مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

پانی کی عدم دستیابی میں تیمم کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر کوئی شخص پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے تیمم کرے اور نماز شروع کر دے، دوران نماز پانی آ جائے، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

پانی دستیاب نہ ہو یا پانی استعمال کرنا ممکن نہ ہو، تو تیمم مشروع ہے۔ تیمم سے مکمل پاکی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں اگر تیمم کر کے نماز شروع کر دی، اور اسی اثنا میں پانی مل جائے، تو وہ نماز جاری رکھے گا۔ اس کی نماز بالا اجماع صحیح ہے۔
❀ علامہ غزالی رحمہ اللہ (505ھ) فرماتے ہیں:
المتيمم إذا رأى الماء فى خلال الصلاة مضى فى الصلاة، لأن الإجماع منعقد على صحة صلاته ودوامها
تیمم کرنے والا اگر نماز کے دوران پانی دیکھے، تو وہ نماز جاری رکھے گا، کیونکہ اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ اس کی نماز صحیح ہے اور پانی دیکھ کر بھی نماز جاری رکھنا درست ہے۔
(المستصفى: 160)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔