مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وصیت اور جائیداد کی تقسیم کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 635

سوال

علمائے کرام سے دریافت ہے کہ ایک شخص بنام محمد علی سنجرانی نے اپنی زندگی میں ایک وصیت نامہ لکھا۔ اس وصیت نامے میں اس نے یہ ظاہر کیا کہ اس کی اولاد صرف دو بیٹیاں حکیماں اور ملکاں ہیں اور ان کے علاوہ اس کی کوئی اور اولاد نہیں ہے۔ اس نے لکھا کہ میری وفات کے بعد میری تمام جائیداد صرف انہی دو بیٹیوں کو دی جائے۔

جب محمد علی کا انتقال ہوا تو اس کے ورثاء درج ذیل تھے:

◄ دو بیٹیاں (حکیماں اور ملکاں)
◄ ایک بیوی (مسمات سیانی)
◄ ایک بھتیجا (ولی محمد)

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرحوم کی یہ تحریر شرعی اعتبار سے وصیت ہے یا ہبہ؟ نیز مرحوم کی جائیداد شرعاً ورثاء میں کس طرح تقسیم کی جائے گی؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مندرجہ صورت میں مرحوم محمد علی کی اپنی بیٹیوں کے حق میں کی گئی وصیت بالکل باطل اور ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ بیٹیاں شرعاً وارث ہیں اور اصول یہ ہے کہ وارث کے لیے وصیت نہیں ہوسکتی جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:

((لا وصية لوارث.)) (الحديث)

لہٰذا یہ وصیت شرعی حیثیت میں کوئی اعتبار نہیں رکھتی۔

اب تقسیمِ ترکہ کا صحیح طریقہ یہ ہوگا:

➊ سب سے پہلے مرحوم کی جائیداد میں سے کفن دفن کا خرچہ نکالا جائے۔
➋ پھر اگر کوئی قرض باقی ہو تو وہ ادا کیا جائے۔
➌ اس کے بعد جو مال بچے، اسے ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔

تقسیمِ وراثت

مرحوم کے ورثاء میں جائیداد کی تقسیم یوں ہوگی:

◄ بیوی (مسمات سیانی) کو 2 آنے
◄ دونوں بیٹیوں کو مجموعی طور پر 10 آنے 8 پیسے
◄ باقی بچے 3 آنے 4 پیسے جو بھتیجے کو ملیں گے

یہ تقسیم قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں بالکل واضح ہے۔

موجودہ اعشاری نظام میں تقسیم

اگر مرحوم کا ترکہ 100 روپے شمار کیا جائے تو حصے یوں ہوں گے:

◄ بیوی کا حصہ: 1/8 = 12.5 روپے
◄ دونوں بیٹیاں: 2/3 = 66.66 روپے (فی کس 33.33 روپے)
◄ بھتیجا: 20.84 روپے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔