مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

پانچ وقت کی نمازوں کی رکعتیں برابر کیوں نہیں؟ حکمت اور وجہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 391

سوال

پانچوں نمازوں کی رکعتیں برابر برابر کیوں نہیں؟ کم بیش ہونے کی کیا وجہ ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ اس سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

صبح کی نماز (فجر):
صبح کے وقت دو رکعت فرض مقرر کی گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت کے اعتبار سے اور کیفیت کے لحاظ سے دو رکعتیں نہ چار سے زیادہ ہیں اور نہ کم۔

مغرب کی نماز:
مغرب کے وقت بوجہ مشغولی ایک رکعت کم کر دی گئی ہے۔

روزمرہ کے حالات کے اعتبار سے:
لوگ صبح اٹھنے کے بعد کچھ وقت اپنی ضروریات میں مصروف رہتے ہیں۔ آج کے حساب سے دیکھا جائے تو تقریباً دس بجے تک یہ وقت گزر جاتا ہے، اس کے بعد باقی اوقات نمازوں کے مکمل وقت ہیں۔ اگر حساب لگایا جائے تو یہ ترتیب سمجھ میں آتی ہے۔

پہلے انبیاء کے زمانے میں نمازیں:
سابقہ پیغمبروں پر بھی نماز مختلف اوقات میں فرض کی گئی تھی، سب ایک ہی وقت میں نہیں تھی۔ اس بات کا ثبوت آج کے یہودیوں کے عمل سے بھی ملتا ہے۔

فکذا فی الفتاویٰ الثنائیہ (ج۱ ص۴۴۸)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔