مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ولی کا نکاح میں شرط رکھنا اور امامت کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1، ص 220

سوال

ایک امام نے اپنی ہمشیرہ کے نکاح کے دوران کچھ چیزوں یا رقم کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک یہ چیزیں نہیں دی جائیں گی، نکاح نہیں ہوگا۔ کیا ایسا شخص امامت کے لائق ہے؟

جواب

اگر امام صاحب نے نکاح کے دوران جو چیزیں یا رقم طلب کیں، وہ مہر کے طور پر وصول کیں اور وہ چیزیں یا رقم اپنی ہمشیرہ (منکوحہ) کے سپرد کر دیں، تو اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ شریعت میں مہر لڑکی کا حق ہوتا ہے، ولی کا حق نہیں ہوتا۔ ولی کا کام مہر وصول کر کے اسے لڑکی کے سپرد کرنا ہے۔

لہٰذا، اگر امام نے یہ عمل شریعت کے مطابق کیا ہے اور مہر کے حوالے سے لڑکی کے حق کا خیال رکھا ہے، تو اس پر کوئی ملامت نہیں کی جا سکتی، اور وہ امامت کے قابل ہے۔ البتہ، اگر ولی نے ذاتی فائدے کے لیے مہر کی شرائط رکھیں، تو یہ عمل قابل مذمت ہے۔

حوالہ: (مولانا عبید اللہ رحمانی، المحدث دہلی، جلد نمبر ۱، شمارہ نمبر ۳)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔