پانچویں صدی کے ائمہ اور عقیدہ استوا
علامہ معمر بن احمد بن زیاد اصبہانی رحمتہ اللہ (418 ھ) فرماتے ہیں:
إن الله عز وجل استوى على عرشه بلا كيف ولا تشبيه ولا تأويل، فالاستواه معقول، والكيف فيه مجهول، والإيمان به واجب، والإنكار له كفر… وأنه جل جلاله بائن من خلقه والخلق باتنون منه، فلا حلول ولا ممازجة ولا اختلاط ولا ملاصقة، لأنه الفرد البائن من خلقه، والواحد الغني عن الخلق، علمه بكل مكان، ولا يخلو من علمه مكان.
’’اللہ اپنے عرش پر مستوی ہے۔ ہم اس کی کیفیت بیان نہیں کرتے ، نہ تشبیہ دیتے ہیں اور نہ کوئی (نا جائز) تاویل کرتے ہیں۔ عرش پر مستوی ہونا عقل میں آنے والی بات ہے، اس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔ اللہ اپنی مخلوق سے جُدا ہے اور مخلوق اس سے جدا ہے۔ خالق اور مخلوق کا آپس میں حلول ، ملاپ اور اختلاط نہیں ، کہ اللہ اکیلا اور اپنی مخلوق سے جدا ہے، وہ اکیلا اور اپنی مخلوق سے بے پروا ہے۔ اس کا علم ہر جگہ ہے، اس کے علم سے کوئی جگہ خالی نہیں۔‘‘
(الحجة في بيان المحجّة وشرح عقيدة أهل السنة :248/1-249 ، وسنده صحيح)
امام ابو زکریا یحییٰ بن عمار سجزی رحمتہ اللہ (422ھ) فرماتے ہیں:
مسلم من أول العصر إلى عصرنا هذا إذا دعا الله سبحانه رفع يديه إلى السماء، والمسلمون من عهد النبي صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا، يقولون في الصلاة ما أمرهم الله به تعالى به فى قوله تعالى: (سبح اسم ربك الأعلى) ، قال: ولا حاجة لله سبحانه وتعالى إلى العرش، لكن المؤمنين كانوا محتاجين إلى معرفة ربهم عز وجل، وكل من عبد شيئا أشار إلى موضع ، أو ذكر من معبوده علامة، فجبارنا وخالقنا، إنما خلق عرشه ليقول عبده المؤمن، إذا سئل عن ربه عز وجل أين هو الرحمٰن؟ على العرش استوى معناه فوق كل محدث على عرشه العظيم، ولا كيفية ولا شبه.
’’آغاز اسلام سے آج کے دن تک کا ہر مسلمان جب اللہ کو پکارتا ہے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر آج تک مسلمان اپنی نمازوں میں اللہ کے حکم: (سبح اسم ريك الأعلى) کے مطابق (سبحان ربي الأعلى) کہتے ہیں۔ اللہ کو عرش کی کوئی حاجت نہیں، لیکن مؤمن اپنے رب عزوجل کی معرفت کے محتاج ہیں۔ کوئی بھی شخص جو کسی چیز کی عبادت کرتا ہے، وہ کسی جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہے یا اپنے معبود کی کوئی علامت ذکر کرتا ہے۔ ہمارے جبار رب اور خالق نے عرش کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ جب اس کے مومن بندے سے سوال کیا جائے کہ رحمٰن کہاں ہے، تو وہ کہہ دے کہ وہ عرش پر مستوی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ ہر مخلوق سے اوپر اپنے عظیم عرش پر ہے، ہم اس کی کوئی کیفیت بیان نہیں کرتے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تشبیہ دیتے ہیں۔‘‘
(الحجة في بيان المحجة للأصبهاني: 108/2)
امام کبیر، حافظ، ابو عمر طلمنکی رحمتہ اللہ (429ھ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل السنة على أن الله تعالىٰ استوى على العرش على حقيقته، لا على المجاز.
”اہل سنت کا اجماع واتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ یہ استوا حقیقی ہے، نہ کہ مجازی ۔‘‘
(اجتماع الجيوش الإسلامية لابن القيم: 142/2)
اپنی کتاب ’’الوصول الى معرفتہ الاصول‘‘ میں لکھتے ہیں:
أجمع المسلمون من أهل السنة على أنه معنى قوله: (وهو معكم اين ما كنتم) (الحديد: 4)، ونحو ذلك من القرآن أنه علمه، وأن الله تعالى فوق السماوات بالذات مستو على عرشه كيف شاء.
اہل سنت کا اجماع ہے کہ فرمانِ الہی:
(وهو معكم أين ما كنتم)
(الحديد: 4)
(تم جہاں بھی ہو، اللہ تمھارے ساتھ ہے)
اور اس طرح کی دیگر آیات قرآنیہ سے مراد اللہ کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے، جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
(کتاب العلو، ص 178)
امام ابو زکریا یحییٰ بن عمار سجستانی رحمتہ اللہ (442 ھ) فرماتے ہیں:
لا نقول كما قال الجهمية: إنه داخل للأمكنة، وممازج لكل شيء، ولا نعلم أين هو، بل هو بذاته على العرش، وعلمه محيط بكل شيء، وعلمه وسمعه وبصره وقدرته مدركة لكل شيء، وهو معنى قوله: وهو معكم اين ما كنتم والله بما تعملون بصير ، وهو بذاته على عرشه كما قال سبحانه، وكما قال رسوله.
ہم جہمیوں کی طرح نہیں کہتے کہ اللہ تمام جگہوں میں دخول کیے ہوئے ہے اور ہر چیز کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے؟ بلکہ (ہمارا عقیدہ ہے کہ) اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ اس کا علم، سمیع، بصر اور اس کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے۔ اس فرمانِ باری تعالیٰ کا یہی معنی ہے:
(وهو معكم أين ما كنتم والله بما تعملون بصيره)
’’آپ جہاں بھی ہوتے ہو، وہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور آپ کے اعمال کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔‘‘
اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر ہے، جیسا کہ خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔“
(كتاب العرش للذهبي : 448/2 مجموع الفتاوى لابن تيمية: 191/5)
حافظ، ابونصر عبید اللہ بن سعید وائلی سجزی رحمتہ اللہ (444 ھ ) ’’الا بانتہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
أئمتنا كسفيان، ومالك ، والحمادين، وابن عيينة، والفضيل (ابن عیاض)، وابن المبارك، وأحمد بن حنبل، وإسحاق متفقون على أن الله سبحانه فوق العرش وعلمه بكل مكان، وأنه ينزل إلى السماء الدنيا، وأنه يغضب ويرضى ويتكلم بما شاء.
’’ہمارے ائمہ ، مثلاً سفیان (ثوری)، مالک، دونوں حماد (حماد بن سلمہ، حماد بن زید)، (سفیان) ابن عیینه، فضیل (ابن عیاض)، (عبد الله) ابن المبارک، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ رحمتہ اللہ کا اتفاق ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ عرش پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔ وہ (رات کو) آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔ غضب، رضا اور تکلم اس کی صفات ہیں، وہ جس سے چاہتا ہے، تکلم کرتا ہے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء للذهبي: 658/17، مجموع الفتاوىٰ لابن تيمية: 190/5)
امام ابو عثمان اسماعیل بن عبدالرحمٰن صابونی رحمتہ اللہ (449 ھ ) فرماتے ہیں:
علماء الأمة وأعيان الأئمة من السلف رحمهم الله لم يختلفوا في أن الله تعالى على عرشه، وعرشه فوق سماواته، يثبتون له من ذلك ما أثبته الله تعالى ويؤمنون به ويصدقون الرب جل جلاله في خبره، ويطلقون ما أطلقه سبحانه وتعالى من استوائه على العرش ، ويمرونه على ظاهره، ويكلون علمه إلى الله.
’’امت کے علما اور سلف میں سے کبار ائمہ کا اتفاق ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے۔ اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ سلف صالحین اللہ کے لیے وہ صفات ثابت کرتے ہیں، جو خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کی ہیں اور وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں، جو اللہ نے انھیں دی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے مطلق چھوڑا، اسے مطلق چھوڑتے ہیں، یعنی عرش پر مستوی ہونا، وہ اس آیت کو ظاہر پر برقرار رکھتے ہیں اور اس کا علم اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔‘‘
(عقيدة السلف وأصحاب الحديث، ص 15-16)
حافظ ابن عبدالبر رحمتہ اللہ ( 463ھ) نزول باری تعالٰی کے متعلق حدیث ابی ہریرہ رضی الله عنه ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
فيه دليل على أن الله عز وجل في السماء على العرش من فوق سبع سماوات، كما قالت الجماعة، وهو من حجتهم على المعتزلة والجهمية في قولهم: إن الله عز وجل في كل مكان، وليس على العرش.
’’یہ حدیث دلیل ہے کہ اللہ ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے، یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ یہ حدیث معتزلہ اور جہمیہ کے خلاف اہل سنت کی دلیل ہے، معتزلہ و جہمیہ کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ ہے، (صرف) عرش پر نہیں۔‘‘
(التمهيد لما في المؤطّاً من المعاني والأسانيد: 129/7)
نیز فرماتے ہیں:
لم يزل المسلمون في كل زمان إذا همهم أمر وكربهم غم يرفعون وجوههم وأيديهم إلى السماء رغبة إلى الله عز وجل في الكف عنهم.
’’ہمیشہ سے ہر دور میں مسلمانوں کا یہ دستور رہا ہے کہ جب انھیں کوئی معاملہ پریشان کرتا یا کوئی غم انھیں تکلیف دیتا، تو وہ اپنے چہروں اور ہاتھوں کو آسمانوں کی طرف اٹھا کر اس تکلیف کو دور کرنے کے لیے اللہ کی طرف توجہ کرتے تھے ۔‘‘
(التمهيد لما في المؤطّاً من المعاني والأسانيد: 81/22)