مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وضو میں دائیں اعضاء کو پہلے دھونے کا حکم

فونٹ سائز:

سوال

کیا وضو میں دائیں اعضاء کو پہلے دھونا واجب ہے؟ اگر کوئی قصداً بائیں کو پہلے دھوتا ہے تو کیا وضو درست ہوگا؟

جواب از فضیلۃ الباحث سیف اللہ شریف حفظہ اللہ ، فضیلۃ العالم حافظ قمر حسن حفظہ اللہ

بعض علماء کے مطابق حدیث "اذا توضاتم فابداوا” میں امر (حکم) استحباب کے لیے ہے، یعنی دائیں کو پہلے دھونا مستحب ہے، واجب نہیں۔

دائیں کو پہلے دھونا مستحب ہے، اور قصداً بائیں کو پہلے دھونا مکروہ ہے، لیکن اس سے وضو باطل نہیں ہوتا بلکہ وضو صحیح ہوگا۔

خلاصہ

وضو میں دائیں اعضاء کو پہلے دھونا مستحب ہے۔
اگر کوئی قصداً بائیں کو پہلے دھو لے تو یہ مکروہ عمل ہوگا لیکن وضو صحیح ہوگا۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔