مضمون کے اہم نکات
معیتِ باری تعالیٰ
فرمانِ باری تعالی ہے:
هو الاول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم.
(الحديد: 3)
’’وہ اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی اور باطن بھی۔ نیز وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
اللهم أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء.
’’اے اللہ تو اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور تو آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہ ہوگی، تو ظاہر (بلند) ہے، تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں۔‘‘
(صحیح مسلم: 2713)
امام ابو بکر آجری رحمتہ اللہ (360 ھ) فرماتے ہیں:
مما يحتج به الحلولية مما يلبسون به على من لا علم معه، يقول الله عز وجل: (هو الأول والآخر والظاهر والباطن) (الحديد: 3) وقد فسر أهل العلم هذه الآية: هو الأول قبل كل شيء من حياة وموت، والآخر بعد كل شيء بعد الخلق، وهو الظاهر فوق كل شيء، يعني ما في السماوات، وهو الباطن دون كل شيء يعلم ما تحت الأرضين، ودل على هذا آخر الآية: (وهو بكل شيء عليم) (الحديد:3)
حلولیہ کی ایک دلیل، جس سے جاہل لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، یہ آیت کریمہ ہے:
هو الأول والأخر و الظاهر والباطن.
(الحديد: 3)
’’وہ اوّل ہے، آخر ہے، ظاہر ہے اور باطن ہے۔‘‘
حالانکہ اہل علم نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ کے اوّل ہونے سے مراد اس کا ہر چیز ، یعنی زندگی اور موت سے پہلے ہونا ہے اور اس کے آخر ہونے سے مراد تمام مخلوقات کے ختم ہونے کے بعد باقی رہنا ہے۔ اس کے ظاہر ہونے سے مراد آسمانوں کی ہر مخلوق سے اوپر اور بلند ہونا ہے اور اس کے باطن ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ زمینوں کے نیچے موجود چیزوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ اس کی دلیل اسی آیت کا آخری ٹکڑا ہے، فرمانِ الہی ہے:
وهو بكل شيء عليم.
(الحديد: 3)
’’وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
(کتاب الشريعة: 1100/3)
آیت نمبر ①
هو الذي خلق السبوت والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها وما ينزل من السماء وما يعرم فيها وهو معكم اين ما كنتم والله بما تعملون بصير.
(الحديد: 4)
’’وہی ذات ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھے دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا، وہ زمین میں داخل ہونے والی، اس سے نکلنے والی، آسمان سے اترنے والی اور اس میں چڑھنے والی (سب) چیزوں کو جانتا ہے۔ جہاں بھی آپ ہوتے ہو، وہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ آپ کے اعمال کو دیکھنے والا ہے؟‘‘
آیت نمبر ②
الم تر أن الله يعلم ما في السموات وما في الأرض ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم ولا أدنى من ذلك ولا اكثر الأهو معهم أين ما كانوا ثم ينبئهم بما عملوا يوم القيمة إن الله بكل شيء عليم.
(المجادلة : 7)
’’کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اسے جانتا ہے۔ تین آدمی جب سرگوشی کر رہے ہوتے ہیں، تو وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے، پانچ آدمی جب سرگوشی کر رہے ہوتے ہیں، تو وہ ان کا پانچواں ہوتا ہے۔ نہ کوئی پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں، مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، نہ اس سے کم تعداد میں اور نہ اس سے زیادہ تعداد میں سرگوشی کرتے ہیں، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی ہوں۔ پھر وہ قیامت کے دن ان کو ان کے اعمال کی خبر دے گا، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔“
آیت نمبر ③
يستخفون من الناس ولا يستخفون من الله وهو معهم إذ يبيتون ما لا يرضى من القول وكان الله بما يعملون محيطان.
(النساء: 108)
’’وہ لوگوں سے چھپتے ہیں، لیکن اللہ سے نہیں چھپ سکتے ، وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ رات کے پہرنا پسندیدہ باتیں بناتے ہیں، اللہ ان کے اعمال کا (بذریعہ علم) احاطہ کرنے والا ہے۔‘‘
آیات کا معنی ومفہوم
ان آیات کا معنی یہ ہے اللہ کا علم جمیع مخلوقات کے ساتھ ہے۔ وہ ان کے حالات و واقعات سے باخبر ہے۔ معیت کی اس نوع کو معیت عامہ کہتے ہیں۔ ایک معیت خاصہ بھی ہوتی ہے۔ اس پر یہ آیت کریمہ دلیل ہے:
إن الله مع الذين اتقواو الذين هم محسنون.
(النحل: 127)
’’بے شک اللہ تعالیٰ متقی اور نیک کردار لوگوں کے ساتھ ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
ثاني اثنين إذهما في الغار إذ يقول لصاحبه لا تحزن إن الله معنا.
(التوبة: 40)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو میں سے ایک تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ ڈرو نہیں، یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
یہاں معیت خاصہ مراد ہے اور اس کا مطلب نصرت و تائید ہے۔
شیخ عبدالرحمن بن ناصر سعدی رحمتہ اللہ (1376ھ) فرماتے ہیں:
معية الله التي ذكرها في كتابه، نوعان: معية العلم والإحاطة، وهي المعية العامة، فإنه مع عباده أينما كانوا، ومعية خاصة، وهي : معيته مع خواص خلقه بالنصرة، واللطف، والتأييد.
’’وہ معیت، جس کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے، اس کی دو قسمیں ہیں: ایک تو علم واحاطہ کی معیت ہے، یہ معیت عامہ ہے، اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی وہ ہوتے ہیں۔ دوسری قسم معیت خاصہ ہے، یہ معیت اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگوں کے ساتھ نصرت ، شفقت اور تائید کی صورت میں ہوتی ہے۔‘‘
(تفسیر السعدي: 14)
ائمہ اہل سنت اس کا معنی کیا کرتے ہیں؟
امام ضحاک بن مزاحم رحمتہ اللہ فرمان باری تعالی :
ما يكون من نجوى ثلثة الا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم.
(المجادلة: 7) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
هو فوق العرش وعلمه معهم أينما كانوا.
’’وہ عرش کے اوپر ہے، لیکن اس کا علم ان کے ساتھ ہوتا ہے، وہ جہاں بھی ہوں۔“
(مسائل الإمام أبي داود: ص 263 تفسير الطبري: 12/28-13 ، الشريعة للآجري: 655 الأسماء والصفات للبيهقي 341/2-342، ح 909 التمهيد لابن عبد البر: 139/7 ، وسنده حسن)
امام مقاتل بن حیان رحمتہ اللہ (م قبل : 150) فرمان باری تعالى:
ما يكون من نجوى ثلثة الاهو رابعهم.
(المجادلة: 7)
’’کوئی تین شخص شرگوشی نہیں کرتے ، مگر اللہ تعالٰی ان کا چوتھا ہوتا ہے۔‘‘
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
هو على العرش، وعلمه معهم.
’’اللہ تعالی عرش پر ہی ہے، لیکن اس کا علم ان کے ساتھ ہے۔‘‘
(تفسير الطبري: 12/28، الشريعة للآجري: 655، وسنده صحيح)
امام عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ رحمتہ اللہ (276ھ) لکھتے ہیں:
نحن نقول في قوله: (ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم ولا أدنى من ذلك ولا اكثر إلا هو معهم أين ما كانوا) : إنه معهم بالعلم بما هم عليه، كما تقول للرجل وجهته إلى بلد شاسع، ووكلته بأمر من أمورك، احذر التقصير والإغفال لشيء مما تقدمت فيه إليك فإني معك، تريد أنه لا يخفى علي تقصيرك أو جدك للإشراف عليك، والبحث عن أمورك، وإذا جاز هذا في المخلوق الذي لا يعلم الغيب، فهو في الخالق الذي يعلم الغيب أجوز، وكذلك هو بكل مكان، يراد لا يخفى عليه شيء مما في الأماكن، فهو فيها بالعلم بها والإحاطة، وكيف يسوع لأحد أن يقول: إنه بكل مكان على الحلول مع قوله: (الرحن على العرش استوى) ، أي: استقر ، كما قال: (فإذا استويت انت ومن معك على الفلك) ، أي استقررت وما قوله تعالى: (إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه) وكيف يصعد إليه شيء وهو معه؟ أو يرفع إليه عمل وهو عنده؟ وكيف تعرج الملائكة والروح إليه يوم القيامة؟ وتعرج بمعنى تصعد، يقال: عرج إلى السماء إذا صعد، والله عز وجل: ذو المعارج ، والمعارج الدرج فما هذه الدرج؟ وإلى من تؤدي الأعمال الملائكة، إذا كان بالمحل الأعلى، مثله بالمحل الأدنى؟ ولو أن هؤلاء رجعوا إلى فطرهم وما ركبت عليه خلقتهم من معرفة الخالق سبحانه، لعلموا أن الله تعالى هو العلي، وهو الأعلى، وهو بالمكان الرفيع، وإن القلوب عند الذكر تسمو نحوه، والأيدي ترفع بالدعاء إليه، ومن العلو يرجى الفرج ، ويتوقع النصر ، وينزل الرزق، وهنالك الكرسي والعرش والحجب والملائكة يقول الله تبارك وتعالى: (إن الذين عند ربك لا يستكبرون عن عبادته ويسبحونه وله يسجدون) وقال في الشهداء: (أحياء عند ربهم يرزقون) ، قيل لهم شهداء؛ لأنهم يشهدون ملكوت الله تعالى، واحدهم: شهيد، كما يقال عليم، وعلماء، وكفيل ، وكفلاه وقال تعالى: (لو أردنا أن تتخذ لهو الا تخذنه من لدنا) ، أي: لو أردنا أن نتخذ امرأة وولدا، لاتخذنا ذلك عندنا لا عندكم؛ لأن زوج الرجل وولده، يكونان عنده وبحضرته، لا عند غيره، والأمم كلها عربيها وعجميها،تقول: إن الله تعالى في السماء ما تركت على فطرها.
ہم فرمان باری تعالیٰ:
ما يكون من تجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم ولا أدلى من ذلك ولا أكثر إلا هو معهم أين ما كانوا.
کے بارے میں کہتے ہیں کہ اللہ علم کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہوتا ہے، جیسا کہ آپ اس آدمی سے کہیں، جو دور کے علاقے کی طرف جا رہا ہو اور آپ نے اسے اپنے امور میں سے کوئی امر سپر د کیا ہو: جو کام میں نے تیرے سپرد کیا ہے، اس میں سستی و کوتاہی سے بچتا، میں تمھارے ساتھ ہوں۔ آپ کی مراد یہ ہوتی ہے کہ تیری کوتا ہی مجھ سے مخفی نہیں رہے گی، میں پوری نگرانی اور معاملات کی پڑتال کروں گا۔ جب یہ کام اس مخلوق کے لیے ممکن ہے، جو غیب نہیں جانتی تو اس خالق کے لیے زیادہ ممکن ہے، جو عالم الغیب ہے۔ لہذا اللہ کے ہر جگہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی جگہ کا کوئی امر اس سے مخفی نہیں، وہ علم و کنٹرول کے اعتبار سے ہر جگہ ہے۔ یہ کہنا کیسے ممکن ہے کہ وہ حلول کے ساتھ ہر جگہ ہے، فرمان باری تعالی ہے:
الرحمٰن على العرش استوای.
’’رحمن عرش پر مستوی ہے۔‘‘
یعنی مستقر ہے۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:
فإذا استويت انت ومن معك على الفلك.
اے نوح! جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر مستقر ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے:
إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه.
’’اس کی طرف پاکیزہ کلمات اور نیک عمل چڑھتے ہیں اور وہ نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے۔‘‘
اگر اللہ تعالیٰ ہر چیز کے ساتھ ہے، تو وہ اس کی طرف کیسے بلند ہوتی ہے؟ اور نیک عمل اس کی طرف کیسے چاہتا ہے؟ اور قیامت کے دن فرشتے اور روح الامین اس کی طرف کیسے چڑ ہیں گے، چڑھنے کا معنی اوپر کو جاتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان کی طرف چڑھا، جب وہ آسمان کی طرف اوپر کو جائے۔ اللہ ذو المعارج ( سیڑھیوں والا) ہے۔ یہ سیڑھیاں کیا ہیں؟ جب اللہ اوپر اور نیچے برابر ہے، تو فرشتے اعمال لے کر کس کو پہنچاتے ہیں؟
اگر یہ لوگ اپنی فطرت اور اپنی تخلیقی بناوٹ سے حاصل ہونے والی معرفت الہی کی طرف لوٹ آئیں، تو انھیں معلوم ہوگا کہ اللہ بلند ہے اور بلند جگہ پر ہے۔ ذکر کے وقت دل اوپر کی طرف بلند ہوتے ہیں، دعا کے وقت ہاتھ اوپر کی طرف ہی اٹھتے ہیں۔ اوپر کی طرف سے ہی فراخی و نصرت کی توقع کی جاتی ہے اور وہیں سے رزق نازل ہوتا ہے۔ اوپر ہی کرسی، عرش، حجب اور فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إن الذين عند ربك لا يستكبرون عن عبادته ويسبحونه وله يسجدون.
”جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے اعراض نہیں کرتے ، نہ ہی تھکتے ہیں۔ وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے نہیں تھکتے۔”‘‘
شہدا کے بارے میں اللہ نے فرمایا:
احيانا عند ربهم يرزقون.
وه اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔‘‘
ان کو شہدا اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے گواہ ہوتے ہیں۔ شہدا کی واحد شہید ہے، جیسا کہ علیم سے علما اور کفیل سے کھلا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
لو اردنا أن تتخذ لهو الا تخذ نه من لدنا.
اگر ہم ارادہ کرتے کہ ہم بیوی بنائیں، تو اسے اپنے پاس سے بناتے ۔‘‘
یعنی اگر ہم بیوی اور اولاد بنانے کا ارادہ کرتے ، تو اپنے پاس سے (حور عین سے) رکھتے تمھارے پاس سے نہیں، کیونکہ کسی کی اولاد اور بیوی اسی کے پاس سے ہوتی ہے، کسی اور کے پاس سے نہیں۔ عرب اور عجم کی تمام قومیں جب تک اپنی فطرت پر قائم رہیں، یہی کہیں گی کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے۔
(تاويل مختلف الحديث، ص 182۔ 183)
امام عثمان بن سعید دارمی رحمتہ اللہ ( 280 ھ ) لکھتے ہیں:
احتج بعضهم فيه بكلمة زندقة أستوحش من ذكرها، وتستر آخر من زندقة صاحبه فقال: قال الله تعالى: (ما يكون من نجوى ثلثة الاهو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم ولا أدلى من ذلك ولا اكثر إلا هو معهم أين ما كانوا ثم ينبئهم بما عملوا يوم القيمة ان الله بكل شيء عليم) (المجادلة: 7) قلنا: هذه الآية لنا عليكم، لا لكم، إنما يعني أنه حاضر كل نجوى، ومع كل أحد من فوق العرش بعلمه، لان علمه بهم محيط ، وبصره فيهم نافة، لا يحجبه شيء عن علمه وبصره، ولا يتوارون منه بشيء، وهو بكماله فوق العرش ، بائن من خلقه، (يعلم السر و اخفى) (طه: 7) أقرب إلى أحدهم من فوق العرش من حبل الوريد، قادر على أن يكون له ذلك، لأنه لا يبعد عنه شيء، ولا تخفى عليه خافية في السموات ولا في الأرض، فهو كذلك رابعهم، وخامسهم، وسادسهم، لا أنه معهم بنفسه في الأرض كما ادعيتم، وكذلك فسرته العلماء.
اس سلسلہ میں ان (جہمیوں) میں سے ایک نے بہت زندیقانہ بات اسے ذکر کرنے سے مجھے ڈر محسوس ہوتا ہے، ایک دوسرے (جہمی) نے اپنے ساتھی کی بے دینی پر پردہ ڈالنے کے لیے اس قرآنی آیت سے دلیل لینا چاہی:
ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم ولا أدنى من ذلك ولا أكثر إلا هو معهم أين ما كانوا ثم ينيتهم بما عملوا يوم القيمة إن الله بكل شيء عليم.
(المجادلة : 7)
ہم نے جواب دیا کہ یہ آیت ہماری دلیل ہے، تمھاری نہیں، یہ تو تمھارے خلاف ہے، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالی عرش کے اوپر رہتے ہوئے ہر سرگوشی کو حاضر اور ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ان کو محیط اور اس کی بصران میں نافذ ہے، کوئی چیز اس کے سمع و بصر کے آگے آڑ نہیں بن سکتی۔ لوگ کسی بھی چیز کے ساتھ اس سے چھپ نہیں سکتے۔ وہ اپنے کمال کے ساتھ اپنے عرش کے اوپر ہے اور اپنی مخلوق سے جدا ہے، پوشیدہ اور چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے۔ اپنے عرش کے اوپر سے کسی کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، کیونکہ اس سے کوئی چیز دور نہیں اور آسمان و زمین میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ تین سرگوشی کرنے والوں کا چوتھا، چار کا پانچواں اور پانچ کا چھٹا ہوتا ہے، نہ کہ وہ اپنی ذات کے ساتھ ان کے ساتھ زمین میں ہوتا ہے، جیسا کہ تم نے دعوی کیا ہے۔ علمانے بھی اس کی یہی تفسیر کی ہے (جو ہم نے بیان کی ہے۔)
(الرد على الجهمية : 42/1-43)
امام محمد بن عثمان بن ابی شیبہ رحمتہ اللہ (297 ھ) لکھتے ہیں:
فسرت العلماء: وهو معكم يعني بعلمه، توافرت الأخبار أن الله خلق العرش فاستوى عليه بذاته فهو فوق العرش بذاته، متخلصا من خلقه باتنا منهم، علمه في خلقه، لا يخرجون من عليه.
علما نے فرمانِ باری تعالیٰ:
وهو معكم.
’’وہ تمھارے ساتھ ہے۔‘‘
کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ وہ اپنے علم کے ساتھ تمھارے ساتھ ہے، کیونکہ اس بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں کہ اللہ تعالی نے عرش کو پیدا کیا، پھر اپنی ذات کے ساتھ اس پر مستوی ہوا، پس وہ اپنی ذات کے ساتھ اپنے عرش کے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، ان سے علیحدہ ہے۔ اس کا علم اس کی مخلوق میں موجود ہے، وہ اس کے علم سے باہر نہیں نکل سکتے ۔
(كتاب العرش ، ص292۔276)
امام محمد بن جریر طبری رحمتہ اللہ (310ھ) سورت الحدید کی آیت نمبر 4 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
يقول: وهو شاهد لكم أيها الناس أينما كنتم يعلمكم، ويعلم أعمالكم، ومتقلبكم ومنواكم، وهو على عرشه فوق سمواته.
’’اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اے لوگو! تم جہاں بھی ہوتے ہو، وہ تمھارے اوپر گواہ ہوتا ہے، وہ تمھیں تمھارے اعمال، تمھارے ٹھکانے اور تمھارے لوٹنے کی جگہ کو جانتا ہے، وہ اپنے سات آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے۔‘‘
نیز سورت المجادله آیت نمبر 7 کا معنی یوں بیان کرتے ہیں:
(تفسير الطبري: 216/27)
عنى بقوله: هو رابعهم بمعنى مشاهدهم بعلمه، وهو على عرشه.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ ان (تین سرگوشی کرنے والوں) کا چوتھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ اپنے عرش پر ہونے کے باوجود اپنے علم کے اعتبار سے ان کے پاس حاضر ہوتا ہے۔
(تفسير الطبري: 12/28)
امام ابوالحسن الاشعری رحمتہ اللہ (324ھ) لکھتے ہیں:
إنه يعلم السر وأخفى من السر، ولا يغيب عنه شيء في السماوات والأرض حتى كأنه حاضر مع كل شيء، وقد دل الله عز وجل على ذلك بقوله: (وهو معكم أين ما كنتم) ، وفسر ذلك أهل العلم بالتأويل أن علمه محيط بهم حيث كانوا. اور اللہ تعالیٰ مخفی اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیزوں کو بھی جانتا ہے، اس سے آسمانوں اور زمین کو کوئی چیز غائب نہیں ہوسکتی، گویا کہ وہ ہر چیز کے ساتھ حاضر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس بات کا اظہار یوں فرمایا ہے: (وهو معكم آين ما كنتم)
’’اور وہ تمھارے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی تم ہوتے ہو‘‘
مفسرین کرام نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان کو محیط ہوتا ہے، وہ جہاں بھی ہوں ۔
(رسالة أهل الشعر : 234)
امام ابوبکر محمد بن حسین الآجری رحمتہ اللہ (360ھ) لکھتے ہیں:
الذي يذهب إليه أهل العلم أن الله عز وجل سبحانه على عرشه فوق سماواته، وعلمه محيط بكل شيء قد أحاط علمه بجميع ما خلق في السماوات العلا، وبجميع ما في سبع أرضين وما بينهما وما تحت الثرى، يعلم السر وأخفى ويعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور، ويعلم الخطرة والهمة ، ويعلم ما توسوس به النفوس يسمع ويرى، ولا يعزب عن الله عز وجل مثقال ذرة في السماوات والأرضين وما بينهن ، إلا وقد أحاط علمه به فهو على عرشه سبحانه العلي الأعلى ترفع إليه أعمال العباد، وهو أعلم بها من الملائكة الذين يرفعونها بالليل والنهار فإن قال قائل: فإيش معنى قوله : (ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم) ، الآية التي بها يحتجون؟ قيل له: علمه عز وجل والله على عرشه، وعلمه محيط بهم، وبكل شيء من خلقه، كذا فسره أهل العلم والآية يدل أولها وآخرها على أنه العلم فإن قال قائل: كيف؟ قيل: قال الله عزوجل: (الم تر ان الله يعلم ما في السلوت وما في الأرض ما يدون من تجوى ثلثة الاهو رابعهم) إلى آخر الآية: ثم ينبئهم بما عملوا يوم القيمة إن الله بكل شيء عليم ) وابتدأ الله عزوجل الآية بالعلم وختمها بالعلم، فعلمه عز وجل محيط بجميع خلقه، وهو على عرشه، وهذا قول المسلمين.
اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ بلند آسمانوں کے اوپر، ساتوں زمینوں کے اندر، زمین و آسمان کے درمیان اور زمین کے نیچے اللہ تعالیٰ کی جتنی مخلوق ہے، وہ اس کے علم کے احاطے میں ہے۔ وہ مخفی اور پوشیدہ تر چیز کو جانتا ہے، وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ خیالات اور گمانوں کو بھی جانتا ہے، وہ نفسوں کے اندر پیدا ہونے والے وسوسوں کو بھی سنتا اور خوب جانتا ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کا علم اس کو محیط ہے۔ چنانچہ وہ سبحانہ و تعالیٰ واپنے عرش کے اوپر ہے، اس کی طرف بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور وہ اعمال کو اٹھا کر لے جانے والے فرشتوں سے بڑھ کر ان اعمال کو جانتا ہوتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ وہ آیت جس سے وہ (جہمی لوگ) دلیل لیتے ہیں، اس آیت:
ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم کا کیا معنی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کا علم مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مستوی ہے، جبکہ اس کا علم ان (سرگوشی کرنے والوں) کو اور اس کی تمام مخلوق کو محیط ہوتا ہے۔ اہل علم نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے اور اس آیت کریمہ کا آغاز و اختتام اس بات پر دلیل ہے کہ یہاں مراد علم ہے۔ اگر کوئی چھپے کہ کیسے؟ تو جواب یہ ہے کہ آغاز میں فرمان باری تعالی ہے:
الم تر أن الله يعلم ما في السموات وما في الأرض ما يكون من تجوى ثلثة الا هو رابعهم اور آخر میں فرمایا:
ثم ينبئهم بما عملوا يوم القيمة إن الله بكل شيء عليم.
( یعنی اللہ تعالٰی نے اس آیت کو علم سے ہی شروع کیا اور علم پر ہی ختم کیا۔ پس اللہ تعالی کا علم تمام مخلوق کو محیط ہے اور وہ خود اپنے عرش پر ہے۔ یہی (سنی) مسلمانوں کا قول ہے۔
(كتاب الشريعة: 1075/3-1076)
امام ثعلبی رحمتہ اللہ (427ھ) فرمان باری تعالی: (الاهو رابعهم) کا معنی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
بالعلم يسمع نجواهم ويعلم فحواهم.
’’اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ساتھ ان کی سرگوشی سنتا اور ان کی بات کو سمجھتا ہے۔‘‘
(الكشف والبيان في تفسير القرآن: 258/9)
امام ابو عمر احمد بن محمد بن عبداللہ طلمنکی (429ھ) اپنی کتاب الوصول إلى عِلم الْأُصُولِ میں لکھتے ہیں:
أجمع المسلمون من أهل السنة، على أن معنى (وهو معكم أين ما كنتم) ونحو ذلك من القرآن أن ذلك علمه، وأن الله فوق السموات بذاته، مستويا على عرشه كيف شاء.
اہل سنت والجماعت کے مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ فرمان باری تعالیٰ:
وهو معكم أين ما كنتم اور اس طرح کی دوسری آیات قرآنی سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے، نیز اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے، جیسے اس کو لائق ہے۔
(تلبيس الجهمية لابن تيمية: 38/2، اجتماع جيوش الإسلامية لابن القيم، ص 142 العلوّ للذهبي: 264)
امام ابو زکریا یحی بن عمار سجستانی رحمتہ اللہ (422 ھ ) ’’الرسالہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
لا نقول كما قال الجهمية: إنه داخل للامكنة، وممازج لكل شيء، ولا نعلم أين هو، بل هو بذاته على العرش، وعلمه محيط بكل شيء، وعلمه وسمعه وبصره وقدرته مدركة لكل شيء، وهو معنى قوله: (وهو معكم أين ما كنتم والله بما تعملون بصير) ، وهو بذاته على عرشه كما قال سبحانه، وكما قال رسوله.
’’ہم جہمیہ کی طرح نہیں کہتے کہ اللہ تمام جگہوں میں دخول کیسے ہوئے ہے اور ہر چیز کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے؟ بل کہ (ہمارا عقیدہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ اس کا علم، سمع، بصر اور اس کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے۔ اس فرمانِ باری تعالیٰ کا یہی معنی ہے:
وهو معكم أين ما كنتم والله بما تعملون بصیر.
’’اور جہاں بھی تم ہوتے ہو، وہ تمھارے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمھارے عملوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر ہے، جیسا کہ خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
(العرش للذهبي 445/2-446)
امام بہیقی رحمتہ اللہ (458 ھ ) لکھتے ہیں:
في كثير من الآيات دلالة على إبطال قول من زعم من الجهمية أن الله سبحانه وتعالى بذاته في كل مكان، وقوله عز وجل: (وهو معكم أين ما كنتم) ، إنما أراد به بعلمه لا بذاته.
’’جہمیہ کے اس قول کہ اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ میں ہے، کارد بہت سی آیات قرآنیہ میں موجود ہے اور اللہ تعالٰی کے فرمان:
وهو معكم اين ما كنتم کی مراد یہی ہے کہ وہ اپنے علم کے اعتبار سے تمھارے ساتھ ہے، نہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے ۔
(الاعتقاد، ص 112)
امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ (463 ھ ) لکھتے ہیں:
أما احتجاجهم بقوله عز وجل: (ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خسة إلا هو سادسهم ولا أدلى من ذلك ولا أكثر إلا هو معهم أين ما كانوا) ، فلا حجة لهم في ظاهر هذه الآية، لأن علماء الصحابة والتابعين الذين حملت عنهم التأويل في القرآن قالوا في تأويل هذه الآية هو على العرش وعلمه في كل مكان وما خالفهم في ذلك أحد يحتج بقوله.
رہا ان کا فرمان باری تعالی :
ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم ولا خمسة إلا هو سادسهم ولا أدنى من ذلك ولا أكثر إلا هو معهم أين ما كانوا سے دلیل لینا، تو اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں، کیونکہ علمائے صحابہ کرام رضی الله عنه اور ان سے تفسیر قرآن سیکھنے والے تابعین عظام رحمتہ اللہ نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالی عرش پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ میں ہے۔ اس بارے میں صحابہ و تابعین کی مخالفت کسی ایسے شخص نے نہیں کی، جس کی بات کو دلیل بنایا جا سکتا ہو۔
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 138/7-139)
حافظ بغوی رحمتہ اللہ: (510 ھ) سورت الحدید آیت نمبر 4 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
فِي العِلم ’’علم میں (اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ ہے)۔‘‘
(تفسير البغوي: 207/4)
قوام السنہ، امام ابو القاسم اصبہانی رحمتہ اللہ (535ھ) فرماتے ہیں:
إن قيل: قد تأولتم قوله عز وجل: (وهو معكم أين ما كنتم) وحملتموه على العلم، قلنا: ما تأولنا ذلك، وإنما الآية دلت على أن المراد بذلك العلم، لأنه قال في آخرها: (إن الله بكل شيء عليم.
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم نے فرمان باری تعالیٰ:
(وهو معكم اين ما كنتم) میں تاویل کی ہے اور اسے علم پر محمول کیا ہے، تو ہم کہیں گے کہ ہم نے یہ تاویل نہیں کی، بلکہ آیت کریمہ ہی بتاتی ہے کہ یہاں مراد علم ہے، کیونکہ اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إن الله بكل شيء عليم.
’’اللہ تعالٰی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘
(الحجة في بيان المحجة: 291/2)
مفسر کبیر، حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ (774ھ) سورت الحدید آیت نمبر 4 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
أي يطلع عليهم يسمع كلامهم وسرهم ونجواهم، ورسله أيضا مع ذلك تكتب ما يتناجون به مع علم الله به وسمعه له كما قال تعالى: (ألم يعلموا أن الله يعلم سرهم ونجوبهم وان الله علام الغیوب) ، (ام يحسبون أنا لا تسع سرهم ونجو بهم بلى ورسلنا لديهم يكتبون) ، ولهذا حكى غير واحد الإجماع على أن المراد بهذه الآية معية علمه تعالى ولا شك في إرادة ذلك.
یعنی اللہ ان پر مطلع ہے، ان کی کلام، راز اور سرگوشی کو سنتا ہے، اس کے فرشتے بھی لوگوں کی سرگوشیاں لکھتے ہیں، فرمان باری تعالی ہے:
(آلم يعلموا أن الله يعلم سرهم ونجوبهم وان الله علام الغيوب) کیا وہ جانتے نہیں اللہ ان کے رازوں اور ان کی سرگوشیوں کو جانتا ہے، وہ پوشیدہ چیزوں کو خوب جاننے والا ہے۔ نیز فرمایا:
أم يحسبون أنا لا نسمع سرهم ولجوبهم بلى ورسلنا لديهم يكتبون.
’’کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور سرگوشیاں نہیں سنتے ، کیوں نہیں! ہمارے فرشتے بھی ان کے پاس ان کی باتیں لکھتے ہیں۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ کئی علما نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت میں معیت سے مراد اللہ کا علم ہے اور اس مراد میں کوئی شک نہیں ۔
(تفسیر القرآن العظیم: 42/8)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں:
قد دخل فيما ذكرناه من الإيمان بالله: الإيمان بما أخبر الله به في كتابه وتواتر عن رسوله صلى الله عليه وسلم وأجمع عليه سلف الأمة، من أنه سبحانه فوق سمواته على عرشه علي على خلقه وهو سبحانه معهم أينما كانوا يعلم ما هم عاملون كما جمع بين ذلك في قوله: (هو الذي خلق السموت والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش ، يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها وما ينزل من السماء وما يعرج فيها وهو معكم اين ما كنتم ، والله بما تعملون بصير) (الحديد: 4)
ہم نے جو ایمان باللہ کا ذکر کیا ہے، اس میں اس چیز پر ایمان بھی داخل ہے، جو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کی ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر ہم تک پہنچی ہے اور سلف صالحین نے اس پر اجماع کیا ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ اللہ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے، وہ اپنی مخلوق سے بلند ہے، وہ جہاں بھی ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی جو وہ کرتے ہیں، اس کو جانتا ہے، جیسا کہ ان سب باتوں کو اللہ نے اپنے اس فرمان میں جمع کر دیا ہے:
هو الذي خلق السموت والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها و ما ينزل من السماء وما يعرجح فيها وهو معكم أين ما كنتم والله بما تعملون بصير.
(الحديد: 4)
’’وہی ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھے دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا، وہ زمین میں داخل ہونے والی، اس سے نکلنے والی، آسمان سے اترنے والی اور اس میں چڑھنے والی (سب) چیزوں کو جانتا ہے۔ جہاں بھی تم ہوتے ہو، وہ تمھارے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ تمھارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوى: 142/3)
مفسر علامہ قرطبی رحمتہ اللہ (671 ھ) فرماتے ہیں:
وهو معهم أي بالعلم والرؤية والسمع، هذا قول أهل السنة، وقالت الجهمية والقدرية والمعتزلة: هو بكل مكان.
فرمانِ باری تعالٰی :
"اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ کا مطلب ہے کہ وہ علم، رؤیت اور شمع کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہے۔ اہل سنت والجماعت کا یہی موقف ہے، جب کہ جہمیہ ، قدریہ اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے۔‘‘
(تفسير القرطبي : 379/5)
سورت حدید کی آیت نمبر 4 کو پڑھیں، اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی ابتدا علم سے کی اور خاتمہ بھی علم کے ساتھ کیا۔ اہل سنت والجماعت اجماعی طور پر اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ علم کے اعتبار سے ہے۔ اس تفسیر پر امام ابن عبدالبر (التمهيد: 138/7)، امام ابو عمر طلمنکی (اجتماع الجيوش الاسلاميه ابن قيم 142)، امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے اجماع نقل کیا ہے۔
ائمہ اہل سنت کے خلاف اہل بدعت اپنی تفسیر کرتے ہیں، پھر بھی وہ اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں۔ عقل اور دیانت کا کیا تقاضا ہے؟ فیصلہ قارئین خود کریں!
ہم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ کی عبارت پر بات کو ختم کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:
سلف الأمة وأيمتها، أئمة أهل العلم والدين من شيوخ العلم والعبادة؛ فإنهم أثبتوا وآمنوا بجميع ما جاء به الكتاب والسنة من غير تحريف للكلم عن مواضعه؛ أثبتوا أن الله فوق سمواته على عرشه؛ بائن من خلقه وهم بائتون منه، وهو أيضا مع العباد عموما بعلمه ومع أنبياته وأوليائه بالنصر والتابيد والكفاية وهو أيضا قريب مجيب، ففي آية النجوى دلالة على أنه عالم بهم.
’’امت کے اسلاف اور ائمہ کرام، یعنی علم و عبارت کے ماہرین نے کتاب وسنت میں وارد ہونے والی تمام باتوں کا بغیر تحریف کے اثبات کیا ہے اور ان پر ایمان لائے ہیں، انھوں نے اثبات کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے اور مخلوق اس سے جدا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے علم کے اعتبار سے عمومی طور پر سب بندوں کے ساتھ ہے اور نصرت و تائید کے اعتبار سے خصوصی طور پر اپنے انبیا اور اولیا کے ساتھ ہے۔ وہ قریب ومجیب بھی ہے۔ آیت نجوئی (المجادلہ: 7) میں اس کی دلیل موجود ہے۔‘‘
نیز فرماتے ہیں:
كثير ممن يكون قد وضع دينه برأيه أو ذوقه يحتج من القرآن بما يتأوله على غير تأويله، ويجعل ذلك حجة لا عمدة، وعمدته في الباطن على رأيه، كالجهمية والمعتزلة في الصفات والأفعال.
’’بہت سے ایسے لوگ ، جو اپنا دین اپنی رائے اور ذوق کے مطابق بناتے ہیں، وہ قرآن کریم سے دلیل لیتے ہیں اور اس کی تفسیر ایسی کرتے ہیں، جو حقیقت میں اس کی تفسیر نہیں اور وہ اس تفسیر کو اپنے بڑے بڑے عقائد کی دلیل بناتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا اعتماد اپنی رائے پر ہی ہوتا ہے، جیسا کہ جہمی اور معتزلہ لوگ صفات و افعال باری تعالیٰ میں کرتے ہیں ۔‘‘
(النبوات، ص 129)
فائدہ:
اگر کوئی کہے کہ فرمان نبوی ہے۔
أن يعلم أن الله عز وجل معه حيث كان.
’’(ہر آدمی) جان لے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے، وہ جہاں کہیں بھی ہو۔‘‘
(المعجم الصغير للطبراني: 555، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم: 1062/2، وسنده صحيح)
امام محمد بن یحییٰ ذہلی رحمتہ اللہ ( 258 ھ ) فرماتے ہیں:
يريد أن الله علمه محيط بكل ما كان والله على العرش.
’’اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا علم تمام اشیا کو محیط ہے اور اللہ عرش پر ہے۔‘‘
(العلوّ للعلي الغفّار للذهبي: 1147/2، وسنده حسن)