مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

پانچ بھائیوں کی جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 587

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ پانچ بھائی ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ ان کی ملکیت تقسیم کی گئی تو سب بھائیوں کو برابر برابر حصے دیے گئے۔

اس تقسیم کے بعد چار بھائیوں کی اولاد ہوئی، جبکہ ایک بھائی سلطان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ سلطان اپنے بھتیجے عبدالرشید کے ساتھ رہتا تھا۔ عبدالرشید نے اپنے چچا کو والد کی طرح عزت دی اور انہیں اپنے گھر کا سربراہ بنایا۔

بعد ازاں عبدالرشید محنت مزدوری کرتا رہا اور اپنی محنت سے خاصی ملکیت جمع کرلی۔ چونکہ اس نے اپنے گھر کا سربراہ اپنے چچا سلطان کو بنایا تھا، اس لیے ساری ملکیت سلطان کے نام پر کروادی۔

اب سلطان کو وفات پائے ہوئے 22 سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصہ میں سلطان کے باقی بھتیجوں نے اس ملکیت میں اپنا کوئی حصہ طلب نہیں کیا۔ تاہم اب ایک بھتیجا سلیم خان یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس ملکیت میں اس کا بھی حصہ بنتا ہے، جبکہ باقی سب بھتیجے خاموش ہیں اور وہ سب گواہ ہیں کہ یہ ملکیت دراصل سلطان کی اصل ملکیت نہیں تھی بلکہ عبدالرشید نے اپنی محنت سے کما کر اپنے چچا کے نام پر کروائی تھی۔

سوال یہ ہے کہ:
کیا دوسرے بھتیجوں یا ان کی اولاد کو اس جائیداد میں کوئی حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح رہے کہ سلطان کی ساری جائیداد حقیقت میں عبدالرشید کی ہی ہے، وجوہات درج ذیل ہیں:

✿ سلطان نے عبدالرشید کو جائیداد کا وارث بنایا اور اسے ہبہ کردیا۔
✿ جو بھی جائیداد جمع ہوئی وہ عبدالرشید کی کمائی سے بنی۔
✿ اس بات کی گواہی بھی موجود ہے کہ یہ ملکیت دراصل عبدالرشید کی کمائی سے بنائی گئی اور صرف گھر کے سربراہ کی حیثیت سے سلطان کے نام پر کی گئی تھی۔
✿ مزید یہ کہ سلطان کے انتقال کو 22 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، اور اس دوران کسی نے کوئی دعویٰ یا مطالبہ نہیں کیا۔

جبکہ اب صرف سلیم خان دعویٰ کررہا ہے، مگر چونکہ:

✿ باقی سب بھتیجے اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کررہے۔
✿ گواہ بھی موجود ہیں کہ یہ ملکیت اصل میں عبدالرشید کی ہے۔
✿ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر والد (اکبر یا شوکت وغیرہ) نے حصہ طلب نہیں کیا تو ان کے بیٹے بھی بعد میں مطالبہ کرنے کے حق دار نہیں۔

لہٰذا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس جائیداد میں سلیم خان یا کسی دوسرے بھتیجے کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔

یہ ساری ملکیت صرف اور صرف عبدالرشید کی ملکیت ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔