مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ویڈیو بنانے کا شرعی حکم اور اس کے مختلف پہلو

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

ویڈیو بنانے کا حکم

ویڈیو بنانا بنوانے والے پر منحصر ہے کہ وہ کس چیز کی ویڈیو بنوانا چاہتا ہے۔ آج کل جو لوگ شادی کے دنوں میں محفل نکاح وغیرہ کی مووی بنواتے ہیں، یہ بہت بڑی غلطی اور جرم عظیم ہے کیونکہ اس فلم کو تمام لوگ دیکھیں گے۔ اس میں بے حجاب اور آراستہ خواتین بھی ہوتی ہیں۔ عورتیں ایک دوسری کے ساتھ گفتگو اور ہنسی مذاق بھی کرتی ہیں، جس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے جو بلا اشکال حرام ہے۔ بعض اوقات کسی چیز کو بنانے یا تیار کرنے کے لیے یا اس کی ٹریننگ دینے کے لیے سائنسی علمی مواد کی ویڈیو بنائی جاتی ہے، تاہم وہ اہم علمی مواد ہو یا کوئی لیکچر ہو، جس میں گفتگو کرنے والا لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتا ہے، ان کو وعظ و ارشاد کرتا ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ قصہ مختصر یہ اس چیز کے حسب حال ہے جس کی ویڈیو بنائی جائے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 17/36]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔