وقف شدہ مسجد کی زمین بیچ کر نئی جگہ مسجد بنانا شرعاً جائز ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، ج1، ص315
مضمون کے اہم نکات

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے کچھ زمین مسجد کے لیے وقف کر دی، لیکن اس جگہ پر نہ آبادی ہے اور نہ قریب میں کسی آبادی کے قائم ہونے کی توقع ہے۔ وہ اس زمین پر مسجد بنانا موجودہ حالات میں مناسب نہیں سمجھتا۔ کیا وہ اس وقف شدہ زمین کو فروخت کر کے کسی ایسی جگہ جہاں آبادی ہو اور مسجد کی ضرورت ہو، وہاں زمین خرید سکتا ہے یا مسجد کی تعمیر پر خرچ کر سکتا ہے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں دلائل کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!
اگر معاملہ بالکل اسی طرح ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو ایسی صورت میں وقف میں مفید تبدیلی شرعاً جائز اور ممکن ہے۔ ورنہ یاد رکھیں کہ وقف میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں، کیونکہ مسجد بھی وقف کی ایک قسم ہے اور وقف ایک عقدِ لازم ہے۔ یہ بدل نہیں سکتا۔

حدیث شریف میں ہے:

’’انہ لا یباع ولا یوھب ولا یورث‘‘
یعنی: وقف نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ وراثت میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

پس جو زمین مسجد کے لیے وقف ہو چکی ہے وہ صرف مسجد کے لیے رہے گی۔

موجودہ مسئلہ کی صورت

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پلاٹ سے فائدہ اٹھانے کی کیا شکل ممکن ہے:

◄ اگر وہاں مسجد بن سکتی ہے اور ضرورت ہے تو لازماً مسجد تعمیر کرنی ہوگی۔
◄ اگر وہاں مسجد بنانے کی کوئی صورت ہی نہیں، یا مسجد کی ضرورت نہیں، یا نماز کے لیے دوسری مسجد موجود ہے، یا کوئی اور شرعی وجہ حائل ہے، تو ایسی صورت میں وقف کو دوسری شکل میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

ممکنہ صورتیں:
✿ زمین کو کرایہ یا ٹھیکے پر دے دینا۔
✿ اس میں کھیتی باڑی کر کے آمدنی کو مسجد یا دینی کاموں پر صرف کرنا۔
✿ زمین فروخت کر کے اس کی قیمت سے کسی ضرورت مند جگہ مسجد تعمیر کرنا۔
✿ یا اس رقم کو درس و تدریس وغیرہ جیسے کسی نیک مصرف پر خرچ کر دینا۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ جو چیز اللہ کی راہ میں وقف ہو چکی ہے، اسے حتی الوسع اسی مقصد میں استعمال کرنا واجب ہے تاکہ ضائع نہ ہو۔ آخر کار وہاں قبرستان بھی بنایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بھی مسلمانوں کی عام ضرورت اور فائدہ کی چیز ہے۔

حدیث سے استدلال

صحیح مسلم اور نیل الاوطار میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

((عن عائشة انھا قالت سمعت رسول اللہﷺ یقول لولا ان قومك حدیث عھد بجاھلیة او قاص بکفر لانفقت کنز الکعبة فی سبیل اللہ ولجعلت بابھا بالارض ولا دخلت فیھا من الحجر))
(صحیح مسلم، باب لقض الکعبة، ج۱، ص۴۲۹؛ نیل الاوطار، ج۶، ص۳۱)

ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
"اگر تمہاری قوم ابھی حال ہی میں جاہلیت یا کفر سے الگ نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا، اس کا دروازہ زمین کے برابر بنا دیتا اور حطیم کو کعبہ میں شامل کر دیتا۔”

یہاں بیت اللہ کے خزانے سے مراد وہ مال ہے جو لوگ اللہ کے گھر کی نذر کے طور پر دیا کرتے تھے، جیسے آج کل لوگ مسجد میں عطیہ دیتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ یہ مال بیت اللہ کی ضرورت سے زائد ہے تو آپ ﷺ نے چاہا کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ لیکن چونکہ اہل مکہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، اس لیے اندیشہ تھا کہ وہ بدگمان نہ ہو جائیں۔ اس لیے آپ ﷺ نے فوری طور پر تبدیلی نہ فرمائی۔

اس سے یہ ثابت ہوا کہ جب کوئی وقف ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی تدبیر کی جا سکتی ہے جس سے وہ محفوظ رہے اور فائدہ مند طور پر استعمال ہو۔

فقہاء کے اقوال

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

والمسجد إذا تخرب ما حوله، فينقل إلى مكان آخر، أو يباع ويشترى بثمنه ما يقوم مقامه
(فقه السنة، ج۳، ص۳۸۶)

ترجمہ:
"جب مسجد کے اردگرد ویرانی ہو جائے تو اسے دوسری جگہ منتقل کیا جائے یا بیچ کر اس کی قیمت سے کوئی اور ایسی چیز خریدی جائے جو اس کے قائم مقام ہو۔”

مزید لکھتے ہیں:

واحتج أحمد بأن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه، نقل مسجد الكوفة القديم إلى مكان آخر، وصار الاول سوقا للتمارين، فهذا إبدال لعرصة المسجد وأما إبدال بنائه ببناء آخر، فإن عمر وعثمان رضی اللہ عنهما بنیا مسجد النبی ﷺ علی بناء الاول۔

ترجمہ:
"امام احمد نے استدلال کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قدیم مسجد کوفہ کو دوسری جگہ منتقل کر دیا اور پہلی جگہ کھجور منڈی قائم ہو گئی۔ یہ مسجد کی زمین بدلنے کی مثال ہے۔ جبکہ مسجد کی عمارت بدلنے کی مثال یہ ہے کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے مسجد نبوی کو پرانی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا۔”

فقہ حنفی

رد المختار میں ہے:

ولو خرب المسجد وما حوله وتفرق الناس لا یعود الی الملك والواقف عند ابی حنفیه وابی یوسف فیباع باذن القاض ویصرف ثمنه الی بعض المسجد۔
(رد المختار، ج۳، ص۳۸۳)

ترجمہ:
"اگر مسجد اور اس کے اطراف ویران ہو جائیں اور لوگ منتشر ہو جائیں تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک یہ وقف دوبارہ واقف کی ملکیت نہیں بنے گا، بلکہ قاضی کی اجازت سے اسے بیچ کر اس کی قیمت دوسری مساجد پر خرچ کی جائے گی۔”

خلاصہ بحث

مندرجہ بالا حدیث اور فقہی اقوال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ:

◈ اگر وقف شدہ پلاٹ ایسی جگہ ہے جہاں مسجد کی کوئی ضرورت یا امکان نہیں، تو اس پلاٹ کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔
◈ اس کی قیمت سے کسی ایسی جگہ پر مسجد تعمیر کی جائے جہاں ضرورت ہو۔
◈ یا پھر اس کی قیمت کسی دوسری ضرورت مند مسجد یا دینی مصرف پر خرچ کر دی جائے۔

یاد رہے کہ وقف خواہ ذہنی ہو یا قانونی، دونوں ہی صورتوں میں شرعاً معتبر وقف ہے کیونکہ اصل بنیاد نیت اور مقصدِ رضائے الٰہی ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب