مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

پانچوں نمازوں کے مسنون اوقات صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اوقات نماز کا بیان

❀ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
[النساء: 103]
بلاشبہ مومنوں پر نماز اس کے مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن پانچوں نمازیں اول وقت میں پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں، پھر فرمایا: ”ان دونوں اوقات کے درمیان کا وقت نماز کا وقت ہے۔“
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 614]
❀ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے افضل عمل کے متعلق پوچھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصلاة فى أول وقتها
”نماز اول وقت میں ادا کرنا۔“
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب المحافظة على وقت الصلوات: 426 – ترمذی: 170 – صحیح]
❀ بعض لوگ بلا عذر نماز کو لیٹ کر کے ادا کرتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں، نماز وقت پر فرض کی گئی ہے، لہذا انھیں تو یہ کرنی چاہیے۔

نماز فجر کا وقت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت صلاة الصبح من طلوع الفجر ما لم تطلع الشمس
نماز فجر کا وقت طلوع فجر (پوپوٹھنے) سے طلوع آفتاب تک ہے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 173/612]
❀ صبح کے وقت دو قسم کی روشنیاں پیدا ہوتی ہیں، پہلی روشنی زمین سے سیدھی آسمان کی طرف اوپر چلی جاتی ہے، پھیلتی نہیں، جبکہ دوسری روشنی زمین سے بلند ہوتی ہے اور آسمان کے افق (کناروں) میں پھیل جاتی ہے۔ اسی روشنی کے بعد نماز فجر کا وقت شروع ہوتا ہے۔
[ابن خزيمة: 210/3، ح: 1927 – مستدرك حاكم: 191/1، ح: 688۔ اسے امام حاکم، علامہ الذہبی اور علامہ الالبانی نے صحیح کہا ہے]
❀ طلوع فجر واضح ہونے کے بعد ہی نماز ادا کرنی چاہیے، کہیں پہلی روشنی دیکھ کر نماز ادا نہ کر لی جائے، وہ نماز نہیں ہوگی۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یہی ہے:
أصبحوا بالصبح، فإنه أعظم لأجوركم
”نماز فجر صبح کو اچھی طرح واضح ہو جانے پر پڑھو، کیونکہ یہ تمھارے اجر میں اضافے کا موجب ہوگی۔“
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب وقت الصبح: 424 – ابن ماجه: 672 – صحیح]
بعض بھائیوں نے اس حدیث سے یہ سمجھ لیا ہے کہ نماز فجر خوب روشنی ہونے پر ادا کرنی چاہیے، جبکہ یہ معنی کئی صحیح احادیث کے خلاف ہے، جن میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اندھیرے میں ادا کرتے تھے۔ سیدنا جابر بیان فرماتے ہیں:
والصبح كان النبى صلى الله عليه وسلم يصليها بغلس
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھاتے تھے۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب وقت المغرب: 560 – مسلم: 4646]
❀ سیدنا ابو برزہ اسلمی فرماتے ہیں:
كان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف الرجل جليسه، ويقرأ بالستين إلى المائة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں ساٹھ سے سو آیات تک (ٹھہر ٹھہر کر) تلاوت فرماتے تھے، جب فارغ ہوتے تو آدمی اپنے ساتھ والے شخص کو پہچان سکتا تھا۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب وقت العصر: 547 – مسلم: 647]
طلوع شمس سے پہلے ایک رکعت پڑھ لینے سے بر وقت نماز ادا کرنے کا ثواب مل جاتا ہے، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
من أدرك من الصبح ركعة قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك الصبح
جس نے طلوع آفتاب سے پہلے ایک رکعت ادا کر لی اس نے نماز فجر کا وقت پا لیا۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب من أدرك من الفجر ركعة: 579 – مسلم: 608]

نماز ظہر کا وقت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله
نماز ظہر کا وقت سورج کے زوال سے لے کر آدمی کا سایہ (اصل سائے کے علاوہ) اس کے قد کے مطابق ہو جانے تک ہے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 612/173]
❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہونے کے بعد نماز ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے۔ یہ بات صحیح حدیث کے خلاف ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر زوال ہوتے ہی پڑھ لیا کرتے تھے۔
[بخاري، كتاب مواقيت الصلوة، باب وقت الظهر عند الزوال: 540۔ مسلم: 618]
❀ لیکن شدید گرمی کے موسم میں نماز ظہر ذرا ٹھنڈے وقت میں ادا کرنی چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة
جب گرمی کی شدت ہو تو نماز (ظہر) کو ذرا ٹھنڈا وقت ہونے پر ادا کرو۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب الإبراد بالظهر في شدة الحر: 533 – مسلم: 615]
❀ گرمیوں میں ظہر کو لیٹ کرنے سے متعلق سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ظہر کا اندازہ یہ ہوتا تھا کہ گرمیوں میں سایہ تین قدموں سے لے کر پانچ قدموں تک کے مابین ہوتا تھا اور سردیوں میں پانچ سے سات قدموں کے مابین ہوتا تھا (یعنی مطلب یہ کہ سورج ڈھلتے ہی فوراً نہ پڑھو، ذرا لیٹ کر لو)
[ابو داؤد، کتاب الصلوة، باب وقت صلوة الظهر: 400 – نسائی: 504]
❀ گرمیوں میں ظہر کو تھوڑا سا لیٹ کرنے کا مسئلہ سفر کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ حضر میں بھی یہی حکم ہے۔
[بخاری: 533 تا 539]

اصل سایہ معلوم کرنے کا طریقہ:

❀ کسی کھلی اور ہموار زمین میں زوال سے پہلے ایک لکڑی گاڑ دی جائے، اس لکڑی کا سایہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا، یہاں تک کہ زوال کے وقت کم سے کم رہ جائے گا۔ اس سائے کو ماپ لیا جائے، جب یہ سایہ دوسری سمت بڑھنا شروع ہو جائے تو وہ اس بات کی علامت ہے کہ زوال کا وقت ہو گیا ہے۔ پھر جب یہ سایہ اس قدر بڑھ جائے کہ لکڑی کے برابر ہو جائے (زوال کے وقت لکڑی کا ماپا ہوا سایہ الگ کرنے کے بعد) تو اس وقت ایک مثل وقت ہو جائے گا۔
ایک طریقہ یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ دو پہر کے وقت سے پہلے ایک یا دو بالشت زمین کی سطح ہموار کر کے اس پر شمالاً جنوباً ایک سیدھا خط کھینچ دیا جائے۔ قطب نما سے اس خط کی رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ پھر اس خط کے جنوبی نقطہ پر ایک سیدھی لکڑی گاڑ دیں۔ چونکہ دو پہر سے پہلے کا وقت ہو گا لہذا اس لکڑی کا سایہ عین اس خط پر نہیں ہو گا بلکہ اس سے قدرے مغرب کی جانب مائل ہوگا، پھر آہستہ آہستہ اس خط پر آنا شروع ہو جائے گا حتیٰ کہ بالکل اس خط پر آ جائے گا۔ اس وقت اس سایہ کی انتہا پر نشان لگا دیں اور اس سایہ کو کسی اور لکڑی سے ماپ لیں اور یہ پیمانہ محفوظ کر لیں، یہ وقت عین دو پہر کا ہو گا۔ اس کے بعد وہ سایہ مشرق کی طرف بڑھنے لگے گا۔ یہ ظہر کا اول وقت ہو گا، پھر اس کے بعد جب سایہ بڑھتا جائے گا تو جس لکڑی کے ساتھ اصل سائے کی پیمائش کی تھی اس کے ساتھ اس کے اصل سائے کے نشان سے آگے ایک مثل جب سایہ ہو جائے گا تو وہ ظہر کا آخری وقت ہوگا اور عصر کا اول وقت۔
[أحکام و مسائل از فضيلة الشيخ مبشر احمد ربانی حفظه الله: 149]

نماز عصر کا وقت:

❀ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہونے سے لے کر سورج زرد ہونے تک نماز عصر کا وقت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله، ما لم تحضر العصر، ووقت العصر ما لم تصفر الشمس
ظہر کا وقت اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس وقت تک رہتا ہے جب آدمی کا سایہ اس کے جسم کے برابر ہو جائے، جب تک کہ عصر کا وقت نہ ہو جائے اور عصر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے کہ سورج زرد نہ ہو۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 612/173]
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ سورج اس قدر بلند ہوتا کہ محسوس ہوتا تھا (میرے حجرے کے اندر ہے، باہر نہیں گیا۔)“
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 611/170]
❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا فرمائی تو اس وقت سورج صاف ستھرا تھا، اس میں ذرا بھی زردی نہ ملی ہوئی تھی اور بلند و بالا تھا۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 613]
❀ غروب آفتاب سے قبل ایک رکعت ادا کر لینے سے بر وقت نماز ادا کرنے کا ثواب مل جاتا ہے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے:
من أدرك ركعة من العصر قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك العصر
جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت ادا کر لی اس نے نماز عصر کا وقت پا لیا۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب من أدرك من العصر ركعة قبل الغروب: 579 – مسلم: 608]
❀ نماز عصر کو بلا وجہ آخری وقت تک لیٹ کرنا منافق کی نشانی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تلك صلاة المنافق، يجلس يرقب الشمس، حتى إذا كانت بين قرني الشيطان، قام فنقرها أربعا
یہ منافق آدمی کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان (غروب) ہونے لگتا ہے تو اٹھتا ہے اور (جلدی سے) چار ٹھونگے مار لیتا ہے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب التبكير بالعصر: 622]

نماز مغرب کا وقت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت صلاة المغرب إذا غابت الشمس، ما لم يسقط الشفق
نماز مغرب کا وقت سورج غروب ہونے سے (غروب آفتاب کے بعد والی) سرخی غائب ہونے تک ہے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 612/174]
❀ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب ادا کرتے تھے اور نماز کے بعد (بھی اتنی روشنی ہوتی کہ) ہم میں سے کوئی آدمی جاتا اور تیر پھینکتا تو وہ اس کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب وقت المغرب: 559 – مسلم: 637]
❀ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں دن نماز مغرب ایک ہی وقت (یعنی اول وقت) میں پڑھائی۔
[نسائی، کتاب المواقيت، باب أول وقت العشاء: 527 – ترمذی: 149 – أبو داود: 394 – صحیح]

نماز عشاء کا وقت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت صلاة العشاء إلى نصف الليل الأوسط
نماز عشاء کا وقت (غروب آفتاب والی سرخی غائب ہونے سے) ٹھیک آدھی رات تک ہے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس: 612/173]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب وقت العشاء: 642]
❀ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء اس وقت پڑھائی کہ رات گزر گئی، پھر فرمایا:
لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يصلوها هكذا
اگر میری امت پر مشکل نہ ہو تو میں انھیں حکم دیتا کہ نماز عشاء اس وقت (یعنی دیر سے) ادا کیا کریں۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب فضل العشاء: 571 – مسلم: 1452]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں نمازیوں کا خیال رکھتے تھے، لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جماعت جلدی کرا دیتے اور اگر لوگ دیر کرتے تو جماعت تاخیر سے کراتے تھے۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت المغرب: 560 – مسلم: 646]

جن علاقوں میں دن رات عمومی ترتیب سے ہٹ کر ہیں:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
وہ چالیس دن دنیا میں رہے گا۔ پہلا دن ایک سال، دوسرا ایک مہینے اور تیسرا دن ایک ہفتے کے برابر ہو گا، باقی ایام عام دنوں کے مطابق ہوں گے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: سال کے برابر دن میں ہمیں ایک دن کی (یعنی پانچ) نمازیں کافی ہوں گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس میں اندازے سے (پورے سال کی) نمازیں ادا کرتے رہنا۔
[مسلم، کتاب الفتن، باب ذكر الدجال: 2937]
اس سے ثابت ہوا کہ جن ممالک میں وقت عام اصول سے ہٹ کر ہے، یعنی جن میں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے، یا اس سے کم و بیش، وہاں لوگوں کو اندازے سے ہر روز پانچ نمازیں ادا کرنی چاہییں۔ جن ممالک میں دن رات عام اصول سے ہٹ کر ہیں، ان کی دو صورتیں ہیں، بعض علاقوں میں معمولی سی روشنی کے ذریعے دن رات کا فرق ہوتا ہے، وہاں اس فرق کے حساب سے نمازوں کے اوقات مقرر کیے جائیں گے اور بعض علاقوں میں دن رات کا بالکل فرق نہیں ہوتا، وہاں اس قریبی علاقے کے حساب سے جہاں دن رات عام اصول سے چلتے ہیں، نماز کا وقت مقرر کر لیں۔

نمازوں کے ممنوع اوقات:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صل صلاة الصبح، ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع ثم صل، فإن الصلاة مشهودة محضورة، حتى يستقل الظل بالرمح، ثم أقصر عن الصلاة فإن حينئذ تسحر جهنم، فإذا أقبل الفيء فصل، فإن الصلاة مشهودة محضورة، حتى تصلى العصر، ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس
صبح کی نماز پڑھ، پھر سورج کے طلوع ہو کر بلند ہونے تک نماز سے رک جا پھر نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی کراماً کاتبین دیں گے اور فرشتے حاضر ہوں گے، پھر جب (دوپہر کے وقت) نیزے کا سایہ اس کے سر پر آجائے تو نماز سے رک جا، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پھر جب سایہ آگے بڑھنے لگے تو نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز میں فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر ہوں گے، یہاں تک کہ تو نماز عصر پڑھ لے تو پھر نماز سے رک جا حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب إسلام عمرو بن عبسة: 832]
یعنی نماز تین اوقات میں پڑھنا ممنوع ہے:
➊ جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ مکمل طلوع ہو جائے۔
➋ دوپہر کو سورج کے بالکل سر پر کھڑا ہونے سے لے کر زوال ہونے تک۔
➌ سورج کے غروب ہونے سے لے کر مکمل غروب ہو جانے تک۔
❀ لیکن عصر کے بعد اگر سورج بلند اور صاف ہو تو نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
ما ترك النبى صلى الله عليه وسلم السجدتين بعد العصر عندي ما قط
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعات پڑھنا کبھی ترک نہیں کیا۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب ما يصلى بعد العصر من الفوائت نحوها: 591]
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة بعد العصر إلا أن تكون الشمس بيضاء نقية مرتفعة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس کے کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔
[نسائی، کتاب المواقيت، باب الرخصة في الصلاة بعد العصر: 574 – أبو داود: 1274 – صحیح]
اگر نماز فجر لیٹ ہو گئی کہ سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رکے رہیں، حتیٰ کہ سورج مکمل طلوع ہو جائے۔ اسی طرح اگر عصر لیٹ ہو جائے کہ سورج غروب ہونے لگے تو سورج مکمل غروب ہونے تک نماز سے رکے رہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
إذا بدا حاجب الشمس، فأخروا الصلاة حتى تبرز، وإذا غاب حاجب الشمس، فأخروا الصلاة حتى تغيب
جب سورج کی ٹکیہ طلوع ہونے لگے تو نماز سے رکے رہو حتیٰ کہ مکمل طلوع ہو جائے اور جب سورج غروب ہونے لگے تو نماز کو مؤخر کرو حتیٰ کہ مکمل غروب ہو جائے۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الأوقات التي نهى عن الصلاة فيها: 829]
❀ جمعہ کے دن زوال کے وقت مسجد میں آ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ (تفصیل جمعہ کے باب میں ملاحظہ فرمائیں)
❀ حرم مکی میں کوئی وقت ممنوع نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تمنعوا أحدا يطوف بهذا البيت ويصلي أى ساعة شاء من ليل أو نهار
تم دن اور رات کے کسی بھی وقت میں اس گھر میں طواف کرنے اور نماز پڑھنے میں اس گھر کے کسی کو نہ روکو۔
[أبو داود، کتاب المناسك، باب الطواف بعد العصر: 1894 – نسائی: 2927 – ترمذی: 868 – صحیح]
❀ اگر صحیح وقت میں نماز شروع کی پھر ممنوع وقت شروع ہو گیا تو نماز مکمل کر لے۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب من أدرك ركعة من العصر قبل الغروب: 556 – مسلم: 608]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔