مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وقف شدہ مال کو دوسری جگہ استعمال کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

وقف شدہ مال کسی معین مسجد و مدرسہ کا دوسری جگہ کسی دینی امر میں لگ سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ اس مسجد و مدرسہ سے بچ رہے اور اس میں ضرورت نہ ہو۔

الجواب

ابو دؤد میں حدیث ہے کہ ایک شخص نے اپنا اونٹ فی سبیل اللہ کر دیا، جس سے مقصود اس کا جہاد تھا، اس کے بعد اس کو حج کی ضرورت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی اور فرمایا یہ بھی فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک مسجد یا مدرسہ کی شے، جب کہ فالتو ہو، دوسری مسجد یا مدرسہ میں خرچ کرنا کوئی حرج نہیں، کیوں کہ ’’یہ سب فی سبیل اللہ ہے۔‘‘ (تنظیم اہل حدیث لاہور جلد نمبر ۲۱ ش نمبر ۱۸)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔