مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وقف کردہ کتابوں کی خرابی پر انہیں بیچنے کا حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

وقف کردہ کتابوں سے اگر فائدہ اٹھایا جانا ممکن نہ رہے تو انہیں فروخت کر نے کا حکم

اگر وقف کردہ کتاب کے اوراق پھٹ جانے یا بوسیدہ ہو جانے کی وجہ سے اس سے فائدہ اٹھانا اور اسے پڑھنا نا ممکن ہو جائے تو اسے بیچ کر اس کے بدلے نئی کتاب خرید لینے میں کوئی حرج نہیں۔
اگر کتاب باقی ہو اس سے فائدہ اٹھانا بھی ممکن ہو اور کوئی آدمی پہلے آدمی ہی کے لیے اجر کی نیت رکھتے ہوئے اسے بدل کر اس سے بہتر کتاب خرید کر دے دے تو پھر بھی کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس نے وقف کو اس سے بہتر میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن اگر وہ پہلے وقف کو کالعدم قرار دے کر اپنے لیے اجر مخصوص کرنا چاہتا ہے تو یہ ناجائز ہے کیونکہ اس میں دوسرے پر زیادتی ہے۔
[ابن عثيمين: نورعلى الدرب: 22/129]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔