ہیں، اگر کوئی شخص تین گواہ لائے، چوتھا نہ مل سکے، تو بھی اسے حد قذف لگے گی اور آئندہ اس کی کسی معاملے میں گواہی معتبر نہ ہوگی۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
(سورة النور: 4)
جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، پھر چار گواہ بھی نہیں لے کر آتے، تو انہیں اسی کوڑے (حد قذف میں) لگاؤ اور آئندہ ان کی گواہی بھی قبول نہ کرو، یہ فاسق لوگ ہیں۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
قد انعقد الإجماع على أن حكم قدف المحصن من الرجال حكم قدف المحصنة من النساء
اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ پاکدامن مرد پر تہمت زنا لگانے کا بھی وہی حکم ہے، جو پاکدامن عورت پر تہمت زنا لگانے کا حکم ہے۔
(فتح الباري: 12/181)