مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
پانچ نمازوں کی فرضیت
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
❀ ارکانِ اسلام میں کلمۂ شہادت کے بعد سب سے زیادہ اہمیت اور تاکید نماز کو حاصل ہے۔
❀ نماز عبادت کی ایک جامع اور حسین صورت ہے، جس میں عبادت کی متعدد شکلیں شامل ہیں، مثلاً:
◈ ذکرِ الٰہی
◈ تلاوتِ قرآن
◈ قیام
◈ رکوع
◈ سجدہ
◈ دعا
◈ تسبیح
◈ تکبیر
❀ نماز بدنی عبادات کی چوٹی ہے۔
❀ اللہ کے تمام رسولوں کی شریعت نماز سے خالی نہیں رہی۔
❀ شرعی احکام میں نماز کو یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر معراج کی رات، آسمانوں میں فرض فرمائی [صحیح البخاری الصلاۃ باب کیف فرضت الصلاۃ فی الاسراء حدیث 349، صحیح مسلم الایمان باب الاسراء برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 162]
✔ یہ خصوصیت نماز کی عظمت، اس کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بلند مقام کو واضح کرتی ہے۔
نماز کی فرضیت اور اس کا انکار
❀ نماز کی فضیلت اور فرضیت پر بے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں۔
❀ اسلام میں نماز کی فرضیت ایک بدیہی حقیقت ہے۔
❀ جو شخص نماز کی فرضیت کا انکار کرے وہ مرتد ہے، اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا، اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کرنے پر امت کے علماء کا اتفاق ہے۔
نماز کا لغوی اور اصطلاحی معنی
◈ عربی زبان میں نماز کو "صلاۃ” کہتے ہیں، جس کا لغوی معنی دعا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَصَلِّ عَلَيْهِمْ﴾
ترجمہ: "اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ ان کے لیے دعا کیجیے۔” [التوبۃ 9/103]
◈ نماز کا شرعی اور اصطلاحی معنی یہ ہے کہ یہ مخصوص اقوال و افعال پر مشتمل عبادت ہے، جس کی ابتدااللہ اکبر سے اور انتہا سلام پھیرنے پر ہوتی ہے۔
چونکہ نمازی نماز میں اللہ کی عبادت، ثنا اور دعا میں مشغول رہتا ہے، اسی لیے اسے "صلاۃ” کہا جاتا ہے۔
پانچ وقت کی نمازوں کی فرضیت
❀ ہجرت سے پہلے معراج کی رات ہر عاقل، بالغ مسلمان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّلوٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتـٰبًا مَوقوتًا﴾
ترجمہ: "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض کی گئی ہے۔” [النساء 4/103]
❀ نماز کے اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے واضح فرمائے۔
❀ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَما أُمِروا إِلّا لِيَعبُدُوا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ حُنَفاءَ وَيُقيمُوا الصَّلوٰةَ﴾
ترجمہ: "اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ خالص ہو کر اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں۔” [البینۃ 98/5]
❀ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ فرما کر نماز کی اہمیت واضح کی۔
ایک مقام پر فرمایا: ﴿قُل لِعِبادِىَ الَّذينَ ءامَنوا يُقيمُوا الصَّلوٰةَ﴾
ترجمہ: "میرے ایمان والے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ نماز قائم کریں۔” [ابراہیم 14/31]
❀ سورۃ الروم میں ارشاد فرمایا: ﴿فَسُبحـٰنَ اللَّهِ حينَ تُمسونَ وَحينَ تُصبِحونَ وَلَهُ الحَمدُ فِى السَّمـٰوٰتِ وَالأَرضِ وَعَشِيًّا وَحينَ تُظهِرونَ﴾
ترجمہ: "پس اللہ کی تسبیح بیان کرو جب تم شام کرو اور جب صبح کرو، اور اسی کے لیے تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں، اور دن کے پچھلے پہر اور دوپہر کے وقت بھی۔” [الروم 30/17-18]
کن افراد پر نماز فرض نہیں
❀ عاقل اور بالغ مسلمان پر نماز کا وقت آتے ہی نماز فرض ہوجاتی ہے۔
❀ عورت حیض یا نفاس کی حالت میں ہو تو اس پر نماز فرض نہیں، اور پاکی کے بعد اس کی قضا بھی لازم نہیں۔
❀ جو شخص سویا ہوا ہو اور بیدار ہوجائے، یا بے ہوش ہو اور ہوش میں آجائے، اس پر فوت شدہ نماز کی قضا لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلوٰةَ لِذِكرى﴾
ترجمہ: "اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔” [طہٰ 20/14]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ نَسِىَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا”
ترجمہ: "جو شخص نماز بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے نماز ادا کر لے۔” [صحیح مسلم المساجد باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ حدیث 684]
بچوں کو نماز کی تعلیم
① سرپرست پر لازم ہے کہ بچہ سات برس کا ہو جائے تو اسے نماز کی تلقین کرے، اگرچہ اس عمر میں نماز فرض نہیں۔
② اس عمل سے بچے اور سرپرست دونوں کو اجر ملے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَن جاءَ بِالحَسَنَةِ فَلَهُ عَشرُ أَمثالِها﴾
ترجمہ: "جو نیکی لے کر آئے گا اسے دس گنا اجر دیا جائے گا۔” [الانعام 6/160]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ”
ترجمہ: "ہاں، اور تمہارے لیے اجر ہے۔” [صحیح مسلم الحج باب صحۃ حج الصبی حدیث 1336]
اگر بچہ دس برس کا ہو جائے اور نماز میں سستی کرے تو سرپرست اسے تادیباً مار سکتا ہے: "مُرُوا أَوْلادَكُمْ بِالصَّلاةِ…”
ترجمہ: "اپنے بچوں کو سات برس کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور دس برس میں نہ پڑھیں تو انہیں مارو۔” [سنن ابی داود 495، مسند احمد 2/187]
نماز چھوڑنے کا انجام
❀ جو شخص فرضیت کا انکار کیے بغیر محض سستی سے نماز چھوڑ دے، صحیح قول کے مطابق کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بين العبد وبين الكفر ترك الصلاة”
ترجمہ: "بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے۔” [صحیح مسلم الایمان حدیث 82]
اذان اور اقامت کے احکام
❀ اذان نماز کے وقت کی اطلاع کے لیے مشروع کی گئی۔
❀ اذان اور اقامت اسلام کے نمایاں شعائر میں سے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "المؤذِّنُونَ أَطوَلُ النّاسِ أَعنَاقًا يومَ القِيامة”
ترجمہ: "قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔” [صحیح مسلم الصلاۃ حدیث 387]
❀ اذان و اقامت فرضِ کفایہ ہیں۔
❀ اذان پندرہ اور اقامت گیارہ کلمات پر مشتمل ہے۔
❀ اذان میں غیر مسنون الفاظ کا اضافہ بدعت اور حرام ہے۔
اذان کے جواب کا حکم: [صحیح مسلم الصلاۃ حدیث 385]
اذان کے بعد یہ دعا پڑھی جائے: "اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ…”
ترجمہ: "اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما۔” [صحیح البخاری الاذان حدیث 614]
قرآنی ترغیب برائے نماز
﴿فى بُيوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرفَعَ وَيُذكَرَ فيهَا اسمُهُ…﴾
ترجمہ: "ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اللہ کے نام کے ذکر کا حکم دیا گیا ہے، صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے۔” [النور 24/36-37]
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب