مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وضو کے بغیر نماز میں شامل ہونے کا نقصان

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ جلد1۔كتاب العقائد۔صفحہ219

سوال:

حضرت ابو روح الکلاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورۃ الروم کی تلاوت کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں اشتباہ ہوگیا۔ نماز کے بعد فرمایا:

"شیطان نے ہماری قراءت میں شبہ ڈال دیا، اور اس کا سبب وہ لوگ ہیں جو وضو کیے بغیر نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔ لہذا جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔”

کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

(محمد حسن سلفی، کراچی)

الجواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ روایت مسند احمد (3/471، 472، حدیث: 15969) میں موجود ہے۔
اسی حدیث کی دوسری سند سنن نسائی (2/156، حدیث: 948) میں بھی ملتی ہے۔

📖 محدثین کی تحقیق:

یہ روایت صحیح ہے، اور اس کی دوسری سند کے ساتھ اسے تقویت ملتی ہے۔
اس کی تخریج اور تحقیق "عمدۃ المساعی فی تخریج سنن النسائی” (ق 1/94) میں موجود ہے۔

نتیجہ:

✔ ہر نمازی کو چاہیے کہ نماز میں شامل ہونے سے پہلے مکمل احتیاط اور توجہ کے ساتھ وضو کرے، تاکہ نماز کی روحانی برکتوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔