مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ورثاء میں ترکہ کی شرعی تقسیم کا تفصیلی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 623

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمد اسمعیل فوت ہوگیا جس نے وارث چھوڑے:

◄ ایک سوتیلا بھائی
◄ ایک سگا بھائی محمد قاسم
◄ تین ماں کی طرف سے بھائی: اسحق، جمعو، حسین
◄ ایک اخیافی بہن: آمنت
◄ ایک بیوی: مائی آست

مرحوم محمد اسمعیل نے ترکہ میں دکان، مکانات، چوپائے، زیور اور نقدی رقم چھوڑی۔
شریعتِ محمدی کے مطابق بتائیں کہ ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ مرحوم کے مال میں تقسیم سے پہلے درج ذیل امور کی ادائیگی کی جائے گی:

سب سے پہلے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں۔
اس کے بعد اگر مرحوم پر کوئی قرض ہے تو اسے ادا کیا جائے۔
تیسرے نمبر پر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو اسے کل مال کے ایک تہائی حصے تک پورا کیا جائے۔

ان سب امور کی تکمیل کے بعد محمد اسمعیل کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو ایک روپیہ فرض کر کے نیچے دیے گئے نقشے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

مرحوم محمد اسمعیل کی ملکیت = 1 روپیہ

سوتیلا بھائی: محروم
سگا بھائی محمد قاسم: 8 پائی 6 آنے
تین اخیافی بھائی (اسحق، جمعو، حسین) اور ایک اخیافی بہن (آمنت): 4 پائی 5 آنے — چاروں میں برابر تقسیم ہوگا
بیوی (مائی آست): 4 آنے

جدید اعشاریہ فیصد طریقہ تقسیم (کل ملکیت = 100)

سوتیلا بھائی: محروم
سگا بھائی (محمد قاسم) — عصبہ: 41.67%
تین اخیافی بھائی اور ایک اخیافی بہن (کل چار): 33.33% — سب میں برابر تقسیم ہوگا
بیوی (مائی آست): 25%

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔