مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
وضو کا مفصل طریقہ
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
آپ گزشتہ صفحات میں وضو کی شرائط، فرائض اور سنن کا بیان پڑھ چکے ہیں۔ اب انہی نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں وضو کا مکمل طریقہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے تاکہ آپ کا عمل اس کے مطابق ہو۔
وضو کی نیت اور ابتدا
وضو کرنے والا سب سے پہلے دل میں نیت کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نماز وغیرہ کے لیے وضو کر رہا ہے، پھر بسم اللہ پڑھے۔
◈ پھر دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔
◈ اس کے بعدتین مرتبہ کلی کرے۔
◈ پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے ناک جھاڑے۔
چہرہ دھونے کا طریقہ اور حد
◈ چہرہ تین مرتبہ دھوئے۔
◈ لمبائی کی حد: پیشانی کے بال اُگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی تک۔
◈ چوڑائی کی حد: ایک کان سے دوسرے کان تک۔
داڑھی کے بال چہرے کا حصہ ہیں، ان کا دھونا فرض ہے۔
❀ داڑھی چھوٹی ہو تو اوپر اور اندر سے دھونا ضروری ہے۔
❀ اگر داڑھی لمبی اور گھنی ہو اور نیچے کی جلد نظر نہ آتی ہو تو صرف اوپر سے دھونا کافی ہے اور اندر خلال کر لیا جائے۔
کان سر کا حصہ ہیں، لہٰذا ان پر بھی سر کے ساتھ مسح کیا جائے۔
بازو دھونے کا طریقہ
◈ دونوں ہاتھوں کو ناخنوں سے لے کر کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھوئے۔
◈ اگر ہاتھوں پر آٹا، مٹی، نیل پالش یا کوئی ایسی چیز لگی ہو جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے تو اسے ضرور صاف کرے۔
سر اور کانوں کے مسح کا طریقہ
◈ نیا پانی لے کر پورے سر اور دونوں کانوں کا ایک مرتبہ مسح کرے۔
طریقہ:
✔ دونوں ہاتھ تر کر کے سر کے اگلے حصے پر رکھے۔
✔ گدی تک لے جائے۔
✔ پھر واپس اسی جگہ لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔
✔ شہادت کی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں ڈالے۔
✔ انگوٹھوں سے کانوں کے پچھلے حصے پر مسح کرے۔
پاؤں دھونے کا طریقہ
◈ پہلے دایاں پھربا یاں پاؤں
◈ ٹخنوں سمیت تین مرتبہدھوئے۔
کٹے ہوئے عضو کا حکم
◈ اگر کسی کا ہاتھ یا پاؤں کٹا ہوا ہو تو جو حصہ باقی ہے وہ دھوئے۔
◈ اگر کہنی تک ہاتھ کٹا ہو تو بازو کا اگلا حصہ دھوئے۔
◈ اگر ٹخنے تک پاؤں کٹا ہو تو پنڈلی کا ابتدائی حصہ دھوئے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ [سورة التغابن 64:16]
ترجمہ: پس اللہ سے ڈرو جتنی تم میں طاقت ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ” [صحیح البخاری 7288، صحیح مسلم 1337، مسند احمد 2/258]
ترجمہ: جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر اپنی طاقت کے مطابق عمل کرو۔
لہٰذا ایسا معذور شخص جب فرض عضو کے باقی حصے کو دھو لیتا ہے تو وہ حسبِ استطاعت حکم پر عمل کر لیتا ہے۔ [سنن ابی داؤد 170]
وضو کے بعد کے اذکار اور دعائیں
وضو مکمل کرنے کے بعد آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے۔ [صحیح مسلم 234، جامع الترمذی 55]
پھر یہ اذکار پڑھے:
"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ” [جامع الترمذی 55]
ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
"اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ”
ترجمہ: اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل فرما اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے بنا دے۔
"سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ” [سنن النسائی الکبری 6/25، المستدرک للحاکم 1/564، السلسلۃ الصحیحۃ 2651]
ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔
وضو سے ظاہری طہارت اور توحید و توبہ سے باطنی طہارت حاصل ہوتی ہے، یوں بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لائق ہو جاتا ہے۔
وضو کے بعد اعضاء پونچھنا
وضو کے بعد اگر کوئی شخص صاف کپڑے یا تولیے سے اپنے اعضاء پونچھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
تنبیہ: وضو مکمل کرنا فرض ہے
کامل وضو کرنا فرض ہے، اس طرح کہ کوئی عضو خشک نہ رہ جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ” [صحیح مسلم 243، سنن ابی داؤد 173]
ترجمہ: واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔
ایک اور روایت میں ہے: "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي…” [سنن ابی داؤد 175]
ترجمہ: نبی ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جس کے پاؤں کا ایک حصہ خشک تھا، تو آپ ﷺ نے اسے وضو اور نماز دونوں دہرانے کا حکم دیا۔
اور فرمایا: "وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ” [صحیح البخاری 165، صحیح مسلم 242]
ترجمہ: خشک رہ جانے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
پانی کے استعمال میں اعتدال
کامل وضو کا مطلب پانی کا زیادہ استعمال نہیں بلکہ مناسب مقدار میں پورے عضو تک پہنچانا ہے۔
"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ…” [صحیح البخاری 201، صحیح مسلم 325]
ترجمہ: نبی ﷺ ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع (یا پانچ مد تک) پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔
اسراف سے منع فرمایا گیا: "مَا هَذَا السَّرَفُ…” [سنن ابن ماجہ 425، مسند احمد 2/221]
ترجمہ: یہ کیسا اسراف ہے؟ اگرچہ تم بہتے دریا پر ہی کیوں نہ ہو۔
وسوسوں سے بچنے کی تلقین
"إِنَّ لِلْوُضُوُءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ…” [جامع الترمذی 57، سنن ابن ماجہ 421]
ترجمہ: وضو کے لیے ایک شیطان ہے جسے ولہان کہا جاتا ہے، لہٰذا پانی کے بارے میں وسوسوں سے بچو۔
نصیحت
اے مسلمان بھائی!
وضو اور عبادات مسنون طریقے کے مطابق، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے ادا کرو۔
میانہ روی ہی بہترین راستہ ہے اور سنتِ رسول ﷺ کی پیروی ہی میں کامل خیر ہے۔
دعا
اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس پر عمل کی توفیق دے، اور باطل کو باطل دکھا کر اس سے بچنے کی ہمت عطا فرما۔ آمین۔