مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ولیمہ کا وقت: قبل الدخول یا بعد الدخول؟ شرعی دلائل

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 436

سوال

ولیمہ جماع سے قبل ہے یا بعد؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ولیمہ کا انعقاد قبل الدخول اور بعد الدخول دونوں طرح نبی اکرم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔

➊ قبل الدخول ولیمہ کی دلیل

اس کے ثبوت میں وہ حدیث ہے جس میں ذکر ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو گوشت اور روٹی کا ولیمہ کھلایا۔

◄ آپ ﷺ نے صحابہ کو اپنے گھر بلایا اور کھانا کھلایا۔
◄ کھانے کے بعد صحابہ کرام گھر ہی میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
◄ آپ ﷺ گھر سے باہر تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو وہ ابھی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔
◄ آپ ﷺ دوبارہ تشریف لے گئے اور پھر آئے، مگر وہ بدستور بیٹھے تھے۔
◄ یہ عمل دو یا تین بار ہوا۔
◄ آپ ﷺ ان سے براہِ راست یہ بھی نہ فرما سکے کہ تم لوگ چلے جاؤ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ آخر کار چلے گئے تو میں نے آپ ﷺ کو ان کے جانے کی خبر دی۔ اس وقت تک آيۃ الحجاب سورۃ الاحزاب میں نازل ہوچکی تھی۔ اس کے بعد آپ ﷺ اپنے اہلِ خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ گرادیا۔

اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ولیمہ قبل الدخول تھا۔

➋ بعد الدخول ولیمہ کی دلیل

بعد الدخول ولیمہ کا ثبوت جنگ خیبر کے موقع پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے واقعے سے ملتا ہے۔

◄ اس واقعے میں وضاحت موجود ہے کہ پہلے آپ ﷺ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے۔
◄ اس کے بعد آپ ﷺ نے گھی، ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔

یہ دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بعد الدخول بھی ولیمہ کرنا درست ہے۔

خلاصہ

ان دلائل سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کے انعقاد میں وسعت ہے۔

◄ انسان کو جب سہولت ہو وہ ولیمہ کرسکتا ہے۔
◄ اس کے لیے قبل الدخول یا بعد الدخول کی کوئی خاص شرط مقرر نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔